لنگر خانے نہیں کارخانے!
16 اکتوبر 2019 (00:22) 2019-10-16

ملک سے غربت اور بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے ہنر مند افراد پیدا کرنے کی ضرورت ہے

ہمایوں سلیم :

مولانا روم ؒ ایک کہاوت میں بیان کرتے ہیں کہ اگر مالک مزدور کے ہاتھ بیلچہ تھما دے تو اسے یہ حکم دینے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ جاو¿ اور جا کر کام کرو۔ بیلچہ تھمانے کا مطلب یہ ہے کہ قدرت نے تمہیں دو ہاتھ دئے ہیں، اور میں نے بیلچہ، اس لئے کام کرو اور کھاو¿۔ اس تناظر میں اپنے ملکی حالات دیکھیں تو معاملات برعکس ہیں اور حکومت لوگوں کے ہاتھوں میں بیلچہ دینے کے بجائے لنگر کی تھالی تھما رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران نے ہفتہ رفتہ کے دوران اسلام آباد میں ایک لنگر خانے کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ جب تک ملک میں روزگار کے حالات بہتر نہیں ہوتے حکومت لنگر خانے کھولتی رہے گی تاکہ کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔ ان کی اس وضاحت نے عوام کو حیرت میں ڈال دیا ہے‘ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا حکومت لنگر کو روزگار کے مواقع کے متبادل کے طور پر دیکھتی ہے؟ عوام کے لیے سہولیات کے اسباب پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے دو طرح عہدہ براءہو سکتی ہے۔ ایک یہ کہ ریاست میں روزگار اور کمائی کے مواقع پیدا کیے جائیں‘ تا کہ لوگ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو جائیں۔ دوسری صورت یہ لنگر خانوں کی ہے۔ مگر دونوں صورتوں میں بعد المشرقین ہے۔ ایک ذریعہ انسان کو حرکت میں برکت کی تحریک دیتا ہے‘ ہنر سیکھنے‘ صلاحیت برتنے اور کاروبارِ حیات میں مفید کردار ادا کرنے کی رغبت دلاتا ہے۔ اس طرح سماجی زندگی میں مفید چلت پھرت پیدا ہوتی ہے اور صلاحیتیں پیداوار کی صورت میں ڈھلتی ہیں۔ جدید سماج اسی اصول کے ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب لنگر خانے کا تصور ہے کہ جس میں انسان کو مفت کی روٹی اور تن آسانی کا راستہ بتایا جائے‘ مگر یہ انفرادی صلاحیتوں اور انسانی وقار کے شایان شان نہیں۔ ریاست میں بے شک کسی بھی فرد کو بھوکے پیٹ نہیں سونا چاہیے اور وزیر اعظم کا یہ کہنا پوری طرح بجا ہے کہ اس سے ریاست میں بے برکتی ہوتی ہے‘ مگر انسان کے لیے صرف پیٹ بھر کھانا ہی کافی نہیں‘ مکان‘ کپڑا ‘جوتی‘ علاج معالجہ اور تعلیم و تربیت بھی فرد کی بنیادی ضروریات ہیں۔ لنگر کا کھانا آدمی کا پیٹ تو بھر سکتا ہے‘ مگر ریاست دیگر بنیادی ضروریات سے کیونکر منہ موڑ سکتی ہے۔ کیا وزیر اعظم لنگر خانوں کے ساتھ بے روزگار افراد کے لیے ان ضرورتوں کی ذمہ داری بھی لے سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں نہ حکومت کی توجہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز رہے۔ لنگر خانوں اور اس قسم کے دیگر شارٹ کٹس کی بجائے اگر حکومت بے روزگار لوگوں کو کام کے مواقع پیدا کر دے تو یہ اس سے کہیں بہتر اور حقیقی معنوں میں انسانی شرف کے شایان شان ہے‘ تاکہ لوگ بجائے لنگر پر گزارا کرنے کے خود کمائیں اور ریاست کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ کیا وزیر اعظم کو معلوم نہ ہو گا کہ عوام ریاست کے لئے آمدنی کا وسیلہ بنتے ہیں‘ جس طرح لوگ اپنی محنت سے اپنے گھر کیلئے کماتے ہیں‘ اسی طرح انسانی محنت کا پہیہ متحرک رہے تو ریاست کے وسائلِ آمدنی تشکیل پاتے ہیں۔ آج کچھ ریاستیں صرف اس لیے زیادہ دولت مند ہیں کہ ان کے افراد زیادہ ہنر مندہیں اوران کی محنت کے دام زیادہ لگتے ہیں۔ ریاستِ مدینہ کا عظیم تصور پیشِ نظر رکھنے والے کیا ریاست مدینہ کے بانی جنابِ رسول اللہ کے اس فرمان پرغور نہیں فرماتے کہ محنت سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے۔ حکومت کو غربا اور مساکین کے لیے زندگی کی آسانیوں کے اسباب پر ضرور توجہ دینی چاہیے‘ مگر یہی کام ہمارے معاشرے میں غیر سرکاری سطح پر متعدد تنظیمیں بہترین انداز سے کر رہی ہیں۔ مخیر حضرات اپنے طور پر بھی اس کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اسلام آباد کے لنگر خانے کا اہتمام بھی تو حکومت نے ایسے ہی ایک ادارے کے ساتھ مل کر کیا ہے‘ تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ایسا کام ہے جو حکومتی سرپرستی کے بغیر بھی جاری ہے مگرجو کام صرف حکومت کر سکتی ہے‘ یہ ہے کہ بے روزگار لوگوں کو روزگار کے مواقع پیدا کر دے‘ بے ہنرمندوں کو ہنر ور بنا دے اور ایسے امکانات پیدا کرے جس میں سرمایہ پنپ سکے اور لوگ خوشحال ہو سکیں‘ خود کما کر کھانے اور اپنے خاندانوںکا پیٹ بھرنے کے قابل ہو جائیں۔

بے سہارا، نادار اور بیروزگار لوگوں کیلئے پناہ گاہوں اور لنگرخانوں کا اہتمام بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ایسے ملک میں جہاں آبادی کا دو تہائی حصہ غربت کا شکار ہو اور اس میں سے بھی اکثریت خط افلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہو اس طرح کے اقدامات فلاحی ریاست کی سمت میں نہایت مثبت پیش رفت ہیں اور یہ ضرور جاری رہنے چاہئیں لیکن اس کے ساتھ ہی ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کئے جانے چاہئیں جو صنعتوں کے قیام اور کاروبار کی ترقی کے بغیر ناممکن ہیں۔ پناہ گاہوں اور لنگر خانوں کی اسکیموں کا مقصد حاجت مندوں کی عارضی مدد ہونا چاہئے مستقل معاشی بحالی کیلئے ضروری ہے کہ انہیں اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کی ترغیب دی جائے اور اس مقصد کیلئے انہیں ایسے ہنر سکھائے جائیں جن سے وہ اپنی روزی خود کما سکیں۔

اگر حکومت ضرورت مندوں کو لنگر دے کر ٹرخانا، اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے گریز کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے تو اس کو نااہلی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی بھوک پیاس کا احساس کرنا اچھی بات ہے مگر اس کا حل لنگر خانوں میں تلاش کرنا اور انہیں روزگار کا متبادل قرار دینا کسی طرح بھی طرح دانشمندانہ اپروچ نہیں کہلا سکتا۔


ای پیپر