آزادی مارچ: ہر کوئی مشکل میں ہے
16 اکتوبر 2019 2019-10-16

حضرت دائود علیہ السلام کو اپنے وقت ے دیگر بادشاہوں کی نسبت اس لیے فوقیت حاصل تھی کہ ان کے ہاتھ میں لوہا نرم ہو جاتا تھا۔ پرندے ان کا حکم مانتے تھے اور سمندروں پر بھی ان کی حکومت تھی ان کے دربار میں دو بھائی پیش ہوئے ایک نے شکایت کی کہ میرا بھائی میرے اوپر ظلم کرتا ہے اس کے پاس 99 دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دُنبی ہے وہ مجھے کہتا ہے کہ اپنی ایک دنبی مجھے دے دو تاکہ میری 100 پوری ہو جائیں اور اس کے لیے میرے اوپر سختی کرتا ہے ۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ جس کے پاس جان ( مین پاور ) یا مال کی اکثریت ہوتی ہے وہ معاملات کرتے وقت اپنی رائے منواتا ہے ۔

لیکن اس کے بر عکس جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں جو اقتدار کی سیاست کے جادو گر ہیں وہ ہمیشہ اپنی سیاسی و عددی طاقت سے کہیں زیادہ حصہ وصول کرنے کے عادی ہیں اور سیاسی سودے بازی میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ 2013 ء الیکشن میں ان کی پارٹی کی قومی اسمبلی کی 8 سیٹیں تھیں۔ 2018 ء کے الیکشن کو نہیں مانتے اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ حکومت ووٹ چوری کر کے بر سر اقتدار آئی ہے ۔ البتہ مولانا خود اپنی سیٹ ہار گئے جو ان کی سیاست کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگار سمجھتے تھے کہ اپنی سیٹ ہارنے یعنی پارلیمنٹ سے باہر ہونے کے بعد وہ سیاست میں Marginalize ہو جائیں گے۔ یا دوسرے لفظوں میں کھڈے لائن لگ جائیں گے مگر مولانا نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بے تیغ بھی لڑتا سپاہی کر طرح کارنر نہیں ہوں گے۔ انہوں نے جو کہا وہ کر دکھایا ۔ ایک 16سیٹوں والی پارٹی اس وقت 84 سیٹوں والی ن لیگ اور 55سیٹوں والی پیپلز پارٹی کو اپنے پیچھے لگانے میں کامیاب ہو چکی ہے اب تو اے این پی نے بھی آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے ۔ یہ مولانا کی جادوگری ہے کہ ن لیگ ان کے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کا چھلہ بن گئی اور پیپلز پارٹی بائیں ہاتھ کی انگلی کا۔ آزادی مارچ کے نتائج سے قطع نظر مولانا نے اپنی سیاسی کارنگ جما دیا ہے آگے اللہ مالک ہے ۔

آزادی مارچ نے حکومت اور بڑی اپوزیشن دونوں کو ٹینشن میں مبتلا کر دیا ہے کہ کیا کیا جائے۔ حکومت دھرنا روکنے کی پیش بندی کر رہی ہے جس میں دفعہ 144 کا نفاذ ، مولانا کی حفاظتی نظر بندی، آزادی مارچ کے شرکاء کو اپنے اپنے صوبوں میں ہی روکنے کی پلاننگ مقدمات وغیرہ شامل ہیں لیکن حکومت کے لیے سب سے زیادہ شرمناک ہتھکنڈا جس کا استعمال ہونے جا رہا ہے وہ یہ ہے ہ آزادی مارچ کی میڈیا کوریج کو بلیک آئوٹ کیا جائے گا سرکاری اور پرائیویٹ میڈیا چینلز کو اجازت نہیں ہو گی وہ اس کو براڈ کاسٹ کریں جو ایسا کرے گا وہ چینل بند ہو جائے گا یہ ایک غیر اعلانیہ حربہ ہے جو پی ٹی آئی حکومت کی ایجاد ہے جس کا استعمال اس سے قبل مریم نواز کی ریلیوں پر ہو چکا ہے ۔ اس قانون کو دیکھ کر ہمیں مشرف کی ایمرجنسی کی ٹی وی کوریج یاد آ رہی ہے جو کام وہ نہ کر سکا وہ پی ٹی آئی نے کر دکھایا۔

