بھار ت کی ڈوبتی معاشی ناﺅ
16 اکتوبر 2019 (00:25) 2019-10-16

امتیاز کاظم:

بھارت کے معاشی گُرو ملک کو معاشی بحرانی کیفیت سے بچانے کے لیے عارضی مصنوعی معاشی ڈرنک کی مستی میں جھوم رہے ہیں اور حقیقی ادراک کی منزل سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک بالکل مصنوعی قسم کی معاشی ترقی کو دکھایا جا رہا ہے۔ کارپوریٹ اداروں کو بے جا تحفظ فراہم کر کے ان کے مفادات اور اُن کی بقاءکو مقدم رکھا جا رہا ہے۔ بدترین معاشی بحران سے بچانے کے لیے ہر سال مصنوعی سرمایہ کاری سے سٹاک ایکسچینج کی پوزیشن کو مستحکم دکھایا جا رہا ہے اور عوام کو یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ ان کے فائدے کے لیے ہی کیا جا رہا ہے لہٰذا وہ سب حکومت کا ساتھ دیں یعنی عملی طور پر ”سب کا ساتھ سب کا وکاس“ کو سچ ثابت کرنے کی ایک جھوٹی اور مصنوعی کوشش کی جا رہی ہے جب کہ عوام بھی یہ سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھ اور سمجھ رہے ہیں لیکن وہ بیچارے مجبور اور بے بس ہیں کیونکہ بھاجپا (BJP) نے ہندو پنڈتوں، مہنتوں، یوگیوں، کمپیوٹر بابوں کو خرید کر ان کے زیراثر عوام کو جبراً ووٹ بھاجپا کو ڈلوانے کا کام سونپ رکھا ہے۔ بھارتی ہندو عوام اپنے پنڈتوں اور سیاسی پنڈتوں کے آگے مجبور، بے بس اور بِکے ہوئے لگتے ہیں جس نے ذرا بھی اُونچا بولنے کی کوشش کی، اُسے ہی ساری زندگی کے لیے ”کھڈے لائن“ لگا دیا گیا اور اب حالت یہ ہے کہ بھارت میں ہندو شہری بھارت کی سرحدوں میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے، نہ مذہبی طور پر،نہ سیاسی طور پر اور نہ ہی معاشی اعتبار سے۔ بھارت سرکار ملک کو معاشی بحران سے نکانے کے لیے کئی سالوں سے سرگرم عمل ہے اور معیشت کو مستحکم دکھانے کے کئی ٹوٹکے آزما چکی ہے۔ منموہن سنگھ نے اپنے دور میں ملک کو معاشی بحرانی اثرات سے نکالنے کے لیے جو اقدامات کیے اُن کا ثمر آج مودی حکومت کا این ڈی اے (نیشنل ڈیموکریٹک الائنس) اُٹھا رہا ہے لیکن موجودہ دور میں جو اقدامات مودی حکومت کر رہی ہے، اُن کے نقصانات آنے والی حکومتیں اُٹھائیں گی حالانکہ منموہن سنگھ نے یہ اقدامات جو معاشی ترقی کے لیے ضروری تھے، اُس وقت اُٹھائے جب دُنیا عالمی معاشی انحطاط کا شکار تھی جس میں امریکی معیشت بھی شامل ہے۔ نریندر مودی نے اپنے پہلے دور میں (2014ءسے) کرنسی تنسیخ یا نوٹ بدلو پالیسی کا اجراءکیا تو یہ ایک سراسر غلط فیصلہ تھا جس کا بعد میں حکومت کو ادراک بھی ہو گیا کیونکہ اس اقدام سے کوئی مثبت نتائج برآمد نہ ہوئے اور حکومت اب تک ان اقدامات پر تنقید برداشت کر رہی ہے۔ بڑے لوگوں کو تو اس سے کچھ نقصان نہ ہوا البتہ چھوٹے لوگ مارے گئے۔ ناقدین اب تک یہ کہہ رہے ہیں، اس امر سے پیدا ہونے والے معاشی بحران میں انسان کی جانب سے مچائی گئی تباہی ہے۔

مودی حکومت نے اپنے موجودہ دوسرے دور میں 5 ٹریلین پر مشتمل معیشت کا ہدف مقرر کیا ہے، یہ بھارت کے لیے کوئی بڑا ہدف نہیں لیکن تبصرے یہ کروائے جا رہے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا ہدف ہے، معیشت کا انحصار معاشی پالیسیوں، اصلاحات، داخلی و بیرونی قرض پر مشتمل ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، برطانیہ وغیرہ کی معیشتوں کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سچ ثابت ہو گی۔ بھارت پر 1992ءمیں بیرونی قرض سب سے زیادہ رہا جو کہ جی ڈی پی کا 38.2 فیصد تھا لیکن اُس کے بعد بھارت نے خود کو سنبھالا۔ اب موجودہ بیرونی قرضہ 22 فیصد سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ ملکی یا قومی قرض تقریباً 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ، چین، جاپان، جرمنی، برطانیہ وغیرہ کا داخلی اور قومی قرض ان کی شرح پیداوار کے تناسب سے تین گنا زیادہ ہے۔ مودی حکومت اپنی معاشی کارکردگی کو بہتر بنانے کی بجائے رافیل گھپلوں، مکیش امبانی، انیل امبانی، پتن جالی، کمپیوٹر بابا، امیت شاہ اور سیاسی قائدین کو بے جا فائدے پہنچانے میں ان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ گزشتہ چھ سالوں میں مودی نے ملک کو جس طرح رگیدا ہے اور جس طرز کی حکمرانی ملک پر مسلط کی ہے وہ ہندو انتہاپسند ایجنڈے اور آرایس ایس کا سوانگ رچا کر بی جے پی کے بہروپ میں ہندوستان کے سنسار میں قید عوام کی بے بسی اور بے کسی کی منہ بولتی تصویر ہے۔ غربت کے شکنجے میں پھنسے دو وقت کی روٹی کو ترستے اور پانی کو بلکتے عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔ظلم کدے کی اوٹ سے نکلتی پنڈتوں کے ہاتھوں میں مچلتی بے بس، زندگی مودی کے بھارتیوں کے ماتھے کا جھومر بنی ہوئی ہے، کہ جسے وہ نوچ کر پھینکنا چاہتے ہیں، لیکن اُن کے ہاتھ ان دیکھے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ بے بسی اُن کے ماتھے کی تحریر بنی ہوئی ہے۔ رسم ورواج کا مذہبی انتہا پسندانہ اَن دیکھا جال ہے جس میں عوام پھنسی ہوئے ہیں، پر آزاد نہیں ہیں جس نے بھی آزادی کا گیت گایا وہی غدار کہلایا۔ مودی حکومت کی جانب سے جب بھی کوئی معاشی سخت فیصلہ کیا گیا، پسے ہوئے عوام کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہوا لیکن عین اُسی وقت مودی حکومت کی جانب کوئی ایسا فیصلہ کیا گیا کہ عوام غلط فیصلوں کی مخالفت کے بجائے حکومت کے دوسرے فیصلے کی تائید اور ستائش میں مصروف ہو گئے کہ پاکستان کے اُوپر سے پرواز کرتے ہوئے اچانک طیارہ پاکستان میں روکنا اور تقریب میں شرکت رافیل طیاروں کی اچانک خریداری سے پہلے پاکستان پر مبینہ اٹیک اور آرٹیکل 370 کی منسوخی جیسے اقدامات سے مودی نے عوامی پذیرائی حاصل کی لیکن اپنے اصلی انتخابی وعدے یعنی ڈیجیٹل انڈیا، شائننگ انڈیا، میڈ اِن انڈیا اور اسی طرح کے دوسرے انتخابی وعدے بس سراب ہی ثابت ہوئے۔ بس ایک وعدہ پورا کیا یعنی گﺅرکھشا اور دوسرے دوراپنا وعدہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ پورا کیا۔ مودی نے جی ایس ٹی کے نفاذ سے عوام کا جینا دو بھر کر دیا۔ عوامی شعبہ کے بینکوں کے انضمام کا فیصلہ کیا گیا۔ جی ایس ٹی کی شرح میں تبدیلی بھی کی گئی، رافیل سکینڈل کی زد میں اب بھی ہے لیکن حقیقی اور بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے میں مودی کامیاب نظر آرہا ہے جو کہ معاشی مسائل ہیں لیکن پردھان منتری نے اپنی کٹر بنیاد پرستانہ، ہندوانہ اور احمقانہ پالیسیوں کی بدولت آر ایس ایس کے اکثریتی ہندو طبقے کا اعتماد حاصل کر رکھا ہے اور پردھان منتری۔ ”پردھان سیوک“ بن کر ہر رکاوٹ کو پھلانگتا جا رہا ہے اور ملک کو فرقہ پرستی، بنیاد پرستی کی جانب دھکیل رہا ہے جس میں ہندو جنونی اور مذہبی فرقہ پرست جماعتیں اُس کا ساتھ دے رہی ہیں۔

