رسولِ رحمت فاتح القلوب!
16 نومبر 2018 2018-11-16

جنگ خندق اور فتح بنو قریظہ کے بعد نبی اکرمؐ نے ان مختلف قبائل کی طرف سرایا روانہ کیے جنھوں نے غزوۂ خندق میں مشرکینِ قریش کے ساتھ مل کر مدینہ کا محاصرہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک سریہ، کو اس کے کمانڈر کی نسبت سے سریہ محمدبن مسلمہؓ بھی کہا گیا ہے۔ تیس شاہسواروں کا ایک دستہ حضرت محمد بن مسلمہ کے ساتھ تھا اور انھیں نجدی قبائل میں سے بنو بکر بن کلاب کی سرکوبی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ معمولی جھڑپ کے بعد اپنے درجن بھر مقتولین کو چھوڑ کر بنو بکر کے جنگجو میدان سے بھاگ نکلے۔ انھوں نے مختلف پہاڑی گھاٹیوں میں جاکر پناہ لے لی جن کے راستوں سے وہ بخوبی واقف تھے۔ وہ اپنے بیش تر مویشی بھی بھگالے گئے مگر اس کے باوجود پچاس اونٹ اور تین ہزار کے لگ بھگ بھیڑ بکریاں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں۔ عورتوں اور بچوں سے تعرض نہ کیا گیا۔ مدینہ کی طرف واپسی پر ایک مقام پر نجد کا ایک طاقت ور اور معزز سردار مسلمانوں کے ہاتھ آگیا۔ یہ شخص ثُمامہ بن اُثال تھا، جو بنو حنیفہ کا سردار تھا۔ بعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہ مدینہ ہی کی طرف آرہا تھا اور اس کا ارادہ آنحضورؐ کو دھوکے سے قتل کرنے کا تھا۔ ثُمامہ بن اُثال اسلام دشمنی میں بلاشبہ معروف تھا مگر اس کے بارے میں مؤرخین کی درج بالا رائے درست نہیں ہے کیوں کہ وہ دراصل عمرے کی ادائیگی کے لیے عازم مکہ تھا مگر راستے میں پکڑ لیا گیا(طبقات الکبرٰی لابن سعد ۵/۵۴۹)۔

لشکر کی واپسی کی آنحضورؐ کو اطلاع ملی تو آپؐ نے مالِ غنیمت کا جائزہ لیا۔ آپؐ کو پتا چلا کہ ایک قیدی بھی صحابہ نے پکڑا ہے۔ آپؐ نے اسے دیکھتے ہی اپنے ان صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو تمھارا یہ قیدی کون ہے؟ انھوں نے کہا ہم پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ آپؐ نے کہا یہ بنو حنیفہ کا اہم سردار ثُمامہ بن اُثال ہے۔ اسے اپنی حفاظت میں رکھو کہ بھاگ نہ جائے لیکن اس کے ساتھ بہت اچھا اور عزت و احترام کا سلوک روا رکھنا۔ ثُمامہ بن اُثال مسیلمہ کذاب کے قبیلے کا فرد تھا، جس کے فتنے میں بے شمار لوگ گرفتار ہوچکے تھے۔ بد قسمتی سے اپنی ذہانت اور فطانت کے باوجود ثُمامہ بھی اس کے دجل و فریب میں آگیا اور اس جھوٹے مدعیٔ نبوت پر ایمان لے آیا۔ نبیٔ مہربانؐ لوگوں کی خوبیوں سے واقف بھی تھے اور قدردان بھی۔ آپؐ نے فرمایا کہ ثُمامہ اچھی اونٹنیوں کا دودھ پینے کا عادی ہے۔ پھر آپؐ نے ایک بہت اعلیٰ اونٹنی اس کے لیے مختص فرمائی اور کہا صبح و شام اس کا دودھ اس کی خدمت میں پیش کیا کرو۔ ثُمامہ قیدی تھا اور آنحضورؐ سے اسے شدید نفرت بھی تھی لیکن اس بات پر وہ حیران تھا کہ قیدی ہونے کے باوجود اس سے اتنا اچھا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ نبی اکرمؐ خود اس قیدی سے ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپؐ نے ہمیشہ اس کے ساتھ نرم الفاظ میں گفتگو فرمائی۔ قیدی دن بدن آنحضورؐ کے اخلاق حسنہ سے متاثر ہو رہا تھااور آخر مفتوح ہوگیا۔ اس قید کے دوران آنحضورؐ کئی مرتبہ اس سے سوال جواب کرتے اور اس کا حال احوال دریافت کرتے۔ ایک روز آپؐ نے اس سے پوچھا ثُمامہ تمھارے دل میں کیا خیالات ہیں؟ اس نے کہا: اے محمد میرے پاس خیرو بھلائی ہے۔ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو یہ ایک ایسے شخص کا قتل ہوگا جس کے خون کی بڑی قیمت ہے اور اگر آپ عفو و درگزر سے کام لیںگے تو آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ احسان کریں گے جو احسان کا بدلہ دینا جانتا ہے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہے تو مانگ لیجیے۔ آپ جو چاہیں گے وہ دے دوں گا۔