دوسری طرف مولانا صاحب نے ن لیگ کو مشکلوں میں ڈال دیا نواز شریف مولانا کی بھر پور حمایت کی بات کرتے ہیں جبکہ شہباز شریف کا موقف غیر واضح ہے ۔ پارٹی نے انہیں سائیڈ لائن کرنے کے لیے ان کی کمر درد کو بنیاد بنا لیا ہے کہ وہ صحت کی خرابی کی وجہ سے قیادت کرنے سے قاصر ہیں۔ ن لیگ کے اندر عقابی سیاست ( Hawks ) کا زور ہے ۔ جنہیں نواز شریف کے پیروکار کہا جاتا ہے ۔ جبکہ فاختائی سیاست (Doves ) کے ماننے والوں کو شہباز شریف کیمپ کی حمایت حاصل ہے ۔ اس وقت ن لیگ دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ اور آزادی مارچ نے اس بٹوارے کی رفتار اور تیز کر دی ہے ۔ دیکھنے والی آنکھیں آزادی مارچ کے انجام کے ضمنی فال آئوٹ میں ن لیگ کے ٹکڑے تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں جو کہ کوئی یہاں گِرا کوئی وہاں گرا۔

یہی حال پیپلز پارٹی کا ہے وہ سندھ میں مولانا کی میزبانی کرتے دکھائی دیتی ہے ۔ ان کی سہولت کاری بھی کر رہے ہیں۔ جلوس کے ساتھ بھی چلنے کا وعدہ ہے اور مولانا کے گلے میں پھولوں کے ہار بھی ڈالیں گے مگر اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ اور اگر آزادی مارچ دھرنے میں تبدیل ہوا تو دھرنے میں نہیں بیٹھیں گے۔ پیپلز پارٹی کو پتہ ہو گا کہ ہماری پولیس کے پاس اشتہاریوں کو پناہ دینے پر ایک قانونی دفعہ موجود ہے جس پر چاہے لگائی جا سکتی ہے ۔

آزادی مارچ کا سب سے خطرناک پہلو جے یو آئی ف کی وہ ڈنڈا بردار اور ٹوپی پوش عسکریت یونیفارم میں ملبوس سالار فورس ہے جس نے باقاعدہ ایک تقریب میں مولانا فضل الرحمن کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا اور ان کی حفاظت کی خاطر اپنی جانیں نثار کرنے کا عہد بھی دہرایا۔ یہ ایک تشویشناک منظر ہے جو سکیورٹی ادارون کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ آئین میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنا عسکری ونگ قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ مولانا نے حکومت کو پیغام دے دیا ہے کہ انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو خون ریزی ہو گی لیکن اس گارڈ آف آنر پر جے یو آئی ایف کو عدالت سے کالعدم قرار دلوایا جا سکتا ہے ۔

پاکستان میں دھرنے لانگ مارچ اور سیاسی ریلیاں 100 فیصد سپانسرڈ ہوتی ہیں۔ یہاں سیاسی کارکن کی حیثیت پری پیڈ موبائل سم کی ہے سم جاز کی ہو یا ٹیلی نار کی جب تک اس میں ایزی لوڈ نہیں ہو گا کام نہیں کرے گی۔ خواہ اس کو دو لاکھ روپے کے آئی فون میں ڈال دیں اسی طرح ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی ہو یا جے یو آئی ہو کارکن تو کارکن ہوتا ہے اس میں پیٹرول ڈالا جائے گا تو سٹارٹ ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن جتنا بڑا پروگرام لے کر نکل رہے ہیں اس کا خرچہ کون دے گا بڑی سیاسی پارٹیاں ن لیگ پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف ان سب کے پاس ہر شہر سے مقامی سپانسر ہوتے ہیں جو اگلے الیکشن ٹکٹ کے امیداور ہوتے ہیں اس طرح کی قربانی وہ دیتے ہیں ۔ جے یو آئی ایف کو جب تک سپانسر شپ نہیں ملے گی یہ پروگرام کامیاب نہیں ہو گا۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ان امور پر مباحثہ جاری ہے کہ مولانا کے پروگرام میں انویسٹمنٹ کر دی جائے مگر مین پاور وہ خود جمع کریں اگر واقعتا ایسا کیا گیا تو یہ سرمایہ کاری ڈوب جائے گی ۔ مولانا نے ان دونوں پارٹیوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ مولانا کی ناکامی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ناکامی سمجھی جائے گی کیونکہ یہ وہ پارٹیاں ہیں جنہوں نے مولانا کی پیٹھ تھپکی ہے ۔ کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے ۔


ای پیپر