نوکری کہاں سے ڈھونڈیں
16 اکتوبر 2019 2019-10-16

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری فرماتے ہیں کہ بے روزگار نوکریوں کے لیے حکومت کی طرف مت دیکھیں۔ حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی۔ ان کا فرمانا ہے کہ نوکریاں تو نجی شعبہ دیتا ہے۔ حکومت کا کام نجی شعبے کو سہولیات دینا ہے تاکہ کاروبار اور صنعت ترقی کرے اور لوگوں کو ملازمتیں ملیں۔وزیر صاحب درست فرماتے ہیں۔ نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کی معیشت میں ریاست نہ تو نوکریاں دیتی ہے اور نہ ہی سروسز فراہم کرتی ہے۔ نیو لبرل ازم کے معاشی نظریات کی روشنی میں تعلیم، صحت پینے کا صاف پانی، پبلک ٹرانسپورٹ، رہائش وغیرہ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔

پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ 16 سال کی عمر تک کے تمام بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح آئین کہتا ہے کہ صحت، روزگار، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ پاکستان کا آئین کیا کہتا ہے۔ کیونکہ ہمارے حکمرانوں کی آئین میں دلچسپی اس حد تک ہے کہ انہیں آئین کے تحت کیا اختیارات حاصل ہیں۔ آئین کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے دوستوں، رفقاء، سرمایہ کاروںاور طاقتوروں گروہوں کو کیا مراعات اور فوائد دے سکتے ہیں۔

فواد چوہدری صاحب دائیں بازو کے روایتی حکمران تصورات اور خیالات کے مالک ہیں جن کے نزدیک پبلک سیکٹر کا وجود ہونا ہی نہیں چاہیے۔ ریاست کا وجود بہت چھوٹا ہونا چاہیے۔ بنیادی سروسز، خدمات، سہولیات اور ضروریات فراہم کرنا ریاست کا کام نہیں ہے۔ یہ سب کام نجی شعبے کو کرنے چاہئیں۔ ریاست صرف پولیس ، فوج، چھوٹی افسر شاہی اور چند اداروں پر مشتمل ہو۔ باقی سب کام نجی شعبے کے حوالے ہونے چاہئیں۔ تعلیم، صحت، رہائش، ٹرانسپورٹ، بجلی، پانی وغیرہ منڈی میں بکنا چاہیے۔ جو خریدنے کی صلاحیت رکھتا ہو خرید لے اور جو خرید نے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ صبر شکر کرے۔ ان تصورات اور خیالات کے مطابق ریاست کو معیشت میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ معیشت کو چلانے میں ریاست کا کوئی کردار نہیںہونا چاہیے۔ لوگوں کو ملٹی نیشنل کمپنیوں، بڑے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ انہیں آزاد منڈی کی بے رحم قوتوں کے حوالے کر دیا جائے۔سرمایہ اور منافع ہر چیز پر مقدم ہونا چاہیے۔ ریاست کو سرمائے اور منافعوں کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کرنی چاہیے بلکہ لیبر قوانین، فردو ریونیوں اور اجتماعی سودا کاری جیسے حقوق کو ختم کرناچاہیے تاکہ ہر رکاوٹ دور ہو سکے اور ملکی معیشت ترقی کر سکے۔

فواد چوہدری صاحب کے بیان کو اسی تناظر اور پیرائے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مدینہ کی ریاست بنانے کے دعویدار در اصل جدید نیو لبرل سرمایہ دار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں تمام حقوق محض سرمایہ داروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بڑے کاروباری اداروں کو حاصل ہوتے ہیں۔ اور جن کے پاس نہ تو سرمایہ ہو اور نہ ہی مہنگے ملکی و غیر ملکی اداروں کی ڈگریاں ہوں تو انہوں نے حقوق اور بنیادی ضروریات کا اچار ڈالنا ہے۔

وزیر صاحب فرماتے ہیں کہ نوکریاں نجی شعبے فراہم کرے گا۔ آپ کا ارشاد سر آنکھوں پر ۔ مگر یہ تو بتائیے کہ ملک کی معیشت کے وہ کونسے شعبے ہیں جو نوکریاں فراہم کر رہے ہیں۔ بے روز گار نوجوان اور افراد کن شعبوں سے رابطہ کریں۔ آٹو موبائل کی صنعت بحران سے دو چار ہے اور پہلے سے کام کرنے والے ملازمین کو نوکریوں سے نکال رہی ہے۔ تعمیراتی شعبہ بھی بحران سے دو چار ہے اور اب تک لاکھوں افراد بے روز گار ہو چکے ہین۔ یہ دونوں شعبے تو کسی کو روز گار نہیں دے سکتے۔

ٹیکسٹائل کی صنعت میں بھی نوکری کا حصول جوئے شیر بجا لانے کے مترادف ہے۔ ملک میں معاشی ترقی کی گرتی ہوئی شرح جو کہ اب 2.5 فیصد تک گر چکی ہے وہ اتنی ملازمتیں کہاں سے پیدا کرے گی جو لیبر مارکیٹ میں نئے آنے والوں اور پہلے سے موجود اافراد کو نوکری فراہم کر سکیں۔ گزشتہ چند سالوں سے ریٹیل اور ہول سیل کے شعبے میں تیز ترین ترقی دیکھنے کو ملی اور اس شعبے نے لاکھوں ملازمتیں فراہم کیں مگر اس وقت یہ شعبہ بھی بحران سے دو چار ہے۔ کاروباری حجم میں 30 سے 40 فیصد کمی آئی ہے۔

وزیر صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اس سال ملک میں کتنے نئے کارخانے لگیں گے۔ ملک میں کتنے ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنا کر نوجوانوں میں تقسیم کیا جائے گا تا کہ وہ روزگار کما سکیں۔ فواد چوہدری نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ملک میں اس وقت کونسے شعبے ایسے ہیں جن میںنوکریاں دستیاب ہیں تا کہ نوکریوں کی تلاش میں سڑکوں پر جوتے چٹخانے والوں کو وہاں نوکریاں مل جائیں۔

فواد چوہدری صاحب ، آپ کی حکومت نے ملکی معیشت کو جس حال کو پہنچا دیا ہے۔ اس صورت حال میں نوکری کہاں سے ملے گی۔ پڑھے لکھے اور نیم پڑھے لکھے لاکھوں افراد کو ہر سال ریاست نوکریاں فراہم کرتی تھی کیونکہ اس وقت کے حکمرانوں کو یہ ادراک تھا کہ نجی شعبہ اتنے لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتا۔ اس لیے پبلک سیکٹر کے اداروں میں ملازمتیں فراہم کی جاتی تھیں تا کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح قابو میں رہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حکومت پبلک سیکٹر کے پیشتر اداروں کو ختم کرنے کے در پے ہے۔ اس لیے ملازمتوں کا تو سوال یہی پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ حکومتی وزراء، مشیروں اور رہنماؤں کے عزیز و رشتے دار اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔ وزیر صاحب اگر یہ بھی بتا دیتے کہ نوکری کہاں پر تلاش کریں تو اس سے بیروزگاروںکو آسانی ہو گی۔ حکومت نوکری ڈھونڈنے میں رہنمائی تو کر ہی سکتی ہے۔


ای پیپر