کرپٹ عناصر سے ریکوری ممکن؟
16 اکتوبر 2018 (23:40) 2018-10-16

حافظ طارق عزیز:

کرپشن اور بدعنوانی کا عنصرکسی بھی ملک کی معاشی بنیادیں ہلاکر رکھ دیتا ہے۔ بدعنوان عناصرکچھ اس طرح سے لوٹ مارکرتے ہیں کہ ان کا پکڑا جانا مشکل امر بن جاتا ہے اور اگر پکڑے جائیں بھی تو ان سے لوٹی ہوئی دولت برآمدکرنا جوئے شیرلانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔کچھ ایسے ہی حالات کم و بیش تیسری دنیاکے تمام ممالک میں پائے جاتے ہیں اور وطن عزیزکو بھی اس سے استثنیٰ حاصل نہیں۔ یہاں بھی کرپشن کے ذریعے قومی وسائل کو لوٹنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی گئی۔ اور لوگوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا نئی حکومت عہدکیے ہوئے ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی دفعہ پریس کانفرنس کی اور لاہور میں میڈیا کے نمائندوں کے تندو تیز سوالات کے جوابات دیے۔ اس پریس کانفرنس کے مندرجات تو آپ نے ملاحظہ فرما لیے ہوں گے لیکن اس میں دو تین باتیں نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ ایک یہ کہ عثمان بزدار اگلے پانچ سال تک وزیر اعلیٰ رہیں گے ، وزیر اعظم کے یہ بات کہنے کے بعد یقینا چند عناصرکو ضرور تسلی ہو گئی ہوگی کہ اب وہ جتنا مرضی پراپیگنڈہ کر لیں عثمان بزدار وزیر اعلیٰ ہی رہیں گے۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس کی ایک بار پھر بات کی۔ اورکہا کہ ہم کرپٹ عناصر سے پیسے واپس لائیں گے اس کے لیے ایسٹ ریکوری یونٹ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اور بھی بہت سی باتیں کیں لیکن غریب آدمی نے اپنے مطلب کی بات پکڑ لی، اور اسی پر کام کرنا شروع کر دیا۔ کیوں کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہی ”ایسٹ ریکوری “ کا ہے۔ اگر یہ کام ہوگیا تو سرمایہ کار بھی آجائیںگے، ملک بھی ٹھیک ہوجائے گا اور قرضہ بھی ختم ہوجائے گا۔ اور ہمارے ملک کے چاچے مامے تائے سبھی کرپشن بھی سوچ سمجھ کرکریں گے۔

اب اگر مذکورہ بالا ایسٹ ریکوری یونٹ کی بات کی جائے تو یقین مانیں دل چاہتا ہے کہ راتوں رات ریکوریاں ہو جائیں اور صبح سویرے ہی عوام کو ریلیف مل جائے مگر جب چور چوری کرتا ہے تو وہ یقینا ہر طرف سے اپنے آپ کوکور بھی رکھتا ہے تاکہ بچنے کے چانسز زیادہ ہوں۔ مگر چورکوئی نہ کوئی نشان چھوڑ ضرور جاتا ہے جس تک پہنچنے کے لیے کچھ وقت تو لگتا ہے مگر آدمی پہنچ ضرور جاتا ہے۔ حقیقت میں ایسٹ ریکوری یونٹ میں نیب، ایف آئی اے ، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے نمائندے شامل ہیں، ریکوری یونٹ کو قائم ہوئے چند دن ہوئے ہیں اور انہوں نے سب سے بڑی کامیابی یہ حاصل کی ہے بڑے لوگوں کے ڈرائیور یا ملازم کے نام اکاو¿نٹس میں سے بہت کچھ نکالنے میں کامیاب ہو رہے ہیں، ریڑھی اور فالودہ والوں کے اکاو¿نٹس سے پیسے نکل رہے ہیں۔

اس قسم کا ریکوری یونٹ اس وقت ورلڈ بینک کی طرف سے بھی قائم ہو چکا ہے۔ پوری دنیا میں پاکستانیوں کی چھپائی گئی اربوں ڈالرکی دولت اور اثاثوں کی ریکوری کے لئے عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے چوری کئے گئے خصوصی اثاثوں کی ریکوری کے عالمی پروگرام سے استفادہ کر سکتا ہے اس کے لئے پاکستان کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ مختلف ممالک میں پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس میں پڑا پیسہ جرائم سے کمایا گیا یا منشیات کے ذریعے بنایا گیا ہے تو اس کی ریکوری کے لئے عالمی بینک اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (یونائیٹڈ نیشن آفس آن ڈرگز اینڈ کرائم) (یو این او ڈی سی) کا چوری کئے گئے اثاثوں کی ریکوری کا عالمی پروگرام (سٹولن ایسٹ ریکوری انیشی ایٹو) موجود ہے جس سے استفادہ کرنا پڑے گا۔ اس کے تحت پاکستان انتہائی بڑے جرائم پیشہ مجرموں کے خلاف اقوام متحدہ اور عالمی بینک کو ثبوت فراہم کرکے ان کے بیرون ملک اثاثے ضبط کروا کر انہیں پاکستان واپس لا سکتا ہے ، تاہم اس کے لئے بھی طویل قانونی چارہ جوئی اور بھاری لاگت درکار ہوگی اس پروگرام کے تحت پاکستان ان ممالک کی حکومتوں کے ساتھ عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے تعاون طلب کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے ہم مختلف ممالک کی مثال لے لیتے ہیں جنہوں نے اپنا پیسہ ریکورکروایا ہے۔ بدعنوان حکمرانوں اور انفرادی شخصیات کی جانب سے لوٹی گئی دولت واپس کرتے ہیں۔کئی سال تک پاکستان کے مقابلے میں کمزوراورغریب ممالک جن میں فلپائن، پیرو، کینیا، نائیجریا، قازقستان، اینگولا اور میکسیکو وغیرہ شامل ہیں، یہ اپنی لوٹی ہوئی دولت سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک جوکئی دہائیوں تک ٹیکس بچانے والوں کے لئے جنت سمجھے جاتے تھے، ان سے واپس لینے میں کامیاب ہوئے ہیں، یہاں بہت سے لوگوں نے خفیہ طور پر اربوں چھپائے۔ غیرقانونی دولت کی واپسی میں کافی وقت لگ سکتا ہے اور قانونی کارروائی مہنگی اور تھکا دینے والی ہو سکتی ہے لیکن ورلڈ بینک کے سٹولن ایسٹ ریکوری انیشی ایٹو جیسے ادار ے بڑے پیمانے پر ہوئی کرپشن کےخلاف مختلف ممالک کی مددکرتے ہیں، خاص طورپر جب بات سینئرسرکاری اہلکاروں اوران کے مددگاروں کی جانب سے عوامی اثاثے لوٹنے کی ہو۔ ہاں، پاکستان کویہ کام شروع کرنے سے پہلے کم ازکم چند معاہدے کرنا ہوں گے، یہ ایسی چیزہے جو پہلے کبھی نہیں کی گئی۔ سٹولن ایسٹ ریکوری انیشی ایٹونے اپنی ویب سائٹ پرکہا ہے کہ اثاثوں کی واپسی ایک بڑاکام ہے جس میں تحقیقات شروع کرنے سے لے کرفیصلے اور چوری شدہ اثاثوں کوضبط کرنے اور ان کی واپسی تک میں چھ سال لگ سکتے ہیں۔ تاہم ایسے کیسزبھی ہیں جو زیادہ عرصے تک بھی چلے۔ یہ پروگرام کرپشن اور غیر قانونی دولت جو بیرون ممالک میں بدعنوان اہلکاروں نے چھپائی ہو، اس کی لانڈرنگ روکنے کی کاوشوں میں مددکرتا ہے۔ ورلڈ بینک سٹولن ایسٹ ریکوری انیشی ایٹوکاماننا ہے کہ چوری شدہ40 ارب ڈالرکا بڑاحصہ ترقی پذیر ممالک کے لئے بہت اہم ہوگا۔

یہاں کچھ ایسی مثالیں پیش کی جا رہی ہیں جہاں سویٹزر لینڈ نے غریب ممالک کی لوٹی ہوئی دولت واپس کی۔ گزشتہ 21 سالوں میں فلپائن نے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم واپس حاصل کی ہے، زیادہ تر سویٹزرلینڈ سے حاصل کی گئی جوفرڈیننڈ مارکوس نے چوری کی تھی۔ یہ رقم لیچ ٹنسٹین اور پانامہ میں واقع مارکوس کے ماتحت چلنے والی چارفاونڈیشنزکی جانب سے اہم سوئس بینکوں کی شاخوں میں جمع کرائی گئی، ان میں کریڈٹ سوسی اور سویس بینکینگ کارپوریشن شامل ہیں۔ 2007ءتک پیرو نے اپنی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ولا ڈیمر ومونٹیسنوس کی جانب سے چوری کیے گئے تقریباً17کروڑ40 لاکھ امریکی ڈالر واپس لیے، یہ رقم سویٹزرلینڈ، کی من جزائراور امریکا سے واپس لی گئی۔ 2001ءمیں سویٹزرلینڈ نے قازقستان کو بھی رقم کی واپسی شروع کی اور 11کروڑ 50 لاکھ ڈالر واپس کیے۔2008ءمیں سوئٹزرلینڈ نے میکسیکوکو سابق صدرکارلوس سالیناس کے بھائی راﺅل سالیناس کی جانب سے لوٹے گئے8کروڑ40 لاکھ ڈالرواپس کردیئے۔2012ءمیں سوئٹزرلینڈ نے اینگولا کو 4کروڑ30 لاکھ ڈالر واپس کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جون 2018ءمیں سوئس حکومت نے نائیجریاکے لوٹے گئے120کروڑ ڈالر واپس کردیئے۔ نائیجریا میں سوئٹزرلینڈکے سابق سفیر ایرک میروراز نے کہا کہ یورپی ملک نے2005ءمیں نائیجریا کو سابق فوجی حکمران سانی اباچاکی جانب سے لوٹی گئی رقم کے پہلے72 کروڑ20 لاکھ ڈالر اداکیے اور پھر 32 کروڑ 25 لاکھ ڈالر اداکیے۔

