تم عمل کے لیے انتظار کرتے ہو!
16 نومبر 2019 2019-11-16

ہمارے لیے خوشخبری ہے! وزیراعظم نے فرمایا: ’معیشت مستحکم ہو گئی ہے‘۔ ساتھ ہی دوسرے سانس میں کہا: ’ہمارے پاس لوگوں پر خرچ کرنے کے لیے پیسہ نہیں ہے‘۔ اور عوام بیچارے اس خبر سے بھی کیا اخذ کریں کہ ’سٹاک مارکیٹ میں کاروباری حجم رواں برس کی بلند ترین سطح پر‘۔ عوام کی پہنچ سے تو سبھی کچھ باہر ہو گیا۔ روٹی، مستحکم معیشت سے لگا لگا کر کھائیں یا سٹاک مارکیٹ کے بلند حجم سے؟ کنجوس کا اچار یاد آ رہا ہے۔ وہ دستر خوان پر اچار کی بند بوتل رکھ دیتا تھا اور بچے بوتل سے روٹی لگا لگا کھاتے رہتے۔ ایک دن وہ گاؤں گیا۔ جاتے ہوئے بوتل الماری میں بند کر گیا۔ واپس آ کر بچوں سے پوچھا، تم نے اتنے دن روٹی کیسے کھائی؟ بچے بولے، الماری سے لگا لگا کر۔ اس پر باپ سیخ پا ہو گیا۔ کیا تم 4 دن اچار کے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے تھے؟ سو آج تبدیلی سرکار کے ہاتھوں عوام اسی حال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ 43 کھانے کی بنیادی اشیاء 22 فیصد مہنگی ہو گئیں۔ تنخواہ دار، دہاڑی دار طبقہ ہاتھوں میں بے وقعت نوٹ لیے تک رہا ہے کہ کیا خریدے کیا کھائے۔ ایسے میں (طعام کا) مینو وزیروں نے بنا دیا ہے۔ کراچی والوں کو ٹڈی دل نے آ لیا۔ صوبائی وزیر نے ٹڈی بریانی ، ٹڈی کڑاہی کا مفت مشورہ دیا۔ مگر ٹماٹر کہاں سے آئیں؟ مشیر خزانہ کی دکان پر 17 روپے کلو اور بازاروں میں اس وقت 300 روپے کلو مل رہے تھے۔ عبدالحفیظ شیخ یوں بھی آئی ایم ایف سے درآمد کردہ اٹکی اٹکی اردو بولنے اور عالمی ایجنڈے لاگو کرنے کے ذمہ دار ہیں، آٹے دال کا بھاؤ کیا جانیں! مگر حیرت تو دیسی وزیروں پر ہے۔ وزیر ہوا بازی نے ہوائی چھوڑی مٹر پانچ روپے کلو ہونے کی اور معاون خصوصی فردوس عاشق نے تائید فرمائی اس قیمت کی! (شاید وہ پانچ روپے میں ایک مٹرکا دانہ کہہ رہے ہوں؟) ٹڈی بریانی تک تو بات ہوئی، ہم شکر کریں کہ ڈینگی مچھر تل بھون کر آلو مچھر پکانے کا مشورہ نہیں دے دیا۔ انصافیوں سے تو کچھ بعید نہیں۔ یہ فرنچ شہزادوں، شہزادیوں کی حکومت ہے۔ فرانسیسی شہزادی نے محل کی بالکونی سے دھرنے، معاف کیجیے، احتجاج کناں بھوکے عوام کا منظر دیکھا تو کہا: ’روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھا لیتے‘۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ پھر شاہی خاندان نے گلوٹین کا منہ دیکھا۔ سریالگی گردنیں جس نے اڑا ڈالیں۔ حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں! جہاں چلغوزہ اب اتنا معتبر ٹھہرے کہ وہ منحنی سا کمزور جان ڈرائی فروٹ 8 ہزار روپے کلو ہو ۔ یعنی عجب نہیں کہ اب مہر ایک بوری چلغوزہ قرار پائے (تقریباً سوا پانچ لاکھ روپے) اور تنخواہ چلغوزوں میں طے ہونے لگے۔ گھریلو ملازم مہینہ بھر کی محنت کا صلہ 2 کلو چلغوزے پائے۔ یہ ہے ریکارڈ توڑ ترقی اور تبدیلی۔ کرپشن ختم کیا کی، عوام کی سانسیں سلب کر لیں۔ ہم نے سنا تھا سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ تجربہ اب ہو رہا ہے ۔ سیاست کے سینے میں دل اور کھوپڑی میں دماغ بھی نہیں ہوتا۔ صرف بے لحاظ، بے مروت تڑتڑاتی زبان ہوتی ہے۔ ہاتھوں میں نمک ہوتا ہے۔ عوام کے زخموں پر چھڑکنے کو۔ وہ حکومت جو راتوں رات تجاوزات کے نام پر مارکیٹیں ڈھا گئی۔ بیروزگاروں میں ریکارڈ اضافہ کیا۔ پلاسٹک کے لفافوں کو بیک جنبش قلم ختم کر دیا۔ مہنگائی کو 25 روپے لفافہ خریداری ٹیکس کا تڑکا لگایا، اس کی رٹ مہنگائی کنٹرول کرتے کیوں یک لخت صفر ہو گئی؟ عوام دشمنی پر کمربستہ یہ حکومت ہمارے گناہوں کی شدت کی خبر دیتی ہے۔ یہ بھی عذاب الٰہی کی ایک قسم ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اوپر کے عذاب کی تشریح میں ظالم حکمران اور نیچے سے عذاب کو خائن ملازمین بھی ارشاد فرمایا تھا۔ سو اجتماعی استغفار درکار ہے۔

اس دوران ہم نے پلیٹ میں رکھ کر 832 ایکڑ زمین سکھستان کے لیے دے دی۔ اب ڈرئیے اس دن سے جب بھارت کے وفادار سکھ اسے ویٹی کن کی طرح آزاد مملکت کا درجہ دینے کا مطالبہ کر بیٹھیں۔ ہم جو عالمی فدوی ثابت ہو چکے ۔ پہلے نیٹو سپلائز کے لیے مفت ملک کے طول و عرض کی سڑکیں گورے کے حوالے کیے رکھیں۔ اب بھارتیوں کو اپنی سرزمین تھما دی۔ سکھوں کی سرداری کا مقام تو بابا خان صاحب نے پا لیا! بابری مسجد قانوناً بھی ڈھے گئی۔ مندر فاتح ٹھہرا۔ اب باری پر تاج محل لگا ہے۔ کشمیر پر لاٹھی بھینس قانون کے نفاذ کے بعد اب سپین کی مانند زمین کشمیریوں پر تنگ کرنے کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے۔ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم نے تعلیمی اداروں میں ڈرامے، ٹیبلو اور قومی سطح پر فلم کا نذرانہ پیش کیا۔ اب تازہ ترین ہماری پیپسی نسل کی فخریہ پیش کش کشمیر پر بینڈ بھرا گانا ریلیز کیا ہے۔ پیپسی 'Battle of Bands' کے تحت۔ یہ پیپسی برگر نسل بینڈ باجوں کی جنگ لڑے جیتے گی۔ شکر ہے سائنس ٹیکنالوجی والے وزیر فواد چودھری کے مطابق دھرنا ختم ہوا (جان میں جان آئی) اس کا بیانیہ انتہا پسندی تھا۔ مذکورہ باجا گانا جہاد کی انتہا پسندی کی جگہ پیپسی، ریڈبل سے شروع ہو کر آئس ، کو کین کی یاد دلانے والے بیانیہ ہے۔ ہم سرحد پار کریں گے تو بقول وزیراعظم پاکستان سے غداری کریں گے۔ سو سرحد پر کھڑے ہو کر باجے بجا کر زخمی بھوکے محصور کشمیریوں کا جی بہلائیں گے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کی یہ بھی ایک جہت ہے۔ بوڑھے (92سالہ) کشمیری شیر سید علی گیلانی نے وزیراعظم کے نام ایک خط لکھا ہے۔ (جو ہمارے سر شرم سے جھکا دینے والا ہے۔ مگر سیاست کا دماغ شرم سے عاری اور یوٹرنوں کی آماجگاہ ہوتا ہے) وہ حکومت سے مضبوط فیصلوں کی توقع کر رہے ہیں۔ ’پاکستان لائن آف کنٹرول کو دوبارہ جنگ بندی لائن قرار دے۔ بھارت کی جانب سے یک طرفہ متنازعہ کشمیر کی حیثیت میں غیر قانونی تبدیلی کے بدلے پاکستان بھی بھارت سے معاہدے ختم کر دے‘۔ عالمی سطح پر بھارتی اقدامات میں مضمر لاقانونیت اور ظلم کو دنیا نے پر کاہ کی اہمیت نہ دی۔ البتہ پاکستان کو کرتار پورپر خوب سراہا گیا۔ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات! بابری مسجد اور تاج محل کے نیچے مندر تھا! مسجد اقصیٰ کے نیچے یہودی معبد! مسجد قرطبہ کے اندر گرجا اور فلسطینی بمباریوں کی زد میں۔ یہ وہی عالمی صلیبی، صیہونی ، دجالی گریٹر اسرائیل اور گریٹر ہند (مہا بھارت) ایجنڈہ ہے۔ ہماری دینی جہالت کا یہ عالم ہے کہ کفار کے عالمی ایجنڈے حدیث کے باب الفتن کو پڑھ کر قدم بہ قدم طے پا رہے ہیں اور ہمارے آکسفورڈیئے مدینہ کی ریاست کا پہاڑہ پڑھتے سوئے گردوارہ و مندر بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی خوش بختی یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یک زبان ہو کر اٹھنے والی دینی تحریکوں کے برعکس آج ہم تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ تمامتر مذہبی مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلامیان پاکستان نے قرار داد مقاصد، ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی میں شانہ بہ شانہ قربانیاں دیں۔ آج علماء کے باہمی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنے، عوام کو گمراہ اور بدظن کرنے میں قوتیں صرف کی گئیں۔ اسلام کی بالادستی، نظریۂ پاکستان کی بحالی، ختم نبوت شان رسالتؐ کو دائمی تحفظ دینے کے نام پر یک جا ہو جاتے تو سیکولر ازم کی باضابطہ تدفین بھی ہو جاتی۔ آزادی مارچ نے کاری ضرب تو لگائی ہے لیکن فتنۂ دجال کی ان آندھیوں میں گروہی جماعتی عصبیتوں کی اسیری نے حق کا ساتھ دینے میں کمزوری دکھائی۔ اس پر غورو فکر اور عنداللہ جوابدہی کی فکر لازم ہے۔ یہ تمام اختلافات مذکورہ بالا تمام اہم مواقع پر موجود تھے مگر حق کی بالادستی کے لیے ہر دور میں بے دینی اور اسلام دشمنی کا مقابلہ یک جان ہو کر کیا! 18 سال بعد کسی نے (قطع نظر کہ وہ کون تھا) ملکی شناخت کی ہمہ گیر بحالی کے ایک ایک نکتے پر بات کی۔ وہ امور جن پر سبھی کے پر جلتے رہے، مصلحت آمیز مہر بلب رہنے بلکہ ہاں میں ہاں ملانے میں عافیت جانی، اب مملکت کے قلب میں بیان ہوئے۔ ایسے میں اسلام کے ایک بلند آہنگ دعوے دار دانشور بھی لاکھوں کے مجمع کی لال مسجد نما بنا دینے کے فارمولے بیان کرنے کی حد تک جا گرے؟ اے چرخ گردوں! مودی مذہبی کارڈ استعمال کرتا پھولوں کی پتیوں سے لدا ہندوتوا کا مذہبی بیانیہ لیے کشمیر اور پاکستان پر چڑھا چلا آ رہا ہے۔ پاکستان نا اہل، دین بیزار زعماء مشرفی وزراء اور ورلڈ بینک کے گماشتوں کے ہاتھ گروی ہے۔ عوام کی جان شکنجے میں ہے۔ سیاسی جماعتیں بے جہت ہیں۔ ایسے میں دینی طبقے کو لازماً جلد یا بدیر کمر ہمت باندھنی ہو گی۔ اختلافات کے گھن چکر، مسلکی جماعتی تنگنائے کی اسیری سے نکلنا ہو گا۔ مروجہ سیاست کی آپا دھاپی غلبۂ حق کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسلام کی سر بلندی کے لیے اخلاص اور بے نفسی کے ساتھ اگر یک جانہ ہوئے تو اللہ کے حضور کیا جواب دیں گے؟ الم یا ن للذین امنوا… الخ۔ کیا ابھی بھی اہل ایمان کے لیے وقت نہیں آیا؟ تم عمل کے لیے انتظار کرتے ہو … والی حدیث تازہ کر لیجیے۔ جس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ تم منتظر ہو دجال کے ؟ جو بد ترین غائب ہے جس کا انتظار کیاجائے! (ترمذی)


ای پیپر