مہنگائی سنگین مسئلہ ہے
16 اکتوبر 2019 2019-10-16

ملک بھر میں مہنگائی کا جن بے قابو ہونے کے باعث جہاں حکومت مخالف رائے مزید ہموار ہو رہی ہے وہاں ہی مصنوعی مہنگائی اور گراں فروشی کے باعث متوسط اور نچلے طبقے کے لئے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ترین ہو تا جا رہا ہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میںتیزی سے اضافہ حکومت کے لئے امتحان بن گیا ہے ۔ایک طرف ڈالر کی اونچی اڑان اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے تودوسری طرف زندگی بچانے والی ادویات سمیت بنیادی اشیا ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں ۔ ایسے میں عوام کے درمیان حکومت مخالف رائے ہموار ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی میںحزب اختلاف کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق بھارت میں افراطِ زر3.2، بنگلہ دیش میں 5.2 اور پاکستان میں 11.6 فیصد ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی،ایک بڑا موٹر وہیکل پلانٹ بند ہو گیا، ایکسچینج ریٹ بڑا مسئلہ ہے ،جب بھی ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوا تو معاشی طور پر بھی اس کے اثرات پڑے،آئی ایم ایف پروگرام پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔قومی اسمبلی کی اسی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن رکن کی جانب سے یہ بھی کہا گیا صحت اور تعلیم کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ بلڈ کینسر کے مریض فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں، ہیپاٹائٹس کے مریض کو اگر دوا نہیں ملے گی تو کفایت شعاری کا کیا فائدہ ہو گا۔کُتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں ہے ، ہیلتھ کارڈ میں ایسے ایسے ہسپتال شامل کئے گئے ہیں جن کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں۔ سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنربھی خود کہہ چکے ہیں کہ مہنگائی مزید دو سال تک رہ سکتی ہے ، شرح سود میں اضافے کے باعث مہنگائی بڑھی، شرح سود7.50 فیصد سے بڑھ کر13.25فیصد پر پہنچ گئی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی مہنگائی کے حوالے سے جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں پاکستان میں افراط زر کی شرح 11.4فیصد بتائی گئی ہے ۔اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ مہنگائی کے باعث عوام میںغم و غصہ بڑھ رہا ہے ۔عمران خان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے ٹاسک فورسز کو ازسر نو بحال کیا جا رہا ہے جبکہ زندگی بچانے والی89 مختلف ادویات کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے سمری بھجوا دی گئی ہے ۔بریفنگ کے بعد وزیر اعظم نے گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کرتے ہوئے چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے نتائج مانگ لئے ہیں ۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے پنجاب ، سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وزراء اعلیٰ کو جمعہ کے روزاسلام آباد طلب کیا ہے ۔عمران خان جمعہ کے روز مہنگائی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اپنے اپنے صوبے میں مصنوعی مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں گے ۔تمام صوبوں میں مہنگائی پر قابو پانے کے لئے بنائی گئی ٹاسک فورسز کو سرگرم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے ۔پنجاب میں ٹاسک فورس کے چئیر مین اکرم چوہدی کو عہدے سے ہٹا کر صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کو مہنگائی قابو کرنے کی ذمہ داری دے دی گئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی روزانہ کی بنیاد پر گراں فروش عناصر کو معاشرے کا مجرم قرار دے رہے ہیں ۔عمران خان بیرونی معاملات میں اس قدر مصروف ہیں کہ اندرونی معاملات پر توجہ نہیں دے پا رہے ۔ مہنگائی بظاہر معمولی مگر اصل میں انتہائی سنگین معاملہ ہے ۔ایک طرف اصل مہنگائی کا مسئلہ درپیش ہے تو دوسری طر ف مصنوعی مہنگائی کرنے والے عناصرمہنگائی کی بازگشت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔مثال کے طور پر اگر کسی چیز کی قیمت میں اضافہ 1روپیہ ہوا ہے تو منافع خور اور گراں فروش عناصر اسے 10روپے مہنگا کر کے فروخت کر رہے ہیں ۔وزیر اعلیٰ نے درست کہا ہے کہ مہنگائی کے مستقل سدباب کے لئے فول پروف میکانزم بنانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو گراں فروشوں کے سپرد نہیں کیا جا سکتا ۔ مہنگائی عام آدمی کا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کا کردار انتہائی اہم ہے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے صارفین کے لئے ٹال فری نمبر 080002345 متعارف کرایا گیا ہے جس پر مہنگی اشیاء بیچنے والے دکانداروں اور تاجروں کے خلاف شکایت درج کرائی جا سکتی ہے ۔ پنجاب حکومت نے اس حوالے سے ایک وٹس ایپ نمبر بھی جاری کیا ہے0307-0002345۔اس نمبر پر شکایت کی صورت میں دو گھنٹے کے اندر کاروائی کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ان فون نمبرز کے ذریعے حکومت کی جانب سے آٹا ، چینی اور گھی سمیت 18اشیائے ضروریہ کی خصوصی مانیٹرنگ کی جائے گی ۔حکومت کی جانب سے ان تمام تر اقدامات کے باوجود مہنگائی قابو ہو رہی ہے نہ ہی خبریں رک رہی ہیں۔اس لئے یہاں اہم اور قابل توجہ کردار عام شہریوں کا ہے جو باآسانی مہنگی اشیاء خرید لیتے ہیں ۔ مہنگائی کے خلاف شکایت کے لیے ٹال فری نمبر پر اب تک کتنی شکایات موصول ہوئیں ؟کتنے صارفین ہیں جو مہنگائی کے خلاف وٹس ایپ نمبر استعمال کر چکے ہیں ؟اس کا جواب بہت کم یا صفربھی ہو سکتا ہے ۔بدقسمتی سے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان اس قدر ہے کہ حکومت کی جانب سے کئے گئے اچھے اقدامات کو سچ نہیں سمجھا جاتا ۔اگر سمجھا بھی جائے تو شکایت کنندہ کو کسی قسم کے ازالے کا یقین نہیں ہوتا ۔اس لئے حکومت کے لئے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے ۔اس کے ساتھ ہی ٹال فری نمبر ملانے والوں کو آسان معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے ۔قبل از ذکر نمبر پر فون کریں تو صحت ، تعلیم ، لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف شکایت درج کرانے کی آپشن دی جاتی ہے ۔ ایک عام صارف شاید یہ نہ جانتا ہو کہ اس مہنگائی کے خلاف کونسے محکمے کو رپورٹ کرنا ہے ۔اس لیے پنجاب حکومت کو عام شہریوں کی سطح پر جا کر آسانیاں فراہم کرنا ہونگی کیونکہ کسی ترقی یافتہ خواندہ قوم کے لئے بنائے گئے سسٹم کا اطلاق ہم جیسی ناخواندہ قوم پر ممکن نہیں کیونکہ ہمارے ہاں خواندہ وہ ہے جو محض اپنا نام لکھنا جانتا ہے ۔


ای پیپر