کنیزاہل بیتؓ،،، حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
16 اکتوبر 2018 (23:36) 2018-10-16

حافظ کریم اللہ چشتی:

حضرت فضہ ؓ شاہ حبشہ کی بیٹی تھیں۔ سرکارِ مدینہ کی لخت جگر بیٹی فاطمة الزہرا ؓ کی خادمہ تھیں۔ جنگ خیبرکے بعد7 ہجری میں سرکار مدینہ نے اپنی بیٹی سیدة النساءفاطمة الزہرا ؓ کو عطا کیا تھا۔ آپ ؓ زندگی کے آخری سانس تک خاندان رسول سے منسلک رہیں اور ایک وفادارکنیز ہونے کا حق ادا کر دیا۔ آپ ؓ کامل الایمان عورت تھیں۔ خاندان رسول میں بحثیت ایک خادمہ کے آئیں تھیں۔ لیکن اپنی نیک نفسی، حسن کردار اور محبت والفت کی بنا پر ہر شخص کے دل میں جگہ پیدا کر لی تھی ۔ ہر چھوٹا بڑا آپ ؓ سے خاندان کے ایک فردکی مانند محبت کرتا تھا۔

بعض روایتوں میں ہے کہ آپ ؓ کا اصل نام ”میمونہ“تھا۔ سرکار مدینہ نے ” فضہ “رکھا۔ اور کئی روایتوں میں قبولِ اسلام سے قبل آپ کانام ” فضہ النوبیہ“درج ہے۔ آپ ؓ حبش کی رہنے والی تھیں۔ نسلی اعتبار سے آپ ؓ حبشی تھیں اور صنفی اعتبار سے سیاہ فام کنیز تھیں۔ فضہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی چاندی کے ہیں۔ قرآن مجید فرقان حمید میں لفظ ”فضة“کا استعمال ان آیات مبارکہ میں یوں ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔” اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں کی) ایک جماعت ہو جائیں گے تو ہم ضرور رحمن کے منکروں کے لئے ان گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاںچاندی کی بنا دیتے جن پر وہ چڑھتے“۔ (سورة الزخرف)۔ سورة الدھر میںارشاد باری تعالیٰ یوں ہے۔” اور ان پر چاندی کے برتنوں اورگلاسوں کے دَور ہوں گے جو شیشے کی طرح ہوں گے۔ چاندی کے شفاف شیشے جنہیں پلانے والوں نے پورے اندازہ سے (بھرکر) رکھا ہوگا“۔ ان آیات کے مفہوم کے لئے سورة الزخرف اور سورة الدھرکی تفسیرکا مطالعہ کریں۔ اس مضمون میں بطوردلیل یہ آیات درج کی گئی ہیں)۔

قرآن مجید فرقان حمیدکے ان مقامات پر”فضة“کے معنی چاندی کے ہیں۔ یہ ایک مفیددھات ہے جس سے زیورات بنائے جاتے ہیں۔

جس طرح بارگاہ رسالت مآب میں سیدنا ابوبکرصدیق ؓ آئے تو”صدیق اکبرؓ، صداقت کا پیکر“، سیدنا عمرفاروق ؓ آئے تو”فاروق اعظمؓ ،عدل ووفا کا پیکر“، سیدنا عثمان غنی ؓ آئے تو ”ذوالنورینؓ، شرم وحیا، سخاوت کا پیکر“، سیدنا علی المرتضیٰ ؓ آئے تو ” شیر خداؓ ، شجاعت کا پیکر“ بن کر نکلے۔ اسی طرح سرکار مدینہ کے عنایت کردہ نام سے حضرت ابوہریرہ ؓ نے شہرت پائی“ سرکار مدینہ کی نظرکرم ہونے کے بعد حضرت فضہ ؓ کے سیاہ فام ہونے کے باوجود انہیں چاندی بنا دیا اور روشن ضمیرکر دیا۔

ارشادباری تعالیٰ ہے۔” اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کوکھاناکھلاتے ہیں“۔ (سورة الدھر)

