Pakistan's religious parties
16 نومبر 2020 (23:40) 2020-11-16

انٹرویو : منیزے معین

 اگر عمران خان کوئی مثبت کام کرتے ہیں اور پاکستان کیلئے کچھ اچھاکرتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن اگرکوئی کام جو آئین اور قانون کے خلاف ہویا عوام پسندنہ کرے تو اس پر ہم مختلف رائے رکھتے ہیں،ہماراکام راستہ دکھانا اور مثبت تنقیدکرناہے۔سمیع الحق شہید صاحب کے بڑے صاحبزادے حامد الحق حقانی صاحب، چیئرمین دفاع پاکستان کونسل، مرکزی امیرجمیعت علماء اسلام پاکستان، نائب مہتمم دارالعلوم حقانیہ کیساتھ روزنامہ نئی بات کی گفتگو قارئین کی نظر ہے۔

حکومت وقت کے ساتھ آپ کے والد کے تعلقات بہت اچھے تھے کیاکارکردگی سے مطمئن ہیں؟

موجودہ حکومت جن وعہدوںکی بنیاد پر اقتدار میںآئی تھی وہ دو سال کے دوران تاحال ڈیلیورنہ کرسکی ہے۔ جو حکومت کرناچاہیے تھا، عالمی طاقتوں کا دباؤہے شاید، جس کے باعث حکومت اپنے ارادوں میںکامیاب نہیںہو پارہی ہے۔ میرے والد کی 83سال عمر تھی یعنی ایک لمباعرصہ انہوںنے پاکستان کی سیاست کو دیکھا ہے، مولانا سمیع الحق صاحب کو عمران خان کے نعروں میںامید کی کرن دکھائی دیتی تھی۔ ہماری جماعت کے ساتھ بہت سی زیادتیاںہوئی تھیں، انتخابات کے موقع پر بھی ہماری جماعت کوسائیڈ پر رکھاگیا جس کے باعث ہمارے لوگ پارلیمنٹ میںنہ پہنچ سکے لیکن اس کے باوجود میںسمجھتاہوںکہ اگر عمران خان کوئی مثبت کام کرتے ہوئے اگرپاکستان کیلئے کچھ اچھاکرتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن اگرکوئی کام جو آئین اور قانون کے خلاف ہویا عوام پسندنہ کرے تو اس پر ہم مختلف رائے رکھتے ہیں،ہماراکام راستہ دکھانا اور مثبت تنقیدکرناہے۔ 

آپ کے والد محترم نے دین کی سربلندی کیلئے کام کیا؟کیاآپ بھی ان مقاصد کیلیے کام کریںگے ؟

ہمارے آباؤ اجداد بشمول میرے دین کی بلندی کیلیے کام کرتے ہیں۔ ہم پاک سیاست کرتے ہیں جو مفادات اور دنیاوی مقاصد سے پاک ہوتی ہے۔  میرے والد سمیع الحق صاحب کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کو پر نہیںکیا جا سکتا لیکن جو کام وہ کر رہے تھے ہم اسی کوآگے بڑھائیںگے۔

کیا دہشتگردی کے خاتمے کیلیے پاکستان کی موجودہ پالیسی اطمینان بخش ہے؟

عالمی سطح پر پاکستان کی جانب سے جو بھی امن کی بحالی کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں و ہ اطمینان بخش ہے لیکن اندرونی معاملات میںبہت توجہ کی ضرورت ہے۔ ہم ماضی کی طرح بند ہوگئے ہیں  دوسری جانب دیگرکارروائیاںدیکھنے میں آ رہی ہیں۔ حال ہی میں موٹر وے پر ہونے والا  زیادتی کا واقعہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ 

بڑے بڑے گینگز، شرابی، ڈاکو، جرائم پیشہ موجود ہیں جنہیںلگام ڈالنے کی فوری ضرورت ہے۔  آج ہمارا ملک بے راہروی کا شکار ہو چکا ہے، یہ کس نہج پر چل رہا ہے، جہاں عدل و انصاف اور مساوات نہیںہے۔ پاکستان کو اپنی ملکی اور بین الاقوامی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تب ھی ہم پر امن اور ریاست مدینہ کا نفاذ کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے سعودیہ سے تعلقات میںکس طرح بہتری لائی جا سکتی ہے؟

سعودیہ اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہے اور ہر مشکل میں یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مذہبی اور نظریاتی حوالے سے ان دونوں ممالک کے تعلقات قابل احترام ہیں۔ امت مسلمہ کی حیثیت سے اگرچھوٹے چھوٹے مسائل پر مختلف ممالک میں تلخی پیدا تو یہ اچھی بات نہیں ہے۔

اسلامی دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت کیا پاکستان میں موجود ہے؟

اسلام سلامتی کا مذہب ہے جو ہمیں سب کے ساتھ رواداری کا درس دیتاہے۔ پاکستان میںبھی بلا شبہ یہ صلاحیت موجود ہے پاکستان میںبڑے بڑے لیڈر ہیں جو سیاسی سوچ رکھتے ہیں لیکن عالمی سطح پر پہنچنے کیلئے ان میں خلوص پیداکرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میںمذہبی جماعتیں جو کردار ادا کر رہی ہیںکیا اس سے ملک میںہم آہنگی پیدا ہوگی؟

مذہبی جماعتوں کی جانب سے کوشش تو کی جاتی ہے ہر دور میں، یہ کوشش بھی کی گئی کہ وہ حکومتی سطح پر ابھرکرسامنے آئیں لیکن انتخابات میں ان کوناکام بنا دیا جاتا ہے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ سب ایک پیج پر نہیںہے۔ جب مقصود اور مطلوب صرف انسانوں کی فلاح  ہو تب حقیقی کامیابی ہوگی۔ تبھی سب درست راہ پر گامزن ہوںگے۔  قوم کا امام ہونے کے لیے آپسی اختلافات کا ختم ہونا بہت ضروری ہے۔

کیاپاکستانی مدارس کے نصاب میں ترمیم کی ضرورت ہے؟

دینی تعلیم کو یونیورسٹی کالج کے طلباء میں بھی عام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تو ہر دور میںہوتا رہا ہے اور پرویز مشرف کے دور میں بھی تر امیم کی گئیں۔ یہ سب چودہ سو سال سے چلا آ رہا ہے۔  تعلیمی نصاب کی جہاںتک بات ہے اس میں اختلافات ہیں لیکن ان کو دور کیا جا سکتا ہے بیٹھ کر اس پر مشاورت کی جا سکتی ہے۔ تمام مسالک کے اپنے اپنے بورڈ ہیں اور وہ ان پر بات بھی کرتے ہیں۔

زیادتی کے بعد قتل اور زنا کی شرح میں اضافہ ہو  رہا ہے۔  قرآن اور سنت کی روح کے مطابق ان جرائم کی کیا سزا ہے؟

قرآن و سنت کی روح کے مطابق عورت جو اس زیادتی کا شکار ہو جائے اس کی زندگی تو اسی وقت ختم ہو جاتی ہے ایسے جیسے اسے زندہ جلا دیا گیا ہو۔  وہ کس طرح اس دنیا کا مقابلہ کرے گی لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ آج کے دور میں بھی اس عمل پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ رہا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا قصور ہے۔ جو اس گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ان کو سنگسار کر دینا چاہیے اور سو کوڑے مارنے چاہئیں۔

اگر سزا دینے کا طریقہ کار یہ ہوا تو میں حلفاً یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگلے بیس سال تک اس طرح کا جرم کرنے سے پہلے ہر شخص ہزار بار سوچے گا۔ کالے قوانین کو بدلنے کی ضرورت ہے اور اسلامی قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر