’’ریاض معاہدہ ‘‘ اور حوثی قبائل
16 نومبر 2019 2019-11-16

رَبّ ِ لَم یزل نے تو قومِ مسلم کو اپنی نیابت کے لیے منتخب کیالیکن آج پونے دو ارب آبادی اور بھرپور قدرتی وسائل کے باوجود وہ اپنی شخصی کمزوریوں کی بدولت کسمپرسی کا شکار۔ رَبّ ِ کائینات کا واضح حکم کہ خُدا اُس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک اُسے آپ اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو لیکن ہم اپنی حالت بدلنے کی بجائے غیروں کی محتاجی کو ترجیح دیتے ہوئے۔ وہ قوم جس کی شرق تا غرب پھیلی ہوئی حکومت کا کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا، آج اپنی حفاظت کے لیے زورآوروں کے دَر پر سجدہ ریز۔ ہم نے کبھی تدبر نہیں کیاکہ آخر اِس زوال کی وجہ کیا ہے۔ وجہ تو اظہرمِن الشمس کہ ہم ٹکڑوں، گروہوں اور فرقوں میں بَٹ کر باہم دست وگریباں ہیں جس کا غیرمسلم اقوام بھرپور فائدہ اُٹھا رہی ہیں۔ اب فرقہ واریت کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص سازش کے تحت اُمتِ مسلمہ پر دہشت گردی کا لیبل چپکانے کی بھرپور تگ ودَو کی جا رہی ہے۔ القائدہ اور داعش نامی دہشت گرد تنظیمیں دین کی خدمت کے لیے نہیں بلکہ اُسے بدنام کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہیں اور اِنہی تنظیموں کا حوالہ دے کر اُمتِ مسلمہ کو بدنام کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ حقیقت مگر یہی کہ ہم اُس نبیﷺ کے اُمتی ہیں جنہیں عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ ہمارا دین تو اُلفت ومحبت اور اعتدال ومیانہ روی کا سبق دیتا ہے۔ پھر بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی بے گناہ کے خون سے ہاتھ رنگ کے اپنی دنیا وآخرت برباد کر لیں۔

مایوسیوں میں گھری اُمتِ مسلمہ کو ریگ زارِ عرب سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے سرشار کر دیا۔ ہمارے روحانی مراکز حرمین شریفین کے خادم شاہ سلمان بِن عبدلعزیز کی ہدایت اور سر پرستی میں 5 نومبر 2019ء کو یمن کی آئینی حکومت اور جنوبی یمن کی علیحدگی پسند عبوری کونسل کے درمیان ’’ معاہدہ ریاض ‘‘ پر دستخط ہوئے۔ اِس تقریب کے موقعے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بِن سلمان، یمنی صدر عبدریہ منصور ہادی اور ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بِن زاید بھی موجود تھے۔ اِس معاہدے کے بعد یہ اُمید پیدا ہو گئی کہ 2004ء سے یمن میں شروع ہونے والی اُس خانہ جنگی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔ پچھلے 5 سالوں سے یمن کے حوثی باغی اور سعودی حکومت آمنے سامنے تھے۔ یہ کوئی باقاعدہ جنگ نہیں تھی کیونکہ عسکری قوت میں سعودی حکومت اور حوثی باغیوں کا کوئی مقابلہ ہی نہیں تھالیکن سعودی حکومت نے ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کیا۔ اِس کے باوجود یمنی حکومت اور حوثی قبائل کے درمیان ہونے والی جنگ میں ہزاروں انسان جان کی بازی ہار گئے۔ اِس جنگ کے سبب یمن کی 75 فیصد آبادی مشکلات کا شکار جن میں پانچ سال سے کم عمر کے 4 لاکھ بچے قحط کا شکار ہوئے۔ دُکھ کی بات یہ کہ دونوں طرف جاں بحق ہونے والے مسلمان ہی تھے۔ مالی نقصان سعودی عرب کا ہو یا یمن کا، دونوں طرف نبیﷺ کے اُمتی ہی متاثر۔

