کوروناوائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کر گئی
16 نومبر 2020 (19:42) 2020-11-16

سکولوں میں چھٹیاں، مزار، سنیما اور تھیٹر بند کرنے کی تجویز

منصور مہدی:

 پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور یومیہ کیسز گزشتہ کئی ماہ کے مقابلے میں بڑھ گئے ہیں۔یہی نہیں بلکہ اموات کی شرح میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے۔ بیشتر شہروں کے متعدد مقامات پر سمارٹ لاک ڈائون نافذ کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ نیشنل کمانڈ کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں کووڈ 19 کی دوسری لہر کے خدشے کو مد نظر رکھتے ہوئے اور وائرس متاثرین کے اضافے کو روکنے کے لیے بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی کی تجویز دے دی۔این سی او سی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی اسد عمر کی صدارت میں ہوا جس میں ملک اور خاص طور پر تعلیمی اداروں سے حاصل ہونے والے کووڈ 19 کے کیسز سے متعلق اعدادوشمار کا جائرہ لیا گیا۔اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ 12 اکتوبر اور 3 نومبر کو این سی او سی کی جانب سے بڑے عوامی اجتماعات اور بیرونی سرگرمیوں پر پابندیوں کی تجویز دی تھی جس کے بعد سے اب تک وائرس کے متاثرین میں 3 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے تمام فریقین کی جانب سے اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آسکا۔ اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں میں بھی کورونا وائرس کے کیسز میں واضح شرح سے اضافہ سامنے آرہا ہے اور اس رجحان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ این سی او سی اجلاس کے شرکا نے فیصلہ کیا کہ 16 نومبر کو وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود، این سی او سی میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کریں گے اور وہ تمام صوبائی وزرا تعلیم کو تعلیمی اداروں میں کیسز کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اعتماد میں لیں گے۔

جبکہ تمام عوامی اجتماعات، جن میں سیاسی، مذہبی، ثقافتی، اور سول سوسائٹی کے جلسے شامل ہیں، ان میں عوام کی تعداد کو 500 تک محدود کیا جائے اور اس سے زائد کی شرکت پر پابندی لگا دی جائے۔ وفاقی اور صوبائی وزرا تعلیم کی مشاورت کے بعد موسم سرما کی قبل از وقت تعطیلات دینے اور اس میں اضافے سے متعلق فیصلوں پر عمل کیا جائے۔رات میں 10 بجے کے بعد ریسٹورانٹس میں کھانے اور یہاں سے گھر لے جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔دیگر تجاویز کے مطابق مزاروں، سینما اور تھیٹرز کو فوری طور پر بند کردیا جائے۔مارکٹس کو محفوظ دنوں میں جلد بند کردیا جائے۔

واضح رہے کہ ملک میں جہاں ایک طرف 3 ماہ سے زائد کے وقفے کے بعد کووڈ 19 کیسز کی مثبت شرح ایک مرتبہ پھر 5 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے وہیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو گزشتہ روز بتایا گیا تھا کہ مختلف شہروں میں لیبارٹریز کی جانب سے یومیہ مصدقہ کیسز 16 فیصد سے بڑھ گئے ہیں۔سب سے زیادہ مصدقہ کیسز میں اضافہ آزاد جموں اور کشمیر میں دیکھا گیا جہاں یہ 16.71 فیصد تھا، اس کے علاوہ بلوچستان میں 8.71 فیصد، سندھ میں 5.39، پنجاب میں 4.46 فیصد اور گلگت بلتستان میں 3.24 فیصد تک کیسز بڑھ گئے، مزید یہ کہ اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں کیسز میں بالترتیب 4.92 فیصد 4.61 فیصد تک کمی ہوئی۔قبل ازیں 29 اکتوبر کو وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 70 دنوں بعد ملک میں کووڈ 19 کی مثبت شرح 3 فیصد سے زیادہ ہوگئی تھی۔ پاکستان میں جون میں سب سے زیادہ مثبت شرح دیکھی گئی تھی اور یہ مئی کی 6 فیصد کے مقابلے میں 23 فیصد تک پہنچ گئی تھی، تاہم ستمبر میں مثبت شرح کم ہوکر 1.7 فیصد تک آگئی تھی۔

 اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ ٹیسٹ پر ملین پاپولیشن (آبادی میں فی 10 لاکھ پر ٹیسٹ کی شرح) کے حساب سے اسلام آباد سب سے اوپر ہے جہاں 2 لاکھ 68 ہزار 736 ٹیسٹس پر ملین پاپولیشن (26.87) فیصد کیے گئے۔اس کے علاوہ دیگر علاقوں اور صوبوں میں سندھ ٹیسٹ کرنے کے اعتبار سے پہلے نمبر پر رہا، سندھ میں 36 ہزار 347 ٹیسٹس پر ملین پاپولیشن ( 3.63فیصد) کیے گئے،، اس کے بعد گلگت بلتستان میں 32 ہزار 69 ٹیسٹس پر ملین پاپولیشن ( 3.20 فیصد) کیے گئے۔اسی طرح آزاد کشمیر میں 16 ہزار 804 ٹیسٹس پر ملین پاپولیشن ( 1.68 فیصد)، پنجاب میں 15 ہزار 357 ٹیسٹس (1.53 فیصد) فی ملین پاپولیشن، خیبرپختونخوا میں 16 ہزار 679 ٹیسٹس ( 1.46 فیصد) اور بلوچستان میں 10 ہزار 917 ٹیسٹس (1.09 فیصد)کیے گئے۔این سی او سی کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کووڈ 19 کے فعال کیسز میں گزشتہ صرف 8 ہفتوں میں 14 ہزار سے زائد بڑھ گئے۔10 نومبر تک ملک میں کورنا وائرس کے فعال کیسز 20 ہزار 45 تھے جو 14 ستمبر کو 5 ہزار 831 تک پہنچ گئے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر بتدریج شروع ہوچکی ہے۔ کورونا سے اموات میں بھی اضافہ ہورہاہے جبکہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح ڈھائی سے  پونے تین فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق کورونا وبا کی دوسری لہر کی وجہ سے پابندیوں کو سخت کرنا ناگزیر ہوتا جارہا ہے، کاروباری سرگرمیوں اور تقریبات کے اوقات کار میں کمی کے لیے مشاورت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے ایک دو روز میں واضح سفارشات سامنے آجائیں گی، کل تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد سفارشات سامنے لائیں گے۔فیصل سلطان نے کہا کہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جیسی احتیاط ضروری ہے وہ نہیں کی جارہی، پابندیوں میں سختی کرنا ناگزیر نظر آرہا ہے، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اضافی سختی کی جائے گی۔ معاون خصوصی برائے صحت نے مزید کہا کہ مقامی سطح پرپابندیوں کی خلاف ورزی پرجرمانے بھی ہوں گے، پابندیاں اور سختیاں حکومت نہیں کرنا چاہتی لیکن اگر ہم ایس او پیز پر عمل اور احتیاط کریں  گے تب ہی وباکی دوسری لہر کو ختم کرسکیں گے۔

یورپی ممالک میں بھی کورونا وائرس کی نئی لہر میں مزید شدت دیکھی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یورپ میں ایک ہفتے کے دوران سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں 44 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف گزشتہ24 گھنٹوں میں براعظم یورپ کے ممالک میں ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد کیسز اور 1100اموات ریکارڈ کی گئیں۔زیادہ تر یورپی ممالک کی حکومتوں نے وبا سے نمٹنے کے لیے  سخت اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔فرانس میں کورونا کی وبا شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 35 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ ایک نیا یومیہ ریکارڈ ہے۔فرانسیسی حکام نے بیماری کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک میں دوبارہ ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔دارالحکومت پیرس میں رات نو بجے سے لے کر صبح چھ بجے تک کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ کرفیو کے دوران شہریوں کو کسی انتہائی ضروری وجہ کے بغیر گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ ضروری وجوہات میں کام پر جانا، میڈیکل ایمرجنسی اور طویل دورانیے کے سفر کے لیے ایئرپورٹ یا ٹرین اسٹیشن تک جانا شامل ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہر ممکن تعاون کریں۔ چانسلر میرکل نے یہ اپیل اپنی ہفتہ وار پوڈکاسٹ میں کی۔میرکل نے کہا کہ اس وقت جرمنی 'انتہائی سنجیدہ‘ صورت حال سے گزر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے اس وقت ہر گزرتا دن اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ موجودہ صورت حال میں وہ غیر ضروری سفر اور میل ملاقات سے ممکن حد تک اجتناب کریں۔جرمنی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی ریکارڈ یومیہ تعداد سامنے آ رہی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قریب آٹھ ہزار کیسز سامنے آئے، جب کہ مارچ میں زیادہ سے زیادہ یومیہ تعداد قریب چھ ہزار رہی تھی۔

 یومیہ کیسز کے حوالے سے بھارت دنیا بھر میں سر فہرست ہے۔ بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 62 ہزار نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد تقریبا 75 لاکھ ہو گئی ہے۔بھارت دنیا میں امریکا کے بعد کورونا وائرس کی وبا سے دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔

واضع رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں 4 کروڑ 59 لاکھ 56 ہزار 283 افراد متاثر اور 11 لاکھ 94 ہزار 549 ہلاک ہو چکے ہیں۔کورونا سے صحتیاب افراد کی تعداد 3 کروڑ 32 لاکھ 75 ہزار 706 ہو گئی ہے اور ایک کروڑ 14 لاکھ 86 ہزار 28 ایکٹیو کیسز ہیں۔امریکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے جہاں اموات کی تعداد 2 لاکھ 35 ہزار سے زائد اور متاثرہ افراد کی تعداد 93 لاکھ 18 ہزار 43 تک پہنچ چکی ہے۔بھارت کورونا کیسز کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں اموات کی تعداد ایک لاکھ 21 ہزار 681  ہو گئی جبکہ 81 لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔برازیل میں کورونا سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 59 ہزار 562 ہو گئی جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 55 لاکھ 19 ہزار سے زائد ہے۔روس میں 16 لاکھ 18 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور اموات کی مجموعی تعداد 27 ہزار 990 ہوگئی ہے۔اسپین میں 12 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں جبکہ 35 ہزار878 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ فرانس میں13 لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد متاثر اور36 ہزار 565 جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ارجنٹائن میں بھی 11 لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں اور 30 ہزار 792 اموات ہوئی ہیں۔ کولمبیا میں 31 ہزار سے زائد اموات ہوئی ہیں جبکہ10 لاکھ 63 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔دنیا میں کورونا سے پہلی ہلاکت 11 جنوری2020 میں چین میں رپورٹ ہوئی۔ 9 اپریل کو کورونا سے مجموعی اموات کی تعداد ایک لاکھ ہوگئی تھی۔ کورونا سے پہلی ایک لاکھ اموات ابتدائی89 روز میں رپورٹ ہوئیں۔


ای پیپر