”شاپنگ بیگ کی یاد میں“
16 اکتوبر 2019 2019-10-16

خان صاحب کی حکومت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت اچھے کام اتنے ہی برے طریقے سے کرتی ہے جیسے کہ ملک میں جاری احتساب۔کرپشن کے خاتمے کا نعرہ بہت اچھا ہے مگر یہ اتنا ہی بُرابن جاتا ہے جب صرف مخالفین اس کی زد میں ہوںاور اپنوں کی موجیں لگی ہوں۔ مسلم لیگ نون کے رہنمااحتساب کی زد میں اس تفریق کے بغیر ہیں کہ وہ فاختائیں ہیں یا عقاب۔ ابھی حال ہی میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری نے بھی ایک زیتون کی شاخ لہرانے کی کوشش کی ہے مگر اس کیا وہ تازہ انکوائری کے بعد گرفتاری سے بچ پائیں اس بارے کچھ یقینی نہیں کہا جا سکتا کہ رانا ثنا اللہ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قابل فہم ہے کہ بزرگ کہا کرتے تھے کہ انسان پرندے اپنے پاوں سے اور انسان اپنی زبان سے جال میں پھنستے ہیں اور اسی طرح آزادی مارچ کے بعد مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھیوں کی پیشیاں بھی حالیہ روایات کے عین مطابق ہیں مگر لوہے کے جال سے جناب شہباز شریف بھی نہیں بچ پائے اور اگراب وہ خود جیل سے باہر ہیں تو ان کے لاڈلے بیٹے ان کی جگہ رکھے گئے ہیں، داماد کو بھی پنجرے میں بند کرنے کی پوری کوششیں ہیں اگر وہ ہاتھ آ گئے تو ۔ خواجہ سعد رفیق بھی بار بار امن اور مصلحت کی باتیں کرتے ہیں، ان کی ہر تقریر، میڈیا ٹاک اور سوشل میڈیا کی پوسٹ میں ایک سفید جھنڈا لہرا رہا ہوتا ہے مگر وہ اپنے بھائی کے ساتھ اس دور کی سب سے لمبی قید کا ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔

لیجئے جناب ! ہم پاکستانیوں کے ذہنوں پر سیاست اتنی حاوی ہو گئی ہے کہ اچھا بھلا شاپنگ بیگوں کی پابندی پر کالم لکھنے بیٹھا تو دھیان ایک اچھے فیصلے کے برے طریقے سے نافذ کےے جانے سے سیاست کی طرف چلا گیا۔پوش ایریا میں ایک بہت بڑے سٹور میں گھریلو سامان کی ماہانہ خریداری کے دوران بار بارایک خاتون سپیکر پریہ اعلان کرتی رہیں کہ حکومت پاکستان نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے شاپنگ بیگ پر پابندی عائد کر دی ہے لہذا صارفین اپنے گھروں سے کپڑے کے تھیلے ساتھ لے کر آئیں۔ شاپنگ بیگ پر پابندی اتنی ہی اچھی ہے جتنی عمران خان صاحب کی تقریریں ہوتی ہیں اور اس کے فوری اثرات اتنے ہی برے اور مشکلات بھرے ہیں جتنے تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کے سامنے آ رہے ہیں۔ این جی اوز کہتی ہیں اور درست کہتی ہیں کہ شاپنگ بیگ ماحول کو آلودہ کرتے ہیں، یہ پانچ پانچ سو برس تک تحلیل نہیں ہوتے، بہت سارے شہروں کی مثالیں دی جاتی ہیں جن کے سیوریج سسٹم ان شاپنگ بیگوں کی وجہ سے بند ہوجاتے ہیں اور ایک آرٹیکل میں یہ بات پڑھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ بہت سارے ساحلی مقامات پر پرندے شاپنگ بیک کو جیلی سمجھ کر کھا نے کی کوشش میں موت سے ہمکنار ہوجاتے ہیں۔

پرانے وقتوں کے ناسٹیلجیا کے شکاردوستوں کو یاد آتا ہے کہ کس طرح ہمارے باپ، دادا گھر سے کپڑے کاخوبصورت تھیلا یا پلاسٹک کی مضبوط ٹوکری لے کر نکلا کرتے تھے اور اس میں ہی گوشت، سبزیاں وغیرہ لائی جاتی تھیں، وہ کہتے ہیں کہ اس طرح گھر کے کھانے پینے کی اشیا کو لوگوں کی نظر بھی نہیں لگتی تھی اور پرائیویسی بھی قائم رہتی تھی مگر شاپنگ بیگ تو بہت بے شرم اور بے حیا ہیں، اند ر کیا ہے، سب کچھ دکھا دیتے ہیں۔میں پھر کہوں گا کہ یہ سب باتیں درست ہیں مگر زمینی حقائق کچھ اور ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس وقت شاپنگ بیگوں کی تیاری کے آٹھ ہزار کارخانوں اور ساٹھ ہزار دکانوں سے لاکھوں خاندانوں کا رزق لگا ہوا ہے اور اگر اس کاروبار کو ختم فوری طور پر ختم کیا جاتا ہے تو کم وبیش کاروبار اور نوکری کے پانچ سے دس لاکھ مواقع ختم ہوجائیں گے۔ ذرا غور کیجئے کہ پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کا اعلان کیا تھا مگر گرتی ہوئی جی ڈی پی اور شرمناک حد تک کم ہوتے گروتھ ریٹ میں حکمران روزگار کی گاڑی کو ریورس گئیر لگا رہے ہیں۔