شان نزول! یہ آیت کریمہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ، سیدة النساءفاطمة الزہراؓ اورآپؓ کی کنیزحضرت فضہ ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔ حضرت حسن ؓ وحضرت حسین ؓ بچپن میں ایک مرتبہ بیمارہوگئے تو حضرت علی المرتضیٰ ؓ، حضرت فاطمة الزہرا ؓاور حضرت فضہ ؓ نے ان شہزادوں کی صحت کے لئے تین روزوں کی منت مانی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں شہزادوں کو شفا دی۔ جب نذرکے روزوں کو ادا کرنے کا وقت آیا تو سب نے روزے کی نیت کر لی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ ایک یہودی سے تین صاع جولائے۔ ایک ایک صاع تینوں دن پکایا لیکن جب افطارکا وقت آیا اور تینوں روزہ داروں کے سامنے روٹیاں رکھی گئیں تو ایک دن مسکین، ایک دن یتیم اورایک دن قیدی دروازے پر آگئے اور روٹیوں کا سوال کیا تو تینوں دن سب روٹیاں سائلوں کو دے دی گئیں اور صرف پانی سے افطارکرکے اگلا روزہ رکھ لیا گیا۔ ( حضرت فضہ ؓ سیدہ فاطمة الزہراؓ کی خادمہ تھیں)۔ (تفسیرخزائن العرفان سورة الدھر)۔

ابوموسی ؒ نے ذیل میں اور ثعلبی ؒ نے سورة ”ھل اَتیٰ“کی تفسیر میں عبداللہ ابن عبدالوہاب خوارزمی کے طریق سے جو اخف کے چچازاد ہیں، انہوں نے احمد بن حماد مروزی سے، انہوں نے محبوب بن حمید سے اور ان سے روح بن عبادہ نے سوال کیا، انہوں نے قاسم بن بہرام سے، انہوں نے لیث بن ابوسلیم سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ”وہ نذروں کوپوراکرتے ہیں “روایت کیا، فرماتے ہیں حضرت حسن ؓاور حسین ؓ بیمار ہوئے تو ان کے دادا، آپ نے اور اہل عرب نے ان کی عیادت کی، انہوں نے ان کے والد سے کہا اگر آپ نذر مان لیں ؟ آپؓ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ جب انہیں شفا دیں گے میں شکرانے کے تین روزے رکھوں گا۔ سیدة النساءسیدہ فاطمة الزہراؓ نے بھی یہی فرمایا اوران کی کنیز جنہیں فِضّہ نُوبیہ کہا جاتا ہے، نے بھی یہی فرمایا۔ پھرطویل حدیث ذکرکی۔ ذہبیؒ فرماتے ہیں ”یہ موضوع ہے “ اور جو انہوں نے کہا یہ بات بعید نہیں۔ (الاصابہ فی تمیزالصحابہ)۔

علامہ حافظ ابن حجرعسقلانی ؒ نے الاصابہ فی تمیزالصحابہ کی جلد 8 میں لکھا ہے کہ سرکارِ مدینہ نے حضرت فضہ ؓ کو ایک دُعا سکھائی تھی جو دُعا وہ اکثرکرتی تھیں۔ آپ ؓ بلاشبہ خانہ زہراؓ میں ایک خادمہ کی حیثیت سے داخل ہوئیں لیکن بہت جلد ایک شہزادی کا مقام حاصل کیا۔

علامہ حافظ ابن حجرعسقلانی ؒ نے الاصابہ فی تمیزالصحابہ جلد8 میں لکھاہے کہ”کانت شاطرةالخدمة“ حضرت فضہ ؓ جلدکام کرتی تھیں ، پھر بھی خاتون جنت ؓ نے تمام کام کا بار حضرت فضہ ؓ پر نہیں ڈالا تھا بلکہ باری مقررکر دی تھی۔ ایک دن سیدہ فاطمة الزہراؓ اور دوسرے دن حضرت فضہ ؓ کام کیا کرتی تھیں۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اگر دوکام ہوتے تھے تو اس میں حضرت فضہ ؓ کو اختیار ہوتا تھا کہ جوکام دل آئے کریں ۔ ایک دن سیدہ فاطمة الزہراؓ نے فضہ ؓ سے فرمایا” کیا تم آٹا گوندھوگی یا روٹی پکاﺅگی؟ حضرت فضہ ؓ نے کہا۔ اے میری مالکن! میں آٹا گوندھوں گی اور ایندھن کے لئے لکڑیاں لاﺅں گی۔ آپؓ گئیں اور لکڑیاں جمع کیں، آپؓ کے ہاتھوں میں لکڑیوں کا گٹھا تھا، آپؓ نے اسے اُٹھانا چاہا لیکن اُٹھا نہ سکیں۔ پھر آپؓ نے ان کلمات کے ذریعے دُعا کی جو حضور نبی کریم نے سکھائے تھے۔ وہ یہ ہیں: ترجمہ”اے اکیلے اللہ ! اس جیسا کوئی نہیں تو ہر ایک کو موت دے گا اور ہر ایک کو فنا کرے گا۔ وہ اپنے عرش پر تنہا ہے اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند“۔ ایک اعرابی آیا اوراس نے لکڑیوں کا گٹھا اُٹھایا اور سیدہ فاطمة الزہراؓ کے دروازے تک پہنچادیا۔ (الاصابہ فی تمیزالصحابہ)

حضرت فضہ ؓ کیمیاگری میں ماہر تھیں۔آپ ؓ جب سیدہ فاطمة الزہراؓ کے خانہ اقدس میں آئیںاور ان کی ظاہری غربت وافلاس کو دیکھا تو اکسیرکا ذخیرہ نکالا اور تانبے کے ٹکڑے پر اس اکسیرکو استعمال کیا جس سے تانبا بہترین سونا بن گیا۔ آپ ؓ اس کو لے کر امیرالمومنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ سیدنا علی المرتضیٰ ؓ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اے فضہ ؓ! تم نے بہترین سونا بنایا ہے لیکن اگر تم تانبے کو پگھلادیتیں تو اس سے زیادہ بہترین سونا بن جاتا۔آپ ؓ نے تعجب کرتے ہوئے عرض کیا۔ یا امیرالمومنین ؓ ! کیا آپ ؓ اس فن سے واقف ہیں؟ حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے اپنے بیٹے سیدنا حضرت امام حسین ؓ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ علم تو ہمارا یہ بچہ بھی جانتاہے۔ پھرآپ ؓ نے فرمایا، اے فضہ ؓ ! ہم تمام علوم سے واقف ہیں۔ اس کے بعد آپ ؓ نے ارشاد فرمایا اور زمین کا ٹکڑا بہترین سونے اور جواہرمیں تبدیل ہوگیا۔ پھرآپ ؓ نے ارشاد فرمایا” فضہ مالھذاخلقنا“اے فضہ ؓ ! ہم اس کے لئے پیدا نہیں کیے گئے ۔ (مشارق الانوار)

آپ ؓ کوسیدة النساءفاطمة الزہراؓ سے والہانہ محبت تھی۔ حضرت فضہ ؓ جب شہزادی کونین، خاتون جنت سیدہ فاطمة الزہراؓ کی خدمت میں آئیں تو اس وقت غیر شادی شدہ تھیں اور جب تک سیدة النساءفاطمة الزہراؓ زندہ رہیں تب تک حضرت فضہ ؓ نے شادی نہیں کی ۔ حضرت فاطمة الزہراؓ کی وفات کے بعد حضرت علی المرتضیٰ ؓ کے اصرار پر رضا مندی ظاہرکی، چنانچہ آپ ؓ کی شادی ابوثعلبہ بن حبشی ؓ سے کردی گئی۔ اس شادی سے ایک لڑکا پیدا ہوا اور پھر ثعلبہ ؓکا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ نے حضرت فضہ ؓ کا نکاح ابو سلیک غطفانی سے کر دیا تھا۔آپ ؓ کے ایک بیٹی اور چار بیٹے تھے ۔ بعض ایل سیر نے لکھا ہے کہ حضرت فضہ ؓ کی ایک لڑکی (مسکہ) اور پانچ لڑکے تھے۔ آپ ؓ حضرت زینب بنت علی ؓ کی رحلت کے چند سال بعد120سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔ شام میں دمشق کے قریب باب الصغیر نامی قبرستان میں ایک قبر” فضہ “کے نام سے منسوب وموجود ہے جو عبداللہ بن جعفربن ابی طالب ؓسے منسوب قبر سے تھوڑا آگے کی طرف اور قبرستان کے مغربی حصہ کے آخر میں واقع ہے۔ قبر پر ایک حجرہ اور چھوٹا سا سبزگنبد موجود ہے۔

٭٭٭


ای پیپر