اپریل 2018ءمیں سوئٹزرلینڈ نے کہاکہ اس نے سربراہِ ریاست جنرل سانی اباچا کی جانب سے لوٹی گئی تمام رقم 15لاکھ ڈالرسودسمیت واپس کردی ہے۔ نائیجریا کی خبرایجنسی کے مطابق نیویارک میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرجنرل اورگلوبل کارپوریشن ڈیپارٹمنٹ سوئس ایجنسی فار ڈیویلپمنٹ اینڈکارپوریشن کے سربراہ پیووینبسٹ نے32کروڑ25لاکھ ڈالر نائیجریا کو واپس کردیئے ہیں۔ ان کے مطابق اصلی رقم 32کروڑ1لاکھ ڈالر تھی۔ اسی دوران نائیجریا نے سوئس حکومت کی جانب سے 32کروڑ25 لاکھ 10ہزار ڈالرکے وصول ہونے کااعلان کیا، یہ رقم سابق صدرنے لوٹی تھی۔ سی این این کی 6 دسمبر2017ءکی رپورٹ کے مطابق یہ اثاثے سانائی اباچاکے بیٹے ابااباچا کے خلاف فوجداری کارروائی کے نتیجے میں ضبط کیے گئے تھے، انھوں نے نائیجریا پر 1998ءمیں اپنی موت تک 5 سال تک حکومت کی۔

2006ءاور2007ءمیں برطانوی اور جنوب افریقی انتظامیہ نے نائیجریا کے ایک کروڑ77لاکھ ڈالر کی واپسی میں مدد کی، یہ رقم تیل کی دولت سے مالامال ریاست کے ایک گورنرنے لوٹی تھی۔ جولائی 2018ءمیں کینیا کے صدراوہوروکنیاتا اور ان کے سوئس ہم منصب ایلین برسٹ نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت سوئس بینکوں میں چھپائے گئے غیر قانونی اثاثے کی واپسی میں کینیاکی مدد کی جانی تھی۔ کینیا کے صدر نے برطانیہ اور جرسی کے ساتھ بھی معاہدے کیے تاکہ اس بات کویقینی بنایا جا سکے کہ ان علاقوں میں چھپائے گئے کینیاکے اربوں شیلنگز کو واپس لایا جا سکے۔ زیادہ تر افریقی ممالک میں طاقت ور حکمرانوں کی جانب سے لوٹی گئی رقوم غیرملکی آف شوراکاﺅنٹس میں پائی گئی۔ یواین اکانومک کمیشن آن افریقہ کے مطابق سرمائے اورغیر قانونی رقم کی منتقلی سے اس براعظم کو سالانہ 150ارب ڈالرکانقصان ہوتا ہے۔ تاہم ایک ایسی بات جو اس کے مخالف ہے وہ سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ کی جانب سے اس قانون میں ترمیم سے انکار ہے جس کے تحت مارچ 2018ءمیں اس کے بینکوں کی جانب سے ضبط کیا گیا بینک کے منافع کو واپس کیا جاتا ہے۔ مختلف این جی اوز نے سوئس انتظامیہ پرزوردیا ہے کہ ملائشین لوگوں کی11کروڑ ڈالر تک کی وہ رقم واپس کی جائے جس کاتعلق ملائشیاکی ریاستی سرمایہ کاری کے کرپشن سکینڈل سے ہے۔

اگر یہ ممالک اپنی رقم واپس منگوانے کے لیے کام کر سکتے ہیں تو پاکستان میں قائم ”ایسٹ ریکوری یونٹ“ یہ کام کیوں نہیں کر سکتا۔ ہمیں شرمندگی سے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے کہنے پر سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی قربان ہوگئے تھے مگر انہوں نے سوئس حکومت کو خط نہ لکھا۔ یہ مخلصی ہے ہمارے سیاست دانوں کی۔ اُمید ہے موجودہ حکومت ریکوری کے لیے ہر اُس ملک سے رابطہ کرے گی جہاں پاکستانیوں کی غیر قانونی جائیدادیں موجود ہیں، اور یقینا اللہ انہیں سرخرو بھی کرے گا۔


ای پیپر