نریندر مودی کے معاشی دعوو¿ں کی قلعی بھارت میں پائی جانے والی بےروزگاری کی شرح سے کھلتی ہے ، ایک سروے کے مطابق 18۔2017ءمیں ملک میں بے روزگاری کی شرح 45 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جب سال رواں کے آغاز میں یہ رپورٹ منظر عام پر آئی تھی تو نریندر مودی کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔بھارت کے نیشنل سیمپل سروے آفس کی تشخیص کو جولائی 2017ءسے جون 2018 کے درمیان کیا گیا جس میں بے روزگاری کی شرح 6.1 فیصد بتائی گئی جو 73۔1972 کے بعد سب سے زیادہ رہی73۔1972ءکے درمیان جب بھارت پاکستان سے جنگ سے باہر آیا تھا تو وہاں بے روزگاری کی شرح 5.18 فیصد تھی۔ اُس وقت اپوزیشن رہنما راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ’بے روزگاری کی شرح قومی تباہی ہے۔ بھارت کی معیشت سالانہ 7 فیصد کی شرح سے آگے بڑھ رہی ہے تاہم تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ معیشت کے حوالے سے حکومتی دعوے کھوکھلے ثابت ہیں۔ مودی کے ’بھارت بناو¿‘ منصوبے، جس کا مقصد مقامی سطح پر پیداوار کو بڑھا کر جی ڈی پی کو 17 فیصد سے 25 فیصد تک لے جانا اور 12 لاکھ نوجوانوں کے لیے روزگار فراہم ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس میں 15 سے 29 سال کے شہری مرد 18.7 فیصد کے پاس کوئی کام نہیں اور اسی عمر کی شہری خواتین 27.2 فیصد بے روزگار ہیں۔ رپورٹ میں اس سے بھی بری حالت افرادی قوت کی شراکت داری میں سامنے آئی، روزگار تلاش کرنے والی یا کام کرنے والی آبادی کے درمیان تناسب 19۔2017ءکے درمیان 36.9 فیصد ہو گیا ہے جو معیشت کے لئے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ اس وقت ماہرین کا کہنا تھا کہ روزگار کا بحران ہر جگہ نظر آرہا ہے ،ممبئی میں پی ایچ ڈی افراد کا ویٹر بننا یا گجرات میں چند ہزاروں روپے کی نوکری کے لیے لاکھوں افراد کا درخواست دینا یا ریلوے میں چند آسامیوں پر 1کروڑ افراد کی درخواست دینے کی خبریں ثابت کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ ہر جگہ موجود ہے‘۔

بھارتی اپوزیشن عالمی سطح پر انسان دوستی کے نعرے لگانے والی اقوام اور ممالک کے سربراہان پر اثرانداز ہونے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ تبصرہ نگار اس سے متعلق کہہ رہے ہیں کہ بھارت اپنی سفارتی پالیسی، بھارت میں تجارتی مواقع اور سرمایہ کاری کو محفوظ رکھنے کی ضمانت کے باعث عالمی سطح پر اپنی اہمیت جتوانے میں کامیاب نظر آرہا ہے یعنی اب عالمی سطح پر انسان کی نہیں بلکہ معیشت کی اجارہ داری ہے اور معاشی مداری ڈگڈگی بجا کر عالمی سطح پر تماشا دکھا رہے ہیں اور اسلامی ممالک کے کرتادھرتا بھی مودی جیسوں کو ایوارڈ اور میڈلز سے نواز رہے ہیں، یہی مودی جسے امریکہ ویزہ نہیں دے رہا تھا، اب اُسی مودی کو امریکی صدر اپنے برابر بٹھا کر بات چیت بھی کر رہے ہیں اور کھانا بھی کھلا رہے ہیں، ”جپھیاں“ بھی ڈال رہے ہیں۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی جو حالت ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ جو انکشافات کر رہے ہیں، ظلم کی جو انتہا ہو رہی ہے، بربریت کا جس طرح دور دورہ ہے، انسانی حقوق کو جس طرح پامال کیا جا رہا ہے، اُس پر پوری دُنیا نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں کیونکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنے معاشی فائدے کو دیکھ رہا ہے۔ بھارت میں محفوظ سرمایہ کاری کر رہا ہے، تجارتی فوائد حاصل کر رہا ہے۔ اُن کے کارپوریٹ اداروں کو ضرورت سے زیادہ تحفظ فراہم کر رہا ہے اور بھارتی عوام بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ تمام باتیں ملکی مفاد میں ہیں لیکن درحقیقت یہ ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ دُنیا یہ کیوں نہیں سوچتی کہ معیشت لوگوں کی مرہون منت ہے، اگر لوگ نہیں ہوںگے تو معیشت بھی نہیں ہو گی۔


ای پیپر