این آر او اور چوہدری برادران
16 نومبر 2019 2019-11-16

پی ٹی آئی کے وزرا چینلز پر یہ فرماتے پائے جا رہے ہیں کہ عمران خان کسی کو کوئی این آر او نہیں دیں گے۔ نواز شریف بیمار ہیں اس لیے انھیں بیرون ملک علاج کروانے کی اجازت دی گئی ہے۔ این آر او تو یہ ہوتا کہ اگر ان کے خلاف کیسز ختم ہو جاتے اور حکومت ان کے خلاف کیسز کی پیروی نہ کرتی۔ حکومت ان کے خلاف کیسز کی پیروی کرے گی۔ نواز شریف صحت مند ہو کر واپس آئیں گے اور ان کیسز کو فیس کریں گے۔

جناب آپ یہاں یہ بتا دیں کہ پرویز مشرف بھی بیماری کی حالت میں باہر گئے تھے۔ مشرف صاحب بھی عدالت سے اجازت لے کر باہر گئے تھے۔ ن لیگ بھی یہی کہتی تھی کہ وہ بہت بیمار ہیں۔ علاج کروا کر واپس آ جائیں گے۔ کیسز کا سامنا کریں گے۔ لیکن پھر کیا ہوا۔ نہ پرویز مشرف واپس آئے اور نہ کیسز کا سامنا کیا۔ تب تحریک انصاف والے ہی سینہ تان کر فرمایا کرتے تھے کہ ن لیگ نے پرویز مشرف کو این آر او دے دیا ہے۔

خواجہ سعد رفیق اوراحسن اقبال فرمایا کرتے تھے کہ اگر پرویز مشرف ملک سے باہر چلے گئے تو ہم اپنی وزارتوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔ خواجہ آصف فرمایا کرتے تھے کہ اسٹبلشمنٹ ہمارے گھٹنوں کو ہاتھ لگا رہی ہے، ہمارے پاؤں پڑ رہی ہے کہ پرویز مشرف کو باہر جانے دیں لیکن ہم انھیں باہر جانے نہیں دیں گے۔ اگر پرویز مشرف باہر چلے گئے تو آپ کے جوتے اور میرا سر ہو گا۔ لیکن پھر کیا ہوا۔ وہی پرویز مشرف تھے اور وہی ن لیگ کے وزرا تھے۔ جہاز آیا اور پرویز مشرف کے ساتھ ن لیگ کے وزرا کی انا اپنے ساتھ اڑا کر لے گیا۔

آپ ن لیگ کی وزرا کے بیانات سامنے رکھیں اور اس کا موازنہ عمران خان کے دیے گئے بیانات سے کریں۔ آپ یقینا ایک دلچسپ صورتحال کا مشاہدہ کر سکیں گے۔ خان صاحب نے اقتدار سنبھالتے ہی اسمبلی میں پہلی تقریر میں ترقی و خوشحالی کا منشور دینے کی بجائے فرمایا تھا کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔ جس نے بھی قوم کا پیسہ لوٹا ہے اس سے ایک ایک پائی نکلواوں گا۔

قوم سے ابتدائی ٹیلی ویڑن خطاب میں فرمایا تھا کہ میری حکومت گھر جاتی ہے تو چلی جائے مجھے کوئی پرواہ نہیں، لیکن میں اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کسی چور لٹیرے کو این آر او نہیں دوں گا۔خان صاحب فرماتے تھے کہ میں ہزاروں تماشائیوں کی تنقید اور ہوٹنگ کے باوجود ان کا پریشر برداشت کرتا تھا اور میچ جیتتا تھا۔ میں نے کبھی ہزاروں تماشائیوں کے آگے ہار نہیں مانی تو یہ چند لوگ مجھ سے کیسے این آر او لے سکتے ہیں؟ یہ کیسے مجھے دباو میں لا سکتے ہیں۔

خان صاحب آپ دباو میں بھی آگئے ہیں اور نوازشریف کو این آر او بھی دے دیا ہے۔ اب اپنی فیس سیونگ کے لیے سات ارب کے شیور ٹی بانڈ مانگ رہے ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ آپ ماضی کے بیانات پر معافی مانگ لیں یا آج این آر او نہ دینے والے بیانات دینا بند کر دیں۔

اب ایک نظر ختم ہو چکے دھرنے میں چوہدری برادران کی ثالثی کروانے کی کوششوں پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ چوہدری برادران کے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی سیایسی تاریخ قابل ستائش نہیں ہے۔ افتخار چوہدری اور پرویز مشرف کے اختلافات کے دوران چوہدری شجاعت حسین افتخار چوہدری کے پاس صلح کے ثالث بن کر گئے۔ چوہدری شجاعت حسین افتخار چوہدری کے گھر کے اندر بیٹھے ثالثی کی بات کر رہے تھے اور باہر پرویز مشرف کے حکم پر افتخار چوہدری کی گاڑی اٹھا لی گئی۔ افتخار چوہدری نے چوہدری شجاعت کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور پوچھا یہ حیثیت ہے آپ کی ثالثی کی؟

دراصل چوہدری برادران اپنے باپ چوہدری ظہور الہی کا کمایا ہوا کھا رہے ہیں۔ ان کی اپنی سیایسی حیثیت بہت کمزور ہے۔ رہ گئی بات ق لیگ کی تو اس کی طاقت مشرف کے اقتدار کے بعد ختم ہو گئی۔ حالت یہ ہے کہ چوہدری برادران کے علاوہ کوئی قابل ذکر سیاستدان ق لیگ کا حصہ نہیں ہے۔ چوہدری برادران اکبر بھگٹی سے مذاکرات کرنے گئے جس کا نتیجہ اکبر بھگٹی کی شہادت کی صورت میں نکلا۔ لال مسجد واقع پر چوہدری برادران ثالثی کروانے گئے اور قتل عام کی نئی داستان رقم کروا آئے۔

میں آپ کو یاد کرواتا چلوں کہ 2014 کے دھرنے میں چوہدری برادران نے طاہر القادری کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا تو سیاسی جماعتیں سمیت میڈیا بھی ان کا مذاق اڑاتا دکھائی دیتا تھا۔ سیاسی حلقوں میں ق لیگ کو ٹانگہ پارٹی ڈکلئیر کر دیا گیا۔

طاہر القادری کے دھرنے میں شامل ہونے کے لیے جو جلوس چوہدری برادران اسلام آباد ڈی چوک لے کر پہنچے اس میں گِن کر صرف اٹھارہ سے بیس لوگ تھے۔ جس جماعت کی سیاسی حیثیت اتنی کمزور ہو، جو اپنے لیے سپورٹر نہ ڈھونڈ سکیں، جو کسی قابل ذکر سیاستدان کو ق لیگ میں شمولیت کے لیے راضی نہ کر سکیں وہ کس طرح مولانا فضل الرحمان کو حکومت کی شرائط پر راضی کر سکتے تھے؟

دراصل چوہدری برادران کو بھی بلاوجہ ثالث بننے کا شوق ہے۔ وہ اپنی سیاسی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اس طرح کے مواقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ میری آنیاں دیکھو اور میری جانیاں دیکھو کے بعد پْسپھسا سا بیان دے کر پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔


ای پیپر