معاہدہ ریاض کے مطابق یمنی حکومت 24 وزراء پر مشتمل ہو گی جس میں شمالی اور جنوبی یمن کو یکساں نمائندگی دی جائے گی، مسلح ملیشیا حکومت کے کنٹرول میں ہو گی اور تمام ملٹری وسکیورٹی فورسز وزارتِ داخلہ اور دفاع کے ماتحت ہوںگی۔ یہ بھی طے پایا کہ کابینہ کی تشکیل اِس معاہدے کے 45 دنوں کے اندر ہوگی۔ ریاض امن معاہدے میں یہ عزم بھی کیا گیا کہ فریقین سعودی عرب کی زیرِقیادت عرب اتحاد کے ذریعے باغیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے مل کر جدوجہد کریں گے اور القائدہ، دعش جیسی تنظیموں کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا۔

معاہدہ ریاض دراصل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بِن سلمان کی بھرپور کوششوں اور کاوشوں کا ثمر ہے جس کی اقوامِ عالم میں بھرپور پذیرائی کی جا رہی ہے۔ عالمی برادری اور عرب ممالک نے یمن کے اتحاد وسا لمیت کے فروغ اور ملکی خوشحالی لانے کے سلسلے میں ریاض امن معاہدے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ وزیرِاعظم پاکستان عمران خاں نے ٹویٹ کیا ’’ہم ریاض امن معاہدے کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ریاض معاہدہ جسے سعودی عرب کی قیادت نے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے اور جسے متحدہ عرب عمارات کی حمایت حاصل ہے، علاقے میں پائیدار امن کی جانب اہم قدم ہوگا۔ اِس معاہدے سے خطے کے تنازع کو سیاسی طور پر حل کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔اقوامِ متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس نے کہا ’’یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان ریاض معاہدے پر دستخط یمن میں تنازع کے پُرامن تصفیے تک پہنچنے کی کوششوں کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے‘‘۔ اُنہوں نے کامیاب وساطت پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کو مبارک باد پیش کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ریاض امن معاہدے کو اچھی شروعات قرار دیتے ہوئے کہا ’’اُمید ہے یمنی بحران کے حل کے لیے مذید کوششیں جاری رکھی جائیں گی‘‘۔ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بِن زاید نے کہا ’’یمنی فریقین میں ریاض معاہدہ کروانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے پر برادر ملک سعودی عرب کی عظیم الشان ثالثی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہماری دلی آرزو ہے کہ یمن کا چپہ چپہ امن وسلامتی کے پھولوں سے مہک اُٹھے اور یمنی عوام امن واستحکام اور ترقی کی نعمتوں سے مالا مال ہوں‘‘۔

یمن کی آئینی حکومت اور جنوبی یمن کی عبوری کونسل کے مابین معاہدہ ریاض پر دستخطوں کی تقریب کے بعد اِس تقریب کے’’ دُلہا‘‘ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے خطاب میں فرمایا ’’سعودی عرب جی جان سے یمن کا اتحاد اور استحکام چاہتا ہے۔ ریاض معاہدے سے مطلوبہ سیاسی حل کے راستے کھلیں گے۔ ہم یمنی عوام کی اُمنگیں پوری کرنے اور سیاسی حل تک رسائی کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے یمنی فریقین کے درمیان اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔ ہمارا مقصد یمنی عوام کی مدد اور بیرونی طاقتوں کو یمن کے داخلی امور میں مداخلت سے روکنا ہے‘‘۔ اب یہی توقع کی جا رہی ہے کہ اِس معاہدے کے بعد پانچ سالوں سے جاری خانہ جنگی اور سیاسی چپقلش کی بجائے اِس مسٔلے کا سیاسی حل برآمد ہو گا اور یمن میں امن واستحکام کا نیا دَور شروع ہوگا۔

