16 نومبر 2019 2019-11-16

مولانا نے اچھا کیا دھرنے پر یوٹرن لے لیا، استعفیٰ نہیں لے سکے، مولانا کے یوٹرن لینے پر پی ٹی آئی کے کچھ مفاد و حکومت پرست عناصر مولانا کا تمسخر اُڑا رہے ہیں، حالانکہ اُنہیں خوش ہونا چاہیے کہ مولانا نے ”یوٹرن “ لے کر اُنہی کے لیڈر عمران خان کی روایت کو آگے بڑھایا ہے، وزیراعظم خان صاحب کو چاہیے مولانا کو ہرقیمت پر مجبور کریں وہ جمعیت علمائے اسلام چھوڑ کر پی ٹی آئی جائن کرلیں جہاں یوٹرن لینا اخلاقیات کا باقاعدہ حصہ تصور کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی کے کچھ رہنما مختلف چینلز پر بیٹھ کر مولانا کے اِس عمل پر بڑی نکتہ چینی کررہے ہیں” انہوں نے بغیر وزیراعظم کا استعفیٰ لئے دھرنا ختم کردیا ۔ جبکہ ایک روز پہلے تک وہ بلند و بانگ دعوے کررہے تھے وزیراعظم کے استعفیٰ سے کم پر بات نہیں ہوگی۔“مولانا کا دھرنا شاید سولہ روز جاری رہا، خان صاحب کا دھرنا ایک سو بیس روز جاری رہا تھا، پی ٹی آئی کے ترجمانوں کو یادرکھنا چاہیے ایک سو بیس دنوں بعد خان صاحب بھی پوری کوشش کے باوجود وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ نہیں لے سکے تھے، اب مولانا بھی استعفیٰ لیے بغیر واپس چلے گئے ہیں تو خان صاحب کو پتہ ہی ہوگا اُن کے دھرنے سے کون سے مقاصد تھے جو اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ لیے بغیر پورے ہوگئے تھے؟ اور مولانا کو بھی پتہ ہی ہوگا اُن کے دھرنے سے کون سے مقاصد ہیں جو وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ لیے بغیر پورے ہوگئے ہیں ؟ پاکستان میں مفت میں کوئی استعمال نہیں ہوتا، کم ازکم مجھے تو مولانا کا مستقبل بڑا روشن نظر آتا ہے، خان صاحب کو دھرنے کا حصہ اگلے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کی صورت میں مِل سکتا ہے تو مولانا کو کیوں نہیں مِل سکتا ؟۔سوپی ٹی آئی کو اقتدار میں آتا دیکھ کر دوسری جماعتوں سے دھڑا دھڑا پی ٹی آئی میں چھلانگیں لگانے والے طوطا چشموں کو چاہیے مولانا کے ساتھ ابھی سے اپنے رابطے قائم یا مضبوط کرلیں،وفاقی وزیر ریلوے کے بارے میں تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں وہ ہم جیسوں کے مشوروں کے بغیر پہلے ہی مولانا کے ساتھ رابطے میں ہوں گے۔ اور وہ اس یقین میں مبتلا بھی ہوں گے مولانا کے وزیراعظم بننے کی صورت میں اُنہیں اس بار اچھامحکمہ ملے گا، اُنہیں اچھا محکمہ ہی ملنا چاہیے کیونکہ اچھا محکمہ برباد کرنے کا انہیں خاصا تجربہ ہے، ہوسکتا ہے اُنہیں ”وزارت دفاع“مِل جائے۔ اپنی گندی سیاست کے ”دفاع“ کے فن سے جتنے وہ آشنا ہیں شاید ہی اور کوئی ہوگا، مولانا کو چاہیے اگلے چند دنوں میں کسی چینل پر شیخ رشید کے بارے میں وہ بھی یہ فرما دیں کہ ”شیخ رشید کو میں اپنا چپڑاسی بھی نہ رکھوں“ ....اِس کا فائدہ یہ ہوگا شیخ رشید اِس یقین میں مبتلا ہو جائے گا کہ مولانا اقتدار میں آکر واقعی اُنہیں وزیر بنادیں گے، پھر اُس کے بعد وہ اپنے ”اصل وارثوں“ کے دلوں کو مولانا کے لیے نرم کرسکتا ہے، .... ویسے مولانا فضل الرحمان کی سیاست اور پی ٹی آئی کی سیاست کم ازکم دھرنے کے حوالے سے اچھی خاصی ملتی جُلتی ہے، خان صاحب نے بھی دھرنا شروع کرتے ہوئے یہی بڑھک لگائی تھی ”وہ جب لاہور سے اسلام آباد دھرنے کے لیے نکلیں گے لاکھوں لوگ اُن کے ساتھ ہوں گے“ ۔ ظاہر ہے ایسے نہیں ہوا تھا، یہی دعویٰ مولانا نے بھی کیا، اُن کا دعویٰ بھی ٹھس ہو گیا، وہ چند ہزار لوگوں کو ہی باہر نکال سکے، یہ سب ایک مخصوص مکتبہ فکر کے لوگ تھے، البتہ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے اور خان صاحب کے دھرنے میں ایک واضح فرق یہ تھا مولانا کے دھرنے میں وہ رونق نہیں تھی جو خان صاحب کے دھرنے میں ہوتی تھی، اُس دھرنے میں بے شمار لوگ خصوصاً بے شمار نوجوان اور نوجوانیاں اپنے اپنے کاموں سے فارغ ہوکر رات کو خان صاحب کے دھرنے میں آ جایا کرتے تھے، مولانا کے دھرنے میں دلچسپی کا یہ سامان بالکل ہی نہیں تھا، مولانا کو اعتراف کرنا چاہیے کم ازکم اِس حوالے سے اُن کا دھرنا ناکام ہی رہا ہے، ویسے حوالے سے اِسے کامیاب بھی کہا جاسکتا ہے کہ مختلف اقسام کی دلچسپیوں کا سامان نہ ہونے کے باوجود بے شمار لوگ دھرنے میں بیٹھے رہے۔ اس دھرنے کی ایک ”خصوصیت“ یہ بھی تھی مولانا نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا، یا کوئی ایسی بڑھک نہیں لگائی جس پر اقتدار میں آنے کی صورت میں اُنہیں یوٹرن لینا پڑے۔ خان صاحب اپنے دھرنے میں کنٹینر پر کھڑے ہوکر جو دعوے کرتے رہے، یا جو بڑھکیں لگاتے رہے

