نواز شریف کی صحت اور شہباز شریف کی پریس کانفرنس
16 نومبر 2019 2019-11-16

محمد نواز شریف کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر ان کے خاندان اور خصوصاً ان کے چھوٹے بھائی محمد شہباز شریف سخت پریشان ہیں اور انہیں جلد لندن بھجوانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں پر ان کا بہترین علاج ہو سکے ۔اس سلسلے میں محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز لاہورمیں مسلم لیگ(ن)کے مرکزی رہنمائوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ زر ضمانت سات ارب رکھنے کی شرط کسی صورت میں قبول نہیں کیونکہ بعد میں حکومت عوام کو کہے گی کہ محمد نواز شریف سے سات ارب روپے نکلوائے ۔عدالتوں نے نواز شریف کو علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت دی ہے اس کے باوجود حکومت سیاست کر رہی ہے ۔ نواز شریف صبر ،جرات اور بہادری سے حالات کامقابلہ کر رہے ہیں ۔پوری قوم ان کی صحت کے لئے پریشان ہے ۔حکومت کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں اس کے باوجود حکومت ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکال رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری کا نام کس نے آدھے گھنٹے میں ای سی ایل سے نکالا تھا اور وہ بیرون ملک چلاگیا ۔کیاکسی نے ان کے لئے گارنٹی بانڈز مانگے تھے ۔یہ دوہرا معیار کیوںا پنایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف بیرون ملک علاج کے لئے تیار نہیں تھے میں نے ،میری والدہ اور پوری فیملی کے ارکان نے بہت مشکل سے منایا ۔

وزیراعظم عمران خان نے پہلے اعلان کیا کہ عدالتی فیصلے کے بعد حکومت نواز شریف کے علاج معالجہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی لیکن کچھ وفاقی وزراء کے کہنے پر حکومت نے سات ارب مالیت کے گارنٹی بانڈ جمع کرنے کی شرط رکھی ۔ نواز شریف اس شرط پر علاج کیلئے لندن جانے کو تیار نہیں جبکہ نواز شریف کے لندن میں ہارلے اسٹریٹ میں علاج معالجہ کے انتظامات کئے گئے ہیں جہاں پر ان کے دونوں صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز موجود ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس دیکھنے کے بعد ہارلے اسٹریٹ کلینک کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس وقت پاکستان میں جو وقت گزار رہے ہیں اس کا ایک دن بھاری ہے ۔اگر انہیں فوری طور پر علاج کے لئے بیرون ملک نہیں بھیجا گیا تو ان کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

محمد نوازشریف کافی عرصے سے بیمار تھے اور لندن میں دل کا بائی پاس آپریشن بھی ہوا تھا اور ان کے علاج معالجہ کا ریکارڈ بھی لندن کے ہسپتال میں موجود ہے ۔نیب کی حراست میں محمد نواز شریف کی طبیعت خراب ہوئی تھی وہ کوٹ لکھپت جیل میں سزاکاٹ رہے تھے ۔نیب نے ایک پرانے کیس میں انہیں دوبارہ گرفتار کیا ۔ان کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ان کی صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا لیکن حکومت کوئی توجہ نہیںد ے رہی تھی حکومتی وزراء محمد نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑا رہے تھے جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو ان کے بھائی اور اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نیب کے دفتر پہنچ گئے اور محمد نواز شریف کو لاہور کے سر وس ہسپتال منتقل کر دیاگیا جہاں پر ان کا علاج شروع کر دیاگیا ۔ان کے پلیٹ لیٹس کم ہو رہے تھے جس پر ڈاکٹرز میں بھی سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔میڈیکل بورڈ تشکیل دیاگیا ۔میڈیکل بورڈ کی سفارش پر محمد نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کے لئے جنیٹک ٹیسٹ تجویز کر دیاگیا ۔ٹیسٹ کے لئے خون کے نمونے جرمنی بجھوائے جائیں گے ۔میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمود آیاز کے مطابق اس ٹیسٹ کے ذریعے انسانی ڈی این اے میں ہونے والی تبدیلیاں مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں ۔پلیٹ لیٹس میں بار بار کمی اور دیگر اسباب جاننے کے لئے جنیٹک ٹیسٹ بہت ضروری ہے جو پاکستان میں ناممکن ہے ۔محمد نواز شریف کے خون کی بند شریانوں کے حوالے سے ٹیسٹ بھی تجویز کئے گئے ہیں ۔محمد نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے مطابق نواز شریف کو اچانک بلیڈنگ کا خطرہ موجود ہے ان کے پلیٹ لیٹس تیس ہزار کی قابل قبول حد سے بھی نیچے گر گئے ہیں انہیں خون پتلا کرنے والی ادویات محفوظ نہیں ۔جب سروسز ہسپتال لاہور میں محمد نواز شریف کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ان کے بھائی اور اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کے لئے درخواست دائر کی جس پر ضمانت منظور کرلی گئی اور عزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی تھی ۔محمد نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کے لئے ضمانت اور سزا معطل کر دی گئی اور محمد نواز شریف کو سروسز ہسپتال سے جاتی امرا رائیونڈ ان کی رہائش گاہ پر منتقل کر دیاگیا ہے اور خصوصی میڈیکل یونٹ قائم کر دیاگیا ہے ۔

حکومتی وزراء کو محمد نواز شریف کی بیماری پر سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔پہلے ان کی بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر سیاست چمکائی گئی تھی جب وہ بستر مرگ پر تھیں حکومت کے وزراء ان کی بیماری پر بھی بیان بازی کر رہے تھے موجودہ حکومت ماضی کے تلخ تجربات کو دہرانے سے گریز کرے ہوش کے ناخن لے محمد نواز شریف ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم رہ چکے ہیں اور بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ(ن)کے قائد ہیں انہیں علاج معالجہ کی بہترین سہولیات میسر کرنی چاہئیں انہیں ان کی مرضی کے مطابق لندن میں علاج معالجہ کرنے کی اجازت دینی چاہیے ۔


ای پیپر