یمن میں جاری اِس خانہ جنگی کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ حوثی قبائل یمن میں کئی سو سال تک حکومت کرنے والے زیدی، اہلِ تشیع کی ایک شاخ ہیں۔ شیعہ رہنماء بدرین الدین الحوثی نے 2oo4ء میں حوثی قبائل کو اکٹھا کرکے یمنی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز کیا۔ اُس وقت یمن پر علی عبداللہ صالح کی حکمرانی میں یمنی افواج نے حوثیوں کے خلاف آپریشن کیاجس میں بدر حوثی مارا گیا اور عبد المالک الحوثی نے قیادت سنبھالی۔ یہ مسلح بغاوت یمن کے کئی صوبوں تک پھیل گئی لیکن جب سعودی صوبے جیزان میں بھی جھڑپیں شروع ہوئیں تو سعودی افواج نے یمن میں داخل ہو کر حوثیوں کے خلاف یمنی فوج کی مدد کی۔ 2009ء میں جب یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف دوبارہ آپریشن کیا تو سعودی افواج نے اِس میں بھرپور حصّہ لیا۔ 20جنوری 2015ء کو حوثی باغیوں نے یمنی دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا اور اُس وقت کی عبوری حکومت کے سربراہ عبدریہ منصور ہادی فرار ہو کر عدن چلے گئے اور عدن کو عارضی دارالحکومت قرار دے دیا گیا۔ جب حوثیوں نے سعودی سرحد سے ملحق تیل کی دولت سے مالا مال صوبے محراب کی طرف پیش قدمی کی تو سعودی حکومت نے اِس کا بھرپور جواب دیا کیونکہ یمن کی ساری معیشت کا انحصار ہی اِس صوبے پر تھا۔

عسکری اور معاشی سبقت کے باوجود سعودی عرب نے ہمیشہ صبر اور مصلحت سے کام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی آرامکو آئل ریفائنری پر حوثیوں کے حملے اور بے پناہ نقصان کے باوجود ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے معاملہ بات چیت کے ذریعے ہی حل کرنے کا عندیہ دیااور کہا ’’حملہ بیوقوفی ہے، اب صرف بات ہوگی‘‘۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی اِسی دور اندیشی کی بدولت معاہدہ ریاض طے پایا اور اُمید کی جا رہی ہے کہ سیاسی حل کے ذریعے حوثی قبائل کا مسٔلہ بھی جلد حل ہو جائے گا۔

ابب حرفِ چند ملکی سیاست پر۔انتہائی مخدوش حالت میں میاں نوازشریف کی صحت پر جو سیاست کی جا رہی ہے وہ انتہائی قابلِ مذمت اور قابلِ نفرت ہے۔ یہ تو سنا تھا کہ سیاست کے سینے میں دِل نہیں ہوتا لیکن جیسی چنگیزیت کا مظاہرہ ’’نئے پاکستان‘‘ کے بانی کر رہے ہیں وہ اِس لحاظ سے بے مثل کہ موجودہ حکمران ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے داعی بھی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمرانوں کو پہلے ریاستِ مدینہ کی تاریخ کا مطالعہ کر لینا چاہیے جس میں دریائے فرات کے کنارے مر جانے والے کتّے کی روزِ قیامت پُرسش سے بھی امیرالمومنین لرزہ بَراندام ہو جاتے تھے۔ ہم نے یہ تو دیکھا کہ دَورِ آمریت میں حکمران مَن مرضی کیا کرتے تھے لیکن اِس نام نہاد جمہوری دَور میں حکمرانوں کا رویہ دَورِ آمریت سے بھی بَدتر۔ میاں نوازشریف کو بیرونِ ملک علاج کی راہ میں جو غیرقانونی اور غیرآئینی روڑے اٹکائے جا رہے ہیں، وہ فرعونیت کی بدترین مثال۔ اب معاملہ عدالت میں ہے اور اُمیدِ واثق کہ بہتر فیصلہ آئے گا۔۔۔۔ ہماری دُعا ہے کہ رَبّ ِ کریم میاں نوازشریف کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔


ای پیپر