یوریا: درآمد کے ساتھ ملکی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے!
16 نومبر 2018 2018-11-16

جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جہاں اور کئی فیصلے کئے گئے وہاں گندم کی امدادی قیمت 1300 روپے فی من (چالیس کلو) برقرار رکھنے اور 50ہزار ٹن یوریا کھاد فی الفور درآمد کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ وفاقی کا بینہ کے ان فیصلوں سے ملک میں زراعت کی ترقی کے ساتھ گندم کی پیداوار میں اضافے اور کسانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ باہر سے یوریا یا دوسری کھادیں درآمد کرنے کی بجائے کیا ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ملک میں ضرورت کے مطابق کھادوں کی پیداوار کو یقینی بنائیں اور اس کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ اس ضمن میں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ملک میں فرٹیلائزرز (کھادیں) بنانے کے کارخانے پوری استعداد اور گنجائش کے مطابق اپنی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں یا نہیں اور کیا انہیں اس کے لیے خام مال بالخصوص قدرتی گیس وافر مقدار میں اور بغیر کسی رکاوٹ کے دستیاب ہے یا نہیں؟ اس کے ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ کیا کسانوں کو کھادیں ضرورت کے مطابق بہ آسانی او ر مقررہ نرخوں پر مل پاتی ہیں یا نہیں؟ موجودہ معروضی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے ان سوالوں کے جواب کہاں تک تسلی بخش ہیں اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے ۔

راقم کو زرعی ماہر ہونے کا کوئی زعم نہیں اور نہ ہی وہ کوئی بڑا زمیندار ہے البتہ کھیتی باڑی کو ذریعہ معاش کے طور پر اختیار کیے رکھنے والے ایک محنتی اور جفاکش کسان گھرانے سے تعلق رکھنے کی بنا پر اسے کھیتی باڑی کے اپنے آبائی پیشے سے شغف ہی نہیں ہے بلکہ مختصر سی آبائی زمین میں ہر سال گندم کی فصل اگانا اسے دل و جان سے عزیز بھی ہے ۔ اس پس منظر اور سیاق وسباق میں اسے کھادوں کی قیمت اور دستیابی وغیرہ کے معاملات سے کچھ نہ کچھ واسطہ پڑتا رہتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سال کھادوں کی وافرمقدار میں دستیابی کے مسائل ہی سامنے نہیں آئے بلکہ پچھلے دو سالوں کے مقابلے میں ان کے نرخوں میں بڑا اضافہ بھی دیکھنے کو ملا۔ یہاں پنڈی میں اڈیالہ روڈ سے ایک بڑے سٹور(غلہ منڈی ) پر اکتوبر کے آخر میں یوریا کھاد 50 کلو بوری 1850روپے ، ڈی اے پی(سونا) 3850روپے اور نائٹروفاس 3050 روپے فی بوری مل رہی تھی۔ ایک آدھ ہفتہ بعد ان کی قیمتوں میں تقریباً 50روپے فی بوری اضافہ ہوگیا۔ پچھلے سال اس سال کے مقابلے میں ان کھادوں کے نرخ ہی تقریباً ایک تہائی کے لگ بھگ کم نہیں تھے بلکہ یہ وافر مقدار میں دستیاب بھی تھیں۔ یوریا زیادہ سے زیادہ فی بوری1400روپے اور ڈی اے پی فی بوری 2700روپے

میں مل رہی تھی۔ اس سے پچھلے سال یعنی 2016 میں وزیر اعظم کی طرف سے تین ارب روپے کے کسان پیکج کے اعلان کے بعد کھاد بنانے والے کارخانوں کو پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ یوریا اور دوسری کھادوں پر ملنے والی سبسڈی کی رقم (جو کم از کم 500روپے فی بوری تھی) منہا کر کے خریدار سے وصول کی جانے والی رقم بطور قیمت کھاد کی بوریوں پردرج کریں۔یہ ناجائز منافع خوری کے تدارک کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ اس سال حکومت کی طرف سے کھاد کی قیمتوں پر کنٹرول کا کوئی نظام دیکھنے کو نہیں ملا۔ اس طرح دکانداروں اور سٹاکسٹس کو اپنی من مانی قیمتیں مقرر کرنے یا وصول کرنے کی بڑی حد تک آزادی رہی اور اب بھی ہے ۔

جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ملک میں موجودہ کھاد کے کارخانے( فرٹیلائزرز فیکٹریاں) کیا ملکی ضروریات کے مطابق کھاد بنانے کی صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں یا نہیں اس بارے میں اعدادو شمار دستیاب نہ ہونے کی بنا پر کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ فوجی فرٹیلائزرز جیسے کئی کارخانے موجود ہیں جو لاکھوں ٹن سالانہ یوریا ، ڈی اے پی اور دوسری کھادیں بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کارخانوں کو کھاد بنانے کے لیے قدرتی گیس وافر مقدار میں دستیاب ہے یا نہیں؟ بلاشبہ قدرتی گیس کے ذخائر کو بے دردی سے استعمال کرنے، چولہوں میں جلانے اور CNG سٹیشنز کے ذریعے گاڑیوں کا ایندھن بنانے کی وجہ سے اسکی قلت پیدا ہو چکی ہے اور اسکی لاوڈشیڈنگ مجبوری ہے ۔اس پر مستزاد یہ کہ گھریلو صارفین کو سارا سال با لخصوص سردیو ںمیں جب گیس کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے گیس مہیاکرنا ضروری ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے صنعتوں کے لیے گیس کی لوڈشیڈنگ کرنی پڑجاتی ہے ۔ پچھلی حکومت کوبہرکیف یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے LNGدرآمد کر کے گیس کی ضروریات کو پورا کرنے اور اس کی قلت کو دور کرنے کی سنجیدہ کوششیں کیں۔ موجودہ حکومت کو پچھلی حکومت کے LNGدرآمد کرنے کے معائدوں کی شفافیت پر کچھ اعتراضات اور تحفظات ہیں۔ سابقہ وزیراعظم شاہدخاقان عباسی برملا ایک بار نہیں کئی بار کہ چکے ہیں کہ وہ بطور وفاقی وزیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل LNGمعائدوں کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ اسکا جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ یقینا ان کے استدلال میں وزن ہے ۔ موجودہ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ معائدوں میں اگر کوئی گڑبڑ ہے تو اسے ضرور آڈٹ وغیرہ کرا لینا چاہیے۔ یہ نہیں کہ مخالفانہ بیان بازی یا خواہ مخواہ کے اعتراضات کی وجہ سے LNGکی سپلائی جو ملک میں قدرتی گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ازحد ضروری ہے ، اس میں کوئی رخنہ پڑے ۔گھریلوصارفین کے ساتھ کھاد کے کارخانوں کے لیے گیس کی 24گھنٹے سپلائی جاری رہے تو کھاد کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے یا کھاد کے کارخانے اپنی پوری استعداد اور صلاحیت کے مطابق کھاد بنا سکتے ہیں۔

یہاں اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے کہ ملک میں زرعی کھادوں کے استعمال میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ ایسا ہونا بھی چاہیے کہ کھادوں کے استعمال سے ہی مختلف فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں جو ہمارے ہاں اس وقت بھارت یا اسی طرح کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ پاکستان میں زراعت کو ریڑھ کی ہدی کی حیثیت حاصل ہے ۔ ملک کی کم و بیش 70فی صد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے ۔ اس طرح ملک کی ترقی کے لیے زراعت کی ترقی ناگزیر ہے اور زراعت کی ترقی اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جدید کھیتی باڑی کے تمام لوازمات جن میں ترقی یافتہ بیجوں اور زرعی کھادوں کا استعمال لازمی ہے دستیاب ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ زراعت کی طرف خصوصی توجہ دے اور زرعی کھادوں کی وافر مقدار میں بآسانی اور ارزاں یا کم از کم حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنائے۔


ای پیپر