نبی اکرمؐ خود بھی محسوس کر رہے تھے کہ اس دوران

قیدی کے دل کی کیفیت بدلتی چلی جارہی ہے۔ آپؐ کو اللہ نے بے پناہ خوبیاں عطا فرمائی تھیں، ان میں آپؐ کی محبتِ فاتح ِ عالم اور آپؐ کے سخنِ دلنواز کے کیا کہنے۔ ان خوبیوں سے بے شمار نفرتوں کے طوفان محبت کے زمزموں میں بدل گئے۔ آپؐ نے ایک دن حکم دیا کہ قیدی کو چھوڑ دو۔ نہ اس سے کوئی فدیہ طلب کیا نہ کچھ اور کہا۔ فرمایا کہ ثُمامہ تم آزاد ہو جہاں چاہو آزادی سے چلے جائو۔ اس وقت تک ثُمامہ اپنی آزادی کو چھوڑ کر برضا و رغبت غلامی اختیار کر چکا تھا۔ جب تک اسے آزادی نہیں ملی اس نے اس کا اظہار نہیں کیا لیکن آزاد ہوجانے کے بعد وہ آنحضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آنحضورؐ کے سامنے اپنی زندگی کے مختلف مرحلوں کا تذکرہ کیا۔ ثُمامہ نے کہا ’’اے محمد اللہ کی قسم کرہ ارضی پر آپؐ کی ذات سے زیادہ مجھے کسی شخص سے دشمنی اور نفرت نہیں تھی۔ بخدا آج آپؐ کی ذات مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوگئی ہے۔ خدا کی قسم آپؐ کے دین سے زیادہ مجھے کسی اور دین سے نفرت و عداوت نہ تھی۔ اس وقت مجھے آپؐ کا دین سب ادیان سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے۔ خدا کی قسم آپؐ کے شہر سے زیادہ مجھے دنیا کے کسی اور مقام سے نفرت و عداوت نہ تھی۔ بخدا آج مجھے یہ شہر دنیا کے ہر خطے سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے۔ اس گفتگو کے بعد وہ باہر نکل گیا۔ غسل کرکے آیا اور کلمۂ شہادت پڑھا اور اعلان کیا کہ ایک تو وہ قریش کی اسلام دشمنی کی وجہ سے ان پر عرصۂ حیات تنگ کر دے گا اور دوسرے مسیلمہ کذاب کا فتنہ ختم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا۔ تیسرے اپنے علاقے اور قبیلے میں لوگوں تک دعوتِ حق پہنچانے کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے گا۔ مکہ معظمہ میں اللہ کا گھر ہے۔ اس سے محبت تقاضائے ایمان بھی ہے اور قبولیتِ دعائے خلیل کا اعجاز بھی۔ اسی طرح مدینہ طیبہ نبیٔ مہربانؐ کا مسکن ہے اور یہی آپؐ کی آخری آرام گاہ ہے۔ اس سے محبت بھی ایمان کا حصہ ہے۔ حضورؐ کی ذات، آپؐ کا لایا ہوا دین اور آپؐ کا شہر سبھی ہمیں محبوب ہیں اور ہم اس نعمت پر اللہ کا شکر بجالاتے ہیں۔ حکیم الامت نے کیا خوب کہا ہے:

خاکِ یثرب از دو عالم خوشتر است

اے خنک شہرے کہ آنجا دلبر است

آنحضورؐ ثُمامہ کے قبولِ اسلام سے بہت خوش ہوئے۔ آپؐ کو پہلے دن سے یقین تھا کہ ثُمامہ میں خیر ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد اس نے آنحضورؐ سے ایک سوال پوچھا کہ اللہ کے رسولؐ میں عمرے کے سفر کے لیے جارہا تھا کہ آپؐ کے فوجی دستے نے مجھے راستے میں پکڑ لیا، اب میں کیا کروں؟ میرا ارادہ تو اب بھی عمرہ ادا کرنے کا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ضرور عمرے کے لیے جائو۔ چنانچہ ثُمامہؓ مدینہ سے نجد جانے کے بجائے مکہ کے طرف روانہ ہوئے۔ مکے کے لوگ ثُمامہؓ کو پہچانتے تھے لیکن اس مرتبہ جب وہ حرم میں داخل ہوئے تو وہ قریش اور دیگر قبائل کے طریقہ کے بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق تلبیہ پڑھ رہے تھے۔ قریش نے جب ان کی زبان سے یہ الفاظ سنے بالخصوص وہ بلند آواز سے لاشریک لک کے الفاظ ادا کر رہے تھے تو قریش کا ماتھا ٹھنکا۔ سردارانِ قریش نے کہا ثُمامہ کو یہ کیا ہوگیا ہے۔ پھر اس سے پوچھا کہ کیا تم صابی (بے دین) ہوگئے ہو؟ تم جیسے آدمی کا بے دین ہوجانا المیہ ہے۔ اس کے جواب میں انھوں نے فرمایا کہ میں بے دین نہیں ہوا۔ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور کرہ ارض کے بہترین دین میں داخل ہوگیا ہوں اور یہ دین اللہ کے سچے نبی محمدؐ کا دین ہے۔ قریش تلبیہ ہی سے خاصے ناراض تھے، اب اس گفتگو نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ انھوں نے ثُمامہ کو گرفتار کرکے قید کر لیا۔ قریش کے سرداروں کو للکارتے ہوئے انھوں نے کہا تم نے مجھے محبوس کردیا ہے تو جان لو کہ تم نے اپنے اوپر اپنی رسد خوراک کے دروازے بند کر لیے ہیں۔ آج سے سمجھ لو کہ غلے کا ایک دانہ بھی یمامہ سے تمھاری طرف نہیں پہنچ پائے گا۔ قریش کے لوگوں نے آپس میں مشورہ کیا اور ان کے صاحب الرائے لوگوں نے اس عمل کو خطرناک، عاجلانہ اور احمقانہ قرار دیا۔ چنانچہ انھوں نے ثُمامہؓ کو فوراً چھوڑدیا۔

ثُمامہؓ جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں۔ یہ عمرہ کرکے واپس اپنے قبیلے میں پہنچے تو انھوں نے مکہ کی طرف غلے کی ترسیل مکمل طور پر بند کردی۔ اب قریش کو اندازہ ہوا کہ انھوں نے اپنی حماقت سے اپنے پائوں پر کلہاڑا مار لیا ہے۔ آنحضورؐ کے ساتھ مشرکینِ مکہ کی دشمنی ڈھکی چھپی نہ تھی۔ لیکن اس سخت صورتِ حال میں کہ جس میں مکہ کے لوگوں کو بھوک کی وجہ سے محبوسانِ شعبِ ابی طالب کی طرح درختوں کے پتے اور چھال کھانے اور چمڑے ابال کر پانی پینے کی نوبت آئی، انھوں نے آنحضورؐ سے رجوع کیا اور ان سے درخواست کی کہ اپنے پیروکار ثُمامہ بن اُثال کو حکم دیں کہ وہ غلے کی ترسیل پر سے پابندی اٹھائے۔ یہ نبی اکرمؐ کی فتح تھی۔ آپؐ نے ثُمامہؓ کو حکم دیا کہ وہ پابندی ختم کردیں۔ چنانچہ انھوں نے آنحضورؐ کے پیغام کا احترام کرتے ہوئے فوراً یہ پابندی ختم کردی۔

آپؐ کو تین سال تک شعبِ ابی طالب میں محصور کرکے دنیا کی ہر نعمت سے محروم کر دینے والوں کی یہ بے بسی! اور پھر درِ یتیم کا اعلیٰ ترین اخلاق و ظرف کہ اس واقعہ کی طرف اشارہ تک نہ کیا! سبحان اللہ کیا عظیم رہبر تھے!! سلام اُن پر، درود اُن پر!!!


ای پیپر