ایک قوم ، ایک نصاب اور ایک کتاب کا دلکش خواب!
16 نومبر 2020 (11:48) 2020-11-16

تبدیل کاروں نے اپنے ایک سیاسی نعرے کو آزادی کے دن نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس دلفریب اور پرکشش نعرے کے اچانک اور فوری نفاذ سے پاکستان کے تعلیمی نظام کی تباہی، درسی کتب کی اشاعت کے ذمہ دار نجی اداروں کی بربادی اور ان سے وابستہ لاکھوں تدریسی ماہرین، دانشوروں اور دیگر محنت کشوں کو بیروزگاری کے مایوس کن اندھیروں کا شکار ہونا پڑے گا۔جس ملک کے عوام کو شب و روز شدید معاشی ناہمواری اور مشکلات، ریاستی جبر و استبداد، عدالتی ناانصافی ، مذہبی فرقہ پرستی، لسانی تعصب ، علاقائی کشمکش، سیاسی چپقلشوں اور انتظامی لوٹ مار کا سامنا ہو، کیا ایسے فرسودہ و ظالمانہ نظام اور اس کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائے بغیر، چند مہینوں میں مرتب کردہ یکساں نصاب تعلیم کے فوری نفاذ سے عوام کے دکھوں کا علاج اور ایک باوقار و تعلیم یافتہ قوم کی تشکیل ہو پائے گی؟ 

محترم وزیراعظم! اگر آپ واقعتا مدینے کی ریاست کو رول ماڈل سمجھتے ہیں تو پھر آپ کو اس عظیم مدنی ریاست کی خالق ان عظیم ہستیوں کے کردار و اعمال کا بھی بغور مطالعہ کرنا ہو گا۔ آپ کو اپنی ذات کے دائرے سے نکل کر اپنی سوچ کو ’’ادھورے سچ‘‘ کے بجائے ’’مکمل سچ‘‘ کے اصولوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے کہ لمحوں کی جذباتی، سیاسی خطائیں اور غفلتیں صدیوں کیلئے عذاب مسلسل بن جاتی ہیں۔ تاریخ میں جتنے بھی راہ نما امر ہوئے ہیں انہوں نے اپنی اجتماعی جدوجہد کا آغاز ہی اپنی ذات کی نفی سے کیا اور زندہ و جاوید اقوام کی بنیادیں رکھیں۔جہاں عوام کو 73 برسوں میں صاف پانی اور کتوں کے کاٹنے کی دوا تک میسر نہ ہو، جس ملک کے حکمرانوں کو کبھی یہ خیال تک نہ گزرا ہو کہ عوام کو ان کی بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنا ان کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ جس معاشرے میں بھوک، ننگ اور دیگر معاشی مشکلات میں گھرے انسانوں کو آئے دن مذہبی تفرقہ بازی اور معاشرتی شرانگیزی کا سامنا ہو۔ جس ملک کے پسماندہ علاقوں میں جاگیردارانہ بالادستی کے زیرسایہ انسانیت بال کھولے سو رہی ہو۔ جس دھرتی میں ملائیت مجبور اور بے کس انسانوں اور دکھوں کو قسمت کا لکھا اور کرپشن زدہ امارت کو خدا کی دین قرار دے کر اپنے زمینی ناخدائوں کی خدمات انجام دے رہی ہو۔ جس سماج میں سوال کرنے والوں پر کفر کے فتوے اور فکر و نظر کی آزادی پر غداری کے الزامات لگائے جانے کا رواج تمام تر اخلاقی اور علمی حدود سے تجاوز کر جائے۔جس معاشرے میں ‘‘ذہنی پسماندگی‘‘ اور ’’انسانی غلامی‘‘ جہالت کے ظلمت کدوں کا ایندھن بنا دی گئی ہو۔ جس ملک کے سرمایہ دار طبقات حکومتی اور انتظامی گٹھ جوڑ کے ذریعے محنت اور سمایہ کاری کے بجائے کرپشن پر انحصار کریں اور ملک کو دیوالیہ پن کا شکار بنا کر ‘‘معززین شہر‘‘ کہلائیں۔ پاک سرزمین کو مافیائی 

اشرافیہ کے قبضے نے نفرت،سازش، منافقت، موقع پرستی اور لوٹا کریسی کے کلچر کی نذر کر دیا ہو۔ جہاں آمریت کے بت کدے سے برآمد شدہ طالع آزمائوں نے ملک کو پروکسی وار میں دھکیلنے کے بزدلانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلے کئے ہوں اور اپنی جغرافیائی حدود کو سامراجی افواج کی آماجگاہ بنا کر اپنی آزادانہ خارجہ پالیسی کو داغدار بنا دیا ہو۔ جس ملک می اقتدار کی غلام گردشوں میں پیدا ہونے والی انسان دشمن مخلوقات ہر دور اقتدار میں پراسرار خاموشی سے شامل ہو کر اپنے سامراجی آقائوں کے ایجنٹوں کے زیراثر عوامی راہ نمائوں سے عوام دشمنی پر مبنی فیصلے کرا کر سیاسی عمل، عوامی قیادتوں اور جمہوری تسلسل کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر کے ملک پاکستان کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرنے کے جرم میں ملوث ہوں، کیاوطن عزیز کو ایسے سازشی عناصر سے پاک کرنے میں مجوزہ نظام تعلیم کوئی فعال، موثر اور جاندار کردار ادا کر سکتا ہے؟ جس دھرتی کا اقتصادی ڈھانچہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ایما پر غیر منتخب معاشی ماہرین کے سپرد کر دیا جائے جن کی پالیسیوں کی بدولت روپے کی قدر افغانستان جیسے پسماندہ ممالک کی کرنسی سے بھی زیادہ بے قدری کا شکار بنا دی جائے اور مہنگائی کی شرح آسمان کو چھونے لگے، شہری دربدر کے دھکے کھانے کے بعد خودکشی کرنے پر مجبور ہو جائیں، کیا وہاں نظام تعلیم کی تبدیلی سے کچھ حاصل ہو سکتا ہے؟ محترم وزیراعظم! یہ وہ چند کربناک حالات ہیں جو پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اور باشعور پاکستانیوں کے قلب و روح میں بے چینی و بے قراری پیدا کرنے کا سبب ہیں۔

ان زمینی حقائق کے تناظر میں ہم آپ کے سامنے چند معروضات پیش کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ آپ کی طبع نازک پر گراں نہیں گزریں گے۔ آپ کو یہ چاہئے کہ کسی بھی عوامی و قومی نوعیت کی منصوبہ بندی کو پالیسی سازی کا جامہ پہنانے سے قبل صرف افسر شاہی پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ عوام میں موجود اپنے اور ملک کے خیرخواہوں اور متعلقہ شعبے کے سرمایہ کاروں اور محنت کشوں پر بھی بھروسہ کرتے ہوئے ان سے بھی رابطوں اور مشاورت کا اہتمام ضرور کیا جائے۔ اس طرح اتفاق رائے سے تکمیل پانے والے منصوبے ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی کے لئے سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں اور عوام میں آپ کی مزید پذیرائی ا ور مقبولیت کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔یہ اشرافیہ ہی ہے جس نے وطن عزیز کی 90%آبادی کے حقوق کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسی مافیا اور اس کے حواریوں نے ملک میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ پاکستان کے تمام وسائل انہی کی دہلیز پر سجدہ ریز دکھائی دیتے ہیں۔ تاریخ، عصر حاضر اور عوام کی حالت زار اس بات کی گواہ ہیں کہ ان کے طرزحکمرانی نے آج تک ملک و قوم کو ذلت و رسوائی، غربت و افلاس، ہلاکت و فلاکت، خلفشار اور انتشار اور انارکی و پراگندگی کے سوا کچھ عطا نہیں کیا۔ عوام کا اضطراب اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب آپ بھی سپنوں کی تعبیر اسی ناپاک اشرافیہ کے عوام دشمن کل پرزوں کے ذریعے پوری کرانے پر بضد نظر آتے ہیں یہی بنیادی تضاد ہے جس کی وجہ سے آپ کے عوام دوستی پر مبنی خواب شرمندئہ تعبیر ہونے کے بجائے عوام دشمنی کا روپ دھار لیتے ہیں۔

محترم وزیراعظم! ہمارے خیال میں اب بھی وقت باقی ہے اسے غنیمت جانتے ہوئے اگر آپ عوام کو ذلتوں کے عذاب سے نجات دلانے اور ملکی سلامتی و بقا کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو آپ کو اقتدار کی غلام گردشوں کے حصار سے نکل کر اس دھرتی کی ماتم کناں تاریخ کے مجرموں کو بلاتخصیص کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ازسرنو عوامی اور جمہوری جدوجہد کا آغاز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آخر میں ہم آپ کے سامنے یکساں نصاب تعلیم اور ایک سرکاری کتاب کے غیر مناسب فیصلے کے حوالے سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یکساں نصاب تعلیم کو 2021ء کے بجائے کم از کم دو سال مزید موخر کیا جانا چاہئے۔ اس دوران محب وطن اہل دانش سے تجاویز لی جائیں کہ اس نصاب تعلیم کو زمینی حقائق اور جدید تعلیمی تقاضوں سے کیسے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ اس عرصے میں نجی و سرکاری تعلیمی اشاعتی اداروں کے پاس موجود اربوں روپوں کی مالیت پرمشتمل کتب ضائع ہونے سے بھی بچ سکتی ہیں اور نجی پبلشنگ اداروں سے منسلک لاکھوں اہل علم و ہنر، تعلیمی ماہرین اور تکنیکی محنت کشوں کو بیروزگاری کے تکلیف دہ عمل سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ محترم جناب وزیراعظم یاد رہے کہ یہ آپ کے قومی قائدانہ کردار اور انسانی حقوق کے فرائض میں بھی شامل ہے۔ سرکاری تعلیمی بورڈز کو بدعنوان اور علم دشمن افسر شاہی کے چنگل سے آزاد کرا کر محب وطن اہل علم و دانش، تدریسی ماہرین، اہل فکر و نظر اور فہم و فراست کی حامل نابغہء روزگار شخصیات کی زیرنگرانی چلایا جائے تاکہ تعلیمی زبوں حالی، معاشی تنزلی، سماجی زوال اور اخلاقی اقدار کے فقدان کو روایت پرستی اور روایت شکنی کے بجائے روایت سازی 


ای پیپر