اقتدار میں آنے کے بعد فی الحال ایک بھی پورا نہیں ہوا، .... اجتماعی طورپر مولانا کا دھرنا پُر امن رہا، اس میں اسلام آباد پولیس کا کردار بھی بڑا اہم ہے۔ آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار بڑے زیرک پولیس افسر ہیں۔ اُن کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے وہ حکمرانوں کو غلط مشورے دیتے ہیں نہ اُن کے غلط احکامات کو سرجُھکا کر فوری طورپر تسلیم کرلیتے ہیں، پولیس افسروں کو ایسا ہی ہونا چاہیے خود بھی نقصان سے بچ جاتے ہیں، حکومتوں کو بھی بچا لیتے ہیں ....اب مولانا کے دھرنے کے حوالے سے جتنے منہ اُتنی باتیں ہورہی ہیں۔ سیاست میں مولانا کی شہرت یا ساکھ ہرگز ایسی نہیں جس کی بنیاد پر ہم یہ دعویٰ کرسکیں کہ مولانا نے یہ دھرنا محض ملکی وعوامی مفاد میں دیا ہے، خان صاحب نے تو دھرنا 2013ءکے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے پس منظر میں یہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر دیا تھا کہ ”قومی اسمبلی کے چودہ حلقے کھولے جائیں “....مولانا کے کیا کھلوانے کے لیے دھرنا دیا ؟ پھر بغیر ”فیس سیونگ“ کے دھرنا ختم کیوں کردیا؟یہ راز اگلے چند دنوں میں سیاسی صورت حال کے مطابق خود بخود کُھل جائے گا، خان صاحب کو قدرت نے خود”فیس سیونگ“ فراہم کردی تھی، اُن کا دھرناجب آخری سانسیں لینے لگا تھا آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گردی ہوگئی جس میں ہمارے کئی بڑے اور بچے شہید ہوگئے، یہ ایک انتہائی افسوس ناک ہلاکر رکھ دینے والا سانحہ تھا۔ یہ سانحہ نہ ہوتا خان صاحب کو بھی دھرنا ختم کرنے کے لیے شاید ویسی ہی شرمندگی کا سامناکرنا پڑتا جیسی شرمندگی کا سامنا مولانا فضل الرحمان کو کرنا پڑرہا ہے۔ ویسے ہمارے سیاستدان خصوصاً مذہبی سیاستدان شرمندہ کم ہی ہوتے ہیں۔ ضمیری طورپر وہ زندہ بھی کم ہی ہوتے ہیں۔ البتہ پی ٹی آئی کے” ٹیلی وژنی ترجمانوں“ کی بار بار مولانا پر یہ تنقید سمجھ سے بالاتر ہے کہ ”وہ وزیراعظم کا استعفیٰ لیے بغیر اُٹھ گئے“ ....یعنی ترجمانوں کے خیال میں مولانا کو وزیراعظم کا استعفیٰ لے کر اُٹھنا چاہیے تھا، ممکن ہے اِن میں سے کچھ ترجمانوں کی خواہش اور دعا بھی یہی ہو جو مولانا پوری نہیں کرسکے، یہ توترجمان اب اذیت میں مبتلا ہیں۔ ہم تو اس پر شکر اداکررہے ہیں کہ مولانا وزیراعظم کااستعفیٰ لیے بغیر اُٹھ گئے۔ ہم دعاگو ہیں وزیراعظم اپنی آئینی مدت کے مزید پونے چارسال پورے کریں۔ اُس کے بعد ہمیں یہ اندازہ لگانے میں بڑی آسانی محسوس ہوگی کہ اِس ملک کو کرپشن نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے یا نااہلی نے ؟؟؟


ای پیپر