میں نے بہت بڑے اور بااثر سٹور کے مینیجر سے کہا، آپ کی اناونسمنٹ بہت اچھی ہے کہ آپ میری بھری ہوئی ٹوکری کا سامان منتقل کرنے کے لئے شاپنگ بیک نہیں دیں گے مگر سوال یہ ہے کہ آپ اپنے سٹور میں جتنی بھی اشیا میں بیچ رہے ہیں ، وہ نوے فیصد پلاسٹک ہی کی پیکنگ میں محفوظ ہیں،ان میں ڈبل روٹی سے لے کر چپس تک ہر شے پلاسٹک میں پیک ہے، بڑے بڑے برانڈز کے گھی اورتیل پلاسٹک پیکنگ میں ہیں، خود سٹور کی طرف سے فروخت کے لئے رکھی جانے والی دالیں اور مصالحہ جات پلاسٹک کی پیکنگ میں ہیں، ٹوتھ پیسٹ سے لے کر شیمپو تک پلاسٹک کی بوتلوں میں ہیں اور اگر کچھ اشیا کاغذ اور گتے کی پیکنگ میں بھی ہیں تو انہیں پلاسٹک میں ہی مزید محفوظ کیا گیا ہے۔ میرے سامان میں آدھا کلویہی پلاسٹک ہو گا مگر آپ مجھے ایک چھٹانک کے دو شاپنگ بیگ استعمال نہیں کرنے دیں گے جو اپنی جگہ پر کھلا تضاد ہے۔ میرا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے کارپوریٹ سیکٹر کی مصنوعات کی طرف آنا چاہےے اور وہاں پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنی چاہےے ۔ اگر آپ پانی کو پھیلنے سے روکنا چاہتے ہیں تو آپ کو ٹونٹیاںابندکرنا ہو گی مگر آپ پھیلے ہوئے پانی کو ہاتھوں سے سمیٹنے کا کہہ رہے ہیںجو شہریوں کو پریشان کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ بڑے شاپنگ مالز کے مشہور سٹور کی چین پہلے ہی شاپنگ بیگ کے بیس روپے چارج کرتی تھی اور اب اس نے نان پلاسٹک اور بائیو گریڈ ایبل ہونے کے نام پرسو روپے وصول کرنا شروع کر دئیے ہیں ، دوسری طرف لاہور کی مشہور بیکریاں ہر سامان کے ساتھ بیس اور تیس روپے کے چھوٹے اور بڑے بیگ خریدنے پر مجبور کر رہی ہیں ورنہ کہا جا رہا ہے کہ ڈبل روٹیاں اور انڈے جھولی میں ڈال کر لے جاو۔

میں نے کہا، میں گاڑی میںا یک تھیلا، بالٹی اورٹفن رکھ لیتا ہوں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ دودھ اور دہی خرید سکیں، گھر جاتے ہوئے دہی بھلے لے جا سکیں، دو درجن کیلے ہاتھ میں پکڑ کر لے جاتے ہوئے آپ کتنے عجیب لگیں گے، جواب ملا، آپ تو گاڑی میں رکھ لیں گے تو جن کے پاس موٹرسائیکل ہے کیا وہ ساتھ لٹکائے پھریں، میں نے سوچا یہ واقعی عجیب واہیات سی سیچویشن پیدا ہو گئی ہے کہ آپ نے سب سے پہلے عوامی سطح پر پابند ی عائد کر دی ہے حالانکہ آپ کو سب سے پہلے شاپنگ بیگ تیار کرنے والی فیکٹریوں کو متبادل خام مال کی طرف لانا چاہےے تھا اورا س کے لئے اگر قرض بھی دینا پڑتا تو دینا چاہئے تھا تاکہ بے روزگار ی نہ پھیلتی۔ اس فیصلے کا اطلاق پہلے فیکٹریوں سے پیکنگ شدہ مال پر ہونا چاہئے تھا تاکہ لوگوں مٰیں شعور اجاگر ہوتا مگر اب اس کا ردعمل ہو رہا ہے۔ تیسرے مرحلے میں رفتہ رفتہ شاپنگ بیگ مہنگا اور پیکنگ کا متبادل میٹریل سستا کرنا چاہئے تھا تاکہ دکاندار اور صارفین اس کی طرف خود ہی متوجہ ہوتے مگر خان صاحب کی حکومت کوئی اچھا کام برے طریقے سے نہ کرے، عوام کو تکلیف دئیے بغیر کرے یہ ناممکن سی بات ہے۔

چوہدری کے بیٹے نے گالی بکی تو چوہدری نے غصے سے آنکھیں نکالیں، تھپڑ اور مکے مارے ، سب کے سامنے ماں، بہن کی دس، بیس گالیا ں دیں اورکہا کہ اسے تمیز سیکھنی چاہئے، گالی نہیں دینی چاہئے۔


ای پیپر