ہمارا پانچواں موسم، بھیک مانگنا ایک سائنس
16 نومبر 2019 2019-11-16

موسم کی تبدیلی ہمارے مزاج پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ اسی لیے ہمارے معاشرے کا حساس ترین طبقہ جس میں شاعر اور ادیب شامل ہیں موسم ان کے افکار اور تحریروں کا اہم جز ہوتا ہے ہمارے اردو کے استاد مرحوم پروفیسر ڈاکٹر احسن زیدی کا مشہور شعر ہے کہ دل کا موسم اچھا ہو تو سارے موسم اچھے ہیں۔ موسم کی بات ہو اور موسم بہار کاذکر نہ ہو تو بات مکمل نہیں ہوتی انگریزی کے مشہور شاعر John Keats نے کہا تھا کہ "April is the cruelest Month" یعنی اپریل سال کا ظالم ترین مہینہ ہے۔ یہ بات انہوں نے موسم کی کافر ادائی کے لیے اپنے رومانوی انداز بیان سے کی تھی کیونکہ اپریل کا مہینہ موسم بہار کی آمد کا پیش خیمہ ہوتا ہے جب درخت پورے اور کھیت ایک نیا نظارہ پیش کرتے ہیں یہ پھولوں، تتلیوں، چشموں، رنگوں، خوشبوؤں اور نغموں کا مہینہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات انگلینڈ کی حد تک تھی ہمارے ہاں موسمی تغیرات یا climate change نے موسموں کا مزہ خراب کر دیا ہے۔ بہاروں کا موسم اپریل سے آہستہ آہستہ مارچ کی طرف رینگتا گیا اور اب حالت یہ ہے کہ ہمارے ہاں سردی کے فوراً بعد گرمی آجاتی ہے بہار آکر چلے جانے کا صرف ایک احساس بچا ہے بلکہclimate change کے بعد اب ہمارے ہاں سموگ نے ایک موسم کا روپ دھار لیا ہے۔

انگریز لوگ نئے لفظ ایجاد کرنے کے ماہر ہیں مثلاً صبح کے ناشتہ (بریک فاسٹ) اور دوپہر کے کھانے یعنی لنچ کے درمیان میں اگر کوئی بندہ کھانا کھاتا ہے تو انہوں نے breakfast اور lunch کی پیوند کاری سے اسے brunch کا نام دے دیا۔ ہمارے ہاں اعلیٰ سوسائٹی آج کل برنچ ہی کر رہی ہے۔ بات موسم کی ہو رہی تھی۔ انگریزوں نے smoke اور fog یعنی دھوئیں اور دھند کے امتزاج کو smog کا نام دیا ہے پاکستان میں اس سے پہلے چار موسم ہوتے تھے مگر گزشتہ کئی سالوں سے جب سے سموگ کا دور دورہ ہوا ہے اس نے ہمارے ہاں پانچویں موسم کی شکل اختیار کر لی ہے۔

John Keats نے جو بات اپریل کے بارے میں کہی تھی پاکستان میں وہ نومبر کے بارے میں درست لگتی ہے یہ موسم سرما کی آمد آمد کا مہینہ ہے پاکستان میں چونکہ گرمی کا سیزن اوور ٹائم چلتا ہے پہلے زمانے میں اگست کے آخر تک موسم بدل جاتا مگر اب گرمی نے ستمبر اور اکتوبر کی extension لے رکھی ہے کچھ extensions ایسی ہوتی ہیں جو دی نہیں جاتیں بلکہ لینے والے کود ہی لے لیتے ہیں۔ یہ وہی ایکسٹینشن ہے۔ افراط زر اور مہنگائی نے آج تک جو ایکسٹینشن لی ہیں۔ اس کا شمار کون کرے گا۔ سودوزیاں کا حساب کرنے بیٹھ جائیں تو سب زیاں ہی زیاں نظر آتا ہے۔

پتہ نہیں کیوں پاکستان میں موسم کا سارا جمالیاتی حسن مری سے کیوں جوڑ دیا گیا ہے حالانکہ موسم کی تبدیلی تو ہر علاقے میں دیکھی جا سکتی ہے صرف مری ہی کیوں، مری والے مقامی سیاحوں کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو پت جھڑ کا موسم درختوں سے کرتا ہے مگر پھر بھی سیاحوں کے صبر و استقامت میں کمی نہیں آتی۔ باغبان کی بیٹی سے کسی نے پوچھا کہ آپ کی شادی کب ہوئی تو اس نے کہا کہ امردوں کا موسم ختم ہوا تھا اور آم ابھی کچے تھے۔ اسی طرح اس نے اپنے ہر بچے کی تاریخ پیدائش کو بھی موسمی پھلوں کے ساتھ منسلک کر رکھا تھا یہاں تک کہ سارے پھل ختم ہو گئے۔ اسی طرح ہم نے اپنے ملک کے climate cycle کو سیاست خاص طور پر دھرنوں کی سیاست سے جوڑ رکھا ہے۔ گرمی کی شدت میں کھجور اور آم پکتے ہیں مگر اہل سیاست کا نقصان یہ ہے کہ گرمی میں دھرنا سپانسر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس لیے دھرنا جتنا مرضی واجب ہو اچھے موسم کا انتظار کیا جاتا ہے۔

جس طرح سیاست کا سارا جمالیاتی حسن مری کے گرد گھومتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں سیاست کے سارے موسم شہر اقتدار یعنی مارگلہ کی پہاڑیوں کی دلکش آبشاروں کا نظارہ کرتے نظر آتے ہیں جب اسلام آباد کا وجود نہیں تھا تو مارگلہ کے قدرتی جنگلات اس وقت بھی اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ سرسبز اور گھنے تھے لیکن حسن تو دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے یہ سارے نظارے بے نام و نمود تھے جب تک اسلام آباد نے جنم لیا اور اب تو عالم یہ ہے کہ جن کی آنکھوں میں تاب نظارہ نہ ہو ان کو جلوہ دکھانے سے کیا فائدہ۔

مری کے موسم کو جس طرح شاعرانہ زبان میں بے ایمان کہا جاتا ہے اسی طرح اسلام آباد کا موسم اعتبار سے خالی ہے پنڈی سے ہمارے ایک دوست اس علاقے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے ہاں یہ مقولہ بڑے تواتر سے دہرایا جاتا ہے کہ یہاں زمین ہموار نہیں عورت وفادار نہیں اور موسم کا اعتبار نہیں۔ یہ آدھا سچ ہے زمین کی حد تک مان لیتے ہیں کہ ڈھلوان سے پاؤں پھسل جائے بندہ لاپتہ افراد کی فہرست میں آجاتا ہے مگر عورت ہی بے وفا کیوں یہ ایک امتیازی جملہ ہے شہر اقتدار میں ہم نے وفاداری بدلنے کے واقعات میں عورتوں سے زیادہ مرد حضرات زیادہ ریکارڈ یافتہ ہیں پارلیمنٹ میں ووٹوں کی گنتی کو اگر سفر مانا جائے تو ایک ایک لمحے میں درجنوں بے وفائیاں سامنے آ کر بھی خفیہ رہتی ہیں البتہ موسم والی بات ٹھیک ہے کہ موسم کا اعتبار کرنا رسک لینے والی بات ہے باقی موسم تو آتے جاتے رہتے ہیں مگر بات اعتبار کی ہو تو گزر چکا ہے تیرے اعتبار کا موسم۔

مارگلہ کے بے رحم موسموں کی بازگشت کے پس منظر میں جب میاں نواز شریف کی علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی بات چلی تو شہر کے پتے پتے اور بوٹے بوـٹے پر ایک ہی جملہ رقم تھا کہ NRO نہیں دوں گا۔ ہم نے اس کو بھی موسم کی سازش سمجھا مگر ہماری حیرت اس وقت گم ہو گئی جب واشنگٹن سے خبر آئی کہ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کے اہم ترین قیدی لیڈر انس حقانی اور اس کے ساتھیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج تک پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کی کشیدگی کی وجہ یہ رہی ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی درپردہ مدد کرتا ہے۔ اس در پردہ معاہدے کے بعد انس حقانی نہ صرف ساتھیوں سمیت رہا ہو جائیں گے بلکہ افغان مذاکراتی عمل میں امریکہ طالبان بیٹھ کر معاملات حل کریں گے گویا واشنگٹن نے اسلام آباد کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ہمارے ملک میں کاروباری سرگرمیاں مدہم ہو چکی ہیں مگر ایک کاروبار عروج پر ہے بھیک مانگنے والوں کی تعداد پہلے سے بڑھ گئی ہے لاہور میں ہر ٹریفک سگنل پر مانگنے والوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں مگر اسلام آباد جائیں تو یہ کیفیت نظر نہیں آتی ہم نے ایک بھکاری سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بڑی رازداری سے بتایا کہ اسلام آباد میں سڑکوں پر دوڑتی لینڈ کروزرز والے ہم سے بڑے بھکاری ہیں وہ ہمیں کیا دیں گے ہمیں اس کی بات سمجھ نہیں آئی اس نے ہمارا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ آپ اچھے بھکاری کبھی نہیں بن سکتے یہ ایک سائنس ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے بھکاریوں کے پاس لینڈ کروزر تو کیا ان کے اپنے جیٹ طیارے ہیں جن میں سوار ہو کر وہ پوری دنیا گھومتے ہیں۔ میں نے اس سے پوچھا اس سے پہلے کہاں کام کرتے تھے اس نے بڑی بے نیازی سے سہ حرفی جواب دیا"IMF" ۔ میرا تجسس ساتویں آسمان پر تھا میں نے کہا آپ نے اتنی اچھی نوکری چھوڑ دی اس نے مجھے بے وقوف سمجھتے ہوئے کہا کہ یہ اس سے بہتر پیکیج ہے۔


ای پیپر