وزیر زراعت کے پاس وقت ہی نہیں
16 نومبر 2018 2018-11-16

روزنامہ ’کاوش‘ لکھتا ہے کہ سندھ زرعی صوبہ ہے ۔ یہاں کی بڑی آبادی کا انحصار زراعت پر ہے ۔ اس کے باوجود حکومت سندھ کی زراعت کے بارے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ سندھ شوگر کین بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے لیکن وزیر زراعت کے پاس اس سنجیدہ اور حساس مسئلے پر توجہ دینے کے لئے وقت ہی نہیں کہ وہ بورڈ کا اجلاس طلب کر کے گنے کی سرکاری قیمت کا تعین کرے۔ وفاقی حکومت بھی 15 نومبر تک گنے کی پسائی شروع کرانے کا وعدہ بھول گئی ہے۔ وزیر زراعت کا یہ بیان رپورٹ ہوا ہے کہ کاشتکاروں کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ 30 نومبر سے پہلے گنے کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

سندھ کی زراعت کو درپیش مسائل میں سے اکثر کا تعلق گورننس سے ہے۔ حکومت سندھ نے زراعت کے بحرانوں کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ان بحرانوں میں ایک اہم بحران اور مسئلہ گنے کی وقت پر خریداری اور قیمت کے تعین کا ہے۔ یہ کوئی ایک دو سال کا قصہ نہیں ۔ برسہا برس سے یہ مسئلہ چل رہا ہے ۔ نہ صوبائی حکومت وقت پر گنے کی قیمت مقرر کرپاتی ہے اور نہ ہی یہ مقررہ قیمت کاشتکاروں کو دلانے کے لئے شوگرملوں پر دبائو ڈال پاتی ہے۔ گنے کے کاشتکاروں اور شوگر ملوں کے درمیان یہ کشیدگی گنے کی سیزن سے شروع ہوتی ہے، اس میں یہی نظر آتا ہے کہ حکومت شوگر ملز کی طرف کھڑی ہے ۔ رواں سال اگرچہ یہ کہا گیا تھا کہ 30نومبر تک شوگر ملز چالو ہو جائیں گی لیکن اب حکومت نے اپنے مؤقف میں یو ٹرن لیا ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ 30 نومبر تک گنے کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ شوگر ملز کب گنے کی خریداری اور پسائی شروع کرائیں گی؟ اس کا فسانے میں ذکر نہیں ۔ وزیرزراعت کہنے کو تو کہتے ہیں کہ کاشتکاروں کا کوئی نقصان ہونے نہیں دیا جائے گا لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ گنا سوکھ رہا ہے۔ گندم کی بوائی میں دیر ہورہی ہے کیونکہ گنے کی فصل ابھی تک کھڑی ہے اور زمین خالی نہیں ہوئی ہے۔ کیا یہ کاشتکاروں کا نقصان نہیں ؟ کیا وزیر زراعت بتائیں گے کہ گنے کی کٹائی میں دیر سے کس کا

نقصان ہو رہا ہے؟ فرض کر لیتے ہیں کہ گنے کی قیمت 30 نومبر کو مقرر کردی جاتی ہے۔ اصل مسئلہ شوگر ملز کی چمنیاں جلانا ہے۔ گنے کی پسائی شروع کرنے سے ایک ہفتہ پہلے شوگر مل کی چمنی جلائی جای ہے۔ لگتا ہے کہ دسمبر کا مہینہ بھی اس کشیدگی میں گزر جائے گا۔ گنے کا سیزن جو اکتوبر میں شروع ہونا تھا وہ جنوری میں شروع ہوپائے گا۔ یوں گنے کی پسائی تین ماہ آگے چلی جائے گی۔ صوبائی حکومت ہر سال پاسما کے سامنے بے بس رہتی ہے۔ وقت پر گنے کی پسائی دور کی بات کاشتکاروں کو سرکاری طور پر مقرر گنے کی قیمت کی ادائیگی بھی نہیں ہوتی۔ اگرچہ پنجاب میں گنے کی قیمت 180 روپے فی من مقرر کرنے کے بعد 30نومبر سے پسائی شروع کرنے کا نوٹیفکیشن دو ہفتے قبل جاری کردیا گیا ہے لیکن حکومت سندھ گنے سے پہلے کاشتکاروں کی پسائی کر رہی ہے۔ کاشتکاروں کی دوسری پسائی گنے کی سرکاری طور پر مقرر قیمت کی ادائیگی میں رکاوٹیں ