پاک بھارت تعلقات اور جنوبی ایشیا کا امن
16 اکتوبر 2018 (23:45) 2018-10-16

چوہدری فرخ شہزاد:

سیاست اور سفارت کاری کی منطق بڑی عجیب ہے۔ اس میں ہاں کا مطلب حقیقت میں نہیں ہوتا ہے اور نہیں کا مطلب اقرار ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے73ویں سالانہ اجلاس سے پہلے جب بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ وزرائے خارجہ سطح کی سائیڈلائن ملاقات کا اعلان کیا گیا تو پاک بھارت تعلقات کے ماہرین کے لیے یہ بہت بڑاسرپرائز تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2014ءمیں برسراقتدار آتے ہی مذاکرات کا جو سلسلہ معطل کیا تھا ان کے اقتدارکے آخری سال انہیں یہ کیا ہوگیا کہ پاکستان کے ساتھ ملاقات کے لیے خود ہی پیغام بھیج دیا۔ ماہرین نے کہانی کے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ گزشتہ4 سال سے پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی جنہیں پاکستان میں مودی کے یارکا ہونے کا طعنہ دیا جاتا تھا۔ جب مودی نے نواز شریف کے دور میں مذاکرات نہیں کیے تو وہ کسی اور حکومت کے ساتھ یہ کیسے گوارہ کریں گے؟ لیکن ماہرین ان مفروضات کے قیام کے وقت وہ منطق بھول گئے تھے کہ مودی کی ہاں کا مطلب حقیقت میں نہیں ہے مگر ان خبروں کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی 24گھنٹے سے کم وقت میں بھارت نے وزرائے خارجہ ملاقات کی منسوخی کا اعلان کردیا۔ تجزیہ نگاروں کے تبصرے ادھورے رہ گئے اور ملاقات نہ ہونے پائی۔ تب جا کر دُنیا کو سمجھ آیا کہ نریندر مودی جس نے 2014ءمیں پاکستان مخالف منشور پر بھارت میں الیکشن جیتا تھا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ 2019ءکے انتخابات میں دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کا اُمیدوار ہوکر پاکستان کے ساتھ دوستی جیسا خودکش فیصلہ کرسکتا ہے، یہ بہت بڑا سیاسی رِسک تھا۔

لیکن ہم یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر ملاقات نہیں کرنا تھی تو اس کا اعلان کیوں کیا گیا اور چند گھنٹے میں بھارت کوکیوں اپنے بیان سے منحرف ہونا پڑا۔ اس کے لیے ایک تو یہ الزام گھڑا گیا کہ ہم یہ ملاقات اس لیے منسوخ کررہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کو ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے اور پاکستان میں کشمیر میں شہید ہونے والے برہان وانی کی برسی پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے برہان وانی کی تصویر والا یادگاری ٹکٹ جاری کیا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ ٹکٹ پاکستان تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے سے پہلے کا ہے جب پاکستان میں نواز شریف کی حکومت تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس ٹکٹ پر اعتراض کرتے ہوئے بھارت یہ بھول گیا کہ جب ایک دن پہلے مذاکرات کا اعلان کیا گیا تھا توکیا یادگاری ٹکٹ اس وقت انہوں نے نہیں دیکھا تھا۔

بات یہاں ختم نہیں ہوتی، پاکستان اور بھارت کے درمیان مستقل سفارتی جنگ میں بھارت نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت سے یہ بیان دلوا دیا کہ ہم پاکستان سے بدلہ لیں گے اور حملہ کردیں گے اور یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان پر دوبارہ سرجیکل سٹرائیک کرسکتے ہیں۔ اس بیان نے بارڈرکے دونوں جانب ہنسی مذاق کی کیفیت پیدا کردی کیونکہ بھارت کی سرجیکل سٹرائیک ایک ایسا ڈرامہ تھا جس پر ابھی تک کانگریس پارٹی جوکہ اپوزیشن جماعت ہے، نے مودی حکومت پر زمین تنگ کی ہوئی ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولاگیا۔

کانگریس پارٹی کے سفید بالوں والے بزرگ لیڈر مانی شنکر آئیرکا نام اعتدال پسند سیاستدانوں میں شمار ہوتا ہے جو ماضی میں کشمیر میں ہندوستانی افواج کے مظالم پر احتجاج کرتے ہوئے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیتے آئے ہیں۔ انہوں نے پاک بھارت مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایک بنیادی اصول دیا ہے جسے سرحدکے دونوں جانب تسلیم کیا گیا۔ وہ یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات Uninterrupted & Uninterruptible ہونے چاہئیں یعنی ان میں معطلی نہیں ہونی چاہئے خواہ کچھ بھی ہو جائے اور دوسرا یہ کہ مذاکرات کسی تیسرے غیر ریاستی فریق کی مداخلت کی وجہ سے سبوتاژ نہیں ہونے چاہئیں۔ عام طور پر جب بھی مذاکرات ہونے لگتے ہیں توکوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جس سے امن کا عمل پٹڑی سے اُتر جاتا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مانی شنکر فارمولے کو تسلیم کیا ہے مگر نریندر مودی اس کو نہیں مانتے اور اس وقت بھارت میں چناﺅکا موسم چل رہا ہے لہٰذا کانگریس بھی اس طرح کی بات کرنے سے کتراتی ہے کہ ووٹ بنک متاثر نہ ہو۔

لیکن ہوا یہ ہے کہ نریندر مودی کو ایک ناگہانی آفت نے آگھیرا ہے جس کی وجہ سے اس کے چناﺅ جیتنے پر بہت سے سوال اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔کانگریس پارٹی کے سربراہ کاکہنا ہے کہ ہمارا وزیراعظم مودی چور ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہندوستان میں اس وقت مودی کے خلاف رافیل جیٹ طیاروں کی فرانس سے خریداری کے9 بلین ڈالر کے آرڈرز میں کمیشن اورکک بیکس کا الزام ہے۔ 36 طیاروں کی خریداری کے اس معاہدے میں بھارتی حکومت نے فرانس کو پابند کیا تھا کہ وہ مودی کے دوست انیل امبانی کی کمپنی کو بطور لوکل پارٹنر شامل کرے۔ امبانی بھارت کے ٹاپ ٹین سرمایہ داروں میں سے ایک ہے جو مودی کی انتخابی مہم بھی فنانس کر رہا ہے۔ اس سکینڈل کا انکشاف اعلیٰ ترین سطح پر ہوا جب فرانس کے سابق صدر Hollande جو اس سودے کے وقت صدر تھے، نے تصدیق کی کہ انیل امبانی کی کمپنی کا نام اس معاہدے میں مودی کی سفارش پر شامل کیا گیا تھا اور یہ محض اتفاق کی بات نہیں ہے کہ جس دن یہ معاہدہ طے پایا، اُسی دن امبانی فرانس میں موجود تھے۔ اب راہول گاندھی نے انتخابی مہم میں بھارت کو نیا نعرہ دے دیا ہے کہ ہمارا وزیراعظم چور ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اگلا الیکشن راہول گاندھی اور ان کی پارٹی کا ہے اور وزیراعظم عمران خان کو آئندہ راہول سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ اس بات کا سارا دارومدار رافیل جیٹ خریداری سکینڈل کے انجام پر منحصر ہے۔ اب آپ کوکچھ سمجھ آئی ہوگی کہ نریندر مودی نے اپنے اس سکینڈل سے توجہ ہٹانے کی خاطر پاکستان کے خلاف اپنے آرمی چیف کے ذریعے تعلقات کشیدہ کرنے کے عمل کا آغازکردیا ہے۔ آنے والے وقت میں اس میں مزید شدت بھی آسکتی ہے جس سے سرحدوں کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہےلیکن پاکستان کے دفاعی اداروں نے بپن راوت کے جنگی غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور اُسے بتایا گیا ہے کہ یہ غلطی نہ کرنا۔ البتہ اب ہندو بنیاد پرستوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے کشمیر کی صورتحال کو خراب کیا جائے گا۔ یہ وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کا ایک اور موقع بھارت کی سیاسی ہٹ دھرمی کی نذر ہوگیا۔

نریندر مودی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اور بدنام زمانہ عالمی جاسوس اجیت دوول پر بہت زیادہ اعتماد کرتے ہیں اور اس کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔کشمیر میں کارروائیوں میں تیزی کے پیچھے بھی اجیت دوول کی پلاننگ کام کررہی ہے۔ پاکستان کے بارے میں اجیت دوول کی Strategic Planning تین نقاط پر مشتمل ہے۔ ”Implore, influence and Isolate“۔ یہ تین نکاتی پروگرام تھا جس پر نریندر مودی گزشتہ4 سال سے عمل پیرا ہے۔ اس میں پہلا نقطہ Implore تھا کہ پاکستان کو اندرونی طور پرکمزورکیا جائے۔ اس میں کلبھوشن نیٹ ورک اس کی ایک مثال ہے۔ دوسرے نمبر پر یہ تھا کہ پاکستان کو Influence کیا جائے یعنی یہاں پر سیاسی اور ملٹری قیادت میں دُوریاں ڈال کر سیاستدانوں پر اثرانداز ہوا جائے۔ تیسرا پہلو یہ تھا کہ پاکستان کو عالمی دُنیا میں Isolate یعنی سفارتی طور پر الگ تھلگ کردیا جائے لیکن اس کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت سی پیک کی صورت میں سامنے آیا۔ بھارت کو ان تینوں اہداف میں بُری طرح شکست ہوئی ہے۔کلبھوشن نیٹ ورک توڑا جاچکا ہے۔ نوازشریف کی حکومت ختم ہو چکی ہے اور پاکستان ساﺅتھ ایشیا میں اپنی جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے پہلے سے زیادہ طاقت اور اہمیت کے ساتھ کھڑا ہے۔

نریندر مودی کی بوکھلاہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ الیکشن جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں مگر حالات بتاتے ہیں کہ اگلے انتخاب میں وہ دوبارہ منتخب نہیں ہو سکیں گے چاہے جو مرضی کرلیں۔ آپ کو یہ سُن کر حیرت ہوگی کہ بھارت کی قومی شرح نمو (GDP) جو 2010ءمیں 10فیصد پر پہنچ چکی تھی، مودی کے دور میں صرف 5 فیصد رہ گئی ہے۔ معیشت سکڑ رہی ہے مگر حکومت ملک میں مذہبی منافرت پھیلاکر ووٹ لینا چاہتی ہے۔

بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے گزشتہ ہفتے پاکستان سے بدلہ لینے والے اپنے بیان کے بعد دوکام کیے ہیں۔ ایک تو انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی رفتار تیزکردی ہے جبکہ دوسری طرف لائن آف کنٹرول پر اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ شروع کردیا ہے جس کے ساتھ ساتھ ہیوی وار مشینری سرحد پر پہنچانا شروع کردی گئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ایک طویل نفسیاتی جنگ کے دباﺅکی وجہ سے جنرل راوت کو خیالی محاذِ جنگ کے نقشے چین سے سونے نہیں دے رہے۔ جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ پاکستان آرمی سے آپ بدلہ کس بات کا لینا چاہتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ دو سال پہلے پاکستانی فوج نے20کلومیٹر بھارتی سرحد کے اندرگھس کر اُڑی سیکٹر میں ایک فوجی کیمپ پر حملہ کرکے ہمارے سپاہی ہلاک کر دیئے تھے اور ان کے سر کاٹ کر ساتھ لے گئے تھے، یہ ایک ایسا الزام ہے جس کی پاکستان نے روزِاوّل سے ہی تردید کی ہے۔ یہی وہ واقعہ تھا جس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے بھارتی آرمی نے سرجیکل سٹرائیک ڈرامے کا اعلان کیا تھا جسے آج تک بھارت کے اندر بھی مذاق سمجھا جاتا ہے۔

اپنے مذکورہ پاکستان مخالف بیان کے فوراً بعد بھارتی آرمی چیف نے روس کا6 روزہ دورہ کیا جس میں فوج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے لیے جنرل بپن راوت نے روس سے جدید ترین ٹینک T14 ملٹی پرپوز فیوچر ریڈی کمبیٹ وہیکل (FRCV) کی خریداری پر مذاکرات کا آغازکیا جن کی تعداد 2000 کے لگ بھگ ہے۔ اس سے پہلے بھارت کے پاس عمررسیدہ T72 مین بیٹل ٹینک (MBT) ہیں جو جنگ کے جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ یاد رہے کہ پاکستان کے7 ارب روپے کے دفاعی بجٹ کے مقابلے میں بھارت کا بجٹ 40 ارب روپے ہے لیکن اس کے باوجود ان پر خوف سوار ہے کہ پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں مزید اسلحے کی ضرورت ہے۔ اس ٹینک کی خریداری سے قبل گزشتہ سال بھارت نے فرانس سے رافیل جیٹ طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جس میں وزیراعظم نریندر مودی پر سودے میں کمیشن کے الزامات زور پکڑ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ ماہ جب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جم میٹس بھارت کے دورے پر تھے تو وہاں بھارت نے اصرارکیا کہ انہیں پاکستان کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈرون طیارے دیئے جائیں۔

جس طرح کے حالات بن رہے ہیں اورہندوستان میں اگلے سال عام انتخابات کی تیاری ہو رہی ہے نریندر مودی پاکستان کے ساتھ ایک محدود جنگ چھیڑکر اس کا کریڈٹ لینے کے لیے اپنے عوام کے سامنے مقبولیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بہت بڑا رِسک ہوگا کیونکہ محدود جنگ ایک احمقانہ نظریہ ہے۔ جب جنگیں شروع ہوتی ہیں تو وہ محدود نہیں رہتیں اور ان کے نتائج جنگ شروع کرنے والے ملک کے ہاتھ میں نہیں رہتے۔ دو ملکوں کے درمیان لڑائی کوئی لیبارٹری میں کیا جانے والا تجربہ نہیں ہوتا کہ وہ جیسے آپ چاہتے ہیں اُسے کنٹرول کرسکیں۔

بھارت اسی محدود جنگ کو Cold Start Doctarine کا نام دیتا ہے جس میں وہ اپنی وار پلاننگ مفروضوں میں یہ سمجھتا ہے کہ جنگی معاملات ایسے ہی آگے بڑھیں گے جیسا بھارت سمجھتا ہے یہ قطعی طور پر غلط ہے۔ پھر بھارت اس اہم ترین حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے کہ پاکستان آرمی گزشتہ 10سال کے عرصہ سے حالت جنگ میں ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تربیت یافتہ ہوچکی ہے جس نے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے، یہ وہ کام ہے جو امریکی گزشتہ 17سال سے افغانستان میں نہیں کرسکے۔

بھارت کی اسلحہ خریداری مہم کے پیچھے ان کا یہ خوف کارفرما ہے کہ پاکستان آرمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کی آخری فیز میں ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان اپنے داخلی معاملات میں اُلجھا رہے اور اپنے مغربی بارڈر پر مصروف رہے گا تو مشرقی بارڈر یعنی بھارت کے ساتھ سرحد بھارت کے لیے باعث اطمینان رہے گی۔ دوسری طرف پاکستان نے امریکہ سے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں کامیابی چاہتے ہیں تو بھارت کوکہیں کہ مشرقی بارڈر پر اپنی سرگرمیاں بندکرے تاکہ پاکستان مغربی سرحد پر دہشت گردی کے خاتمے میں امریکہ کی مدد کرسکے۔

٭٭٭


ای پیپر