فیصل آباد ہائی کورٹ بنچ… ہنوز دلی دُور است
16 نومبر 2018 2018-11-16

پاکستان کا تیسرا بڑا شہر فیصل آباد کبھی سیدھے سادھے اور پر امن لوگوں کا شہر ہوا کرتا تھا لیکن حالیہ دہائیوں میں اس میں بڑی تیزی سے طرز زندگی تبدیل ہوتا چلا گیا اس کے با وجود لائل پور والوں کی حس مزاح اور مخصوص بولی بارڈر کے اس پار بھی مشہور ہے۔ البتہ پچھلے کچھ سالوں سے فیصل آباد کا نام ہمیشہ منفی خبروں کے بل بوتے پر ہی گونجتا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد زیادہ عرصہ پنجاب کی وزارت داخلہ یوں سمجھیں کہ فیصل آباد کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک تھی یہ رانا ثناء اللہ کا زمانہ تھا اور شہر میں ماورائے عدالت پولیس مقابلوں پر آئے دن احتجاج ہوتا تھا۔ اس احتجاج کے ساتھ ساتھ شہر میں ٹیکسٹائل اور صنعتوں کے بحران اور فیکٹریوں کی بندش اور مزدوروں کی بیروز گاری پر احتجاج روزانہ کا معمول رہا ہے۔ البتہ احتجاج کی ایک تیسری قسم بھی ہے عددی طور پر کم مگر شدت میں ان سب سے زیادہ ہے اور وہ ہیں فیصل آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء جو فیصل آباد میں لاہور ہائی کورٹ بنچ کے قیام کے لیے تقریباً ایک دہائی سے احتجاج کر رہے ہیں جس میں مظاہرے روڈ بلاک عدالتی بائی کاٹ سارا کچھ شامل ہے۔

فیصل آباد میں ہائی کورٹ بنچ نہ ہونے کا خمیازہ یوں تو عوام کو بھگتنا پڑتا ہے جو انصاف کے End User یا اصل Beneficiary ہیں مگر وکلاء برادری یہ سمجھتی ہے کہ بنچ نہ ہونے سے ان کا بھی پیشہ وارانہ استحصال ہو رہا ہے لاہور ہائی کورٹ کا لاہور سے باہر اب تک ایک بہاولپور میں بنچ ایک ملتان بنچ کام کر رہا ہے جو سائوتھ پنجاب کو ڈیل کرتا ہے گزشتہ ادوار میں حکومتی سطح پر فیصل آباد بار ایسوسی ایشن کو بار بار یقین دہانی کروائی گئی کہ ان کا یہ مطالبہ تسلیم کیا جائے گا مگر یہ وعدہ وفانہ ہو سکا۔ ڈسٹرکٹ بار کی تاریخ میں شاید اتنی ہڑتالیں اور احتجاج کسی اور معاملے پر نہیں ہوا۔

اس پس منظر میں احتجاج کی نئی لہر پھر سے شروع ہو گئی ہے۔ DBA فیصل آباد کو اس دفعہ امید ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان اپنی اپوزیشن کے دور میں ایک دفعہ فیصل آباد بار میں خطاب کے لیے آئے تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بر سر اقتدار آ کر یہ مطالبہ پورا کر دیں گے ۔ اس سے پہلے چوہدری سرور جب ن لیگ کے گورنر تھے تو وہ بھی اسی طرح کا عہدو پیماں فیصل آباد والوں سے کر چکے ہیں۔ اس لیے وکلاء کو یقین ہے کہ اس دفعہ ان کا احتجاج رنگ لے آئے گا۔

اس ہفتے فیصل آباد کے وکلاء نے ایک بار پھر نئے ولوے سے احتجاج کا آغاز کر دیا ۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ بار فیصل آباد کے الیکشن کے لیے کیمپین کا موقع ہے اور مختلف گروپ اس تحریک میں اپنا حصہ ڈال کر ووٹرز پر اپنی دھاک بٹھانا چاہتے ہیں لیکن لاہور کے وکلاء کا خیال ہے کہ اس دفعہ والا احتجاج اتنا اچانک اور آناً فاناً شروع ہو اہے کہ جیسے کہیں سے کوئی بٹن دبا دیا گیا ہے۔ اب پتہ نہیں یہ اشارہ کہاں ہے۔

اس کہانی کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چند وکلاء ایک مٹھی بھر گروپ نے ڈپٹی کمشنر آفس پر اس وقت دھاوا بول دیا جب ڈپٹی کمشنر سردار سیف اللہ ڈوگو ایک اجلا س کی صدارت کر رہے تھے وکلاء زبردستی اندر گھس گئے اور اجلاس کو سبوتاژ کر دیا اسی اثناء میں بے قابو قانون دانوں نے ڈی سی کے ساتھ دست درازی کی بھی کوشش کی مگر محافظوں کی مداخلت کی وجہ سے انہیں پسپا ہونا پڑا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سردار سیف اللہ نے بطور ڈپٹی کمشنر نہایت تحمل کا مظاہرہ کیا وہ پولیس ایکشن یا گرفتاریوں کا حکم دے سکتے تھے۔ مگر انہوں نے ذاتی توہین کو نظر انداز کرتے ہوئے کارروائی اور اشتعال سے اجتناب کیا اس معرکے کے سُر خیل میاں لیاقت ایڈووکیٹ کو ٹی وی چینلز پر سب نے دیکھا وہ سینئر وکیل ہیں جو جناح کیپ پہنے فوٹیج میں ڈی سی پر حملہ کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ آئندہ

الیکشن میں بار کی صدارت کے امیدوار ہیں۔

ضلعی انتظامیہ یا پولیس کی طرف سے ابھی تک قانون شکن وکلاء کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی سردار سیف اللہ ڈوگر نے رابطہ کرنے پر بیان دینے سے گریز کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ وزیر اطلاعات ہی بیان دیں گے دوسری طرف DBA سیکرٹری نے بھی فون نہیں اٹھایا، سینئر وکلاء نے واقعہ کی مذمت کی ہے ۔ عام طور پر اس طرح کے واقعات نوجوان وکلاء کرتے ہیں ایک ادھیڑ عمر شخص جسے قانون کی پریکٹس کرتے کرتے عمر گزر گئی ہو اس سے اس طرح کے طرز عمل کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ یاد رہے کہ مذکورہ وکیل اس سے پہلے ایک جج صاحب پر جوتا پھینکنے میں بھی ملوث ہو کر DBA کو مشکل میں ڈال چکے ہیں۔ حالیہ واقعہ پر وکلاء کا رد عمل تین قسم کا ہے اکثریت نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے کچھ حلقوں نے اس کی حمایت کی ہے مگر ایک قابل ذکر تعداد ایسی بھی ہے جو میڈیا کے سامنے مزمت کرتے ہیں مگر وکلاء کمیونٹی کے اندر بیٹھ کر اس کی حمایت کرتے ہیں اس سے ہمارے معاشرتی طرز فکر کی عکاسی ہوتی ہے کیونکہ وکلاء بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔

اندر کی بات یہ ہے کہ فیصل آباد کے ہائی پروفائل اور ہائی ویلیو وکلاء کو اس کمپین سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے ان کی طرف سے تحریک کی حمایت رسمی اور علامتی ہے ان کے بڑے بڑے مئوکل انہی پر مطمئن ہیں ۔ لہٰذا وہ فیس کے علاوہ اپنے وکیل کو لاہور تو کیا کراچی یا اسلام آباد بھی کیس ہو تو فیس کے علاوہ آنے جانے اور رہائش تک کا خرچہ دیتے ہیں۔ دوسری طرف چھوٹے وکیل ہیں جو اس تحریک کی چکی میں پس رہے ہیں ہڑتالوں سے ان کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے اور سائلین خوار ہو رہے ہیں مقدمات کا bach log بڑھ رہا ہے۔

اس تحریک کی کامیابی کے امکانات کم ہیں کیونکہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے اس کی منظوری دینی ہے جج صاحبان اس کی حمایت نہیں کرتے کہ اگر گوجرانوالہ فیصل آباد سرگودھا سب جگہ ہائی کورٹ پنچ بن گئے تو ان کی اپنی اتھارٹی کم ہو جائے گی۔ یہ ایک طرح سے کافی پیچیدہ مسئلہ ہے جس کا فوری حل ممکن نہیں۔

البتہ ڈپٹی کمشنر والے واقعہ نے وکلاء کی کاز کو نقصان پہنچایا ہے اس پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو از خود نوٹس لینا چاہیے مگر انہوں نے نہیں لیا مگر یہ بات یقینی ہے کہ جب ان کے سامنے فیصل آباد بنچ کا معاملہ آئے گا تو حالیہ واقعہ ایک speed breaker ہے جس کا نقصان فیصل آباد والوں کو ہو گا۔

ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ فیصل آباد بنچ کی منظوری کے پر عمل میں کہیں دور دور تک ڈی سی کا کوئی تعلق نہیں پھر اس پر حملہ کیوں کیا گیا ۔ کیا معزز وکیل جو بار کی صدارت کے امیدوار بھی ہیں اور عدالت کی راہداریوں میں چلتے چلتے جن کے بال سفید ہو چکے ہیں انہیں ادراک نہیں کہ یہ ایک گناہ بے لذت ہے۔ اور سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مزکورہ ڈی سی سردار سیف اللہ ڈوگو کو چارج لیے ہوئے چند روز ہوئے ہیں وہ اس کیس میں کسی بھی طرح پارٹی اتھارٹی یا سٹیک ہولڈر نہیں ہیں۔

یہی قانون ان کے لیے ہیں کہ ’’ Ignorance of law is no excuse ‘‘ مگر یہ اصول تو عام لوگوں کے لیے ہے۔ مشہور مغربی قانون دان jeremy benthon نے کہا تھا کہ

A lawyer is the only man in whom ignorance of law is not punished

وکیل وہ فرد واحد ہے جسے قانون سے لا علمی پر سزا نہیں دی جاتی ۔ ہم نے تو وکلاء سے یہ سنا ہے کہ اگر دنیا میں لوگ نہ ہوتے تو اچھے وکیل کہاں سے آتے لیکن زیر بحث موضوع میں حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پانامہ کیس میں ماریو پیوزو کے مشہور ناول دی گاڈ فادر کا حوالہ دیا ہے مصنف نے A lawyer with a brief case کے بارے میں اسی ناول میں جو لکھا ہے وہ میں یہاں نہیں لکھنا چاہتا کہیں فیصل آباد میں میرے دوست وکلاء ناراض نہ ہو جائی۔


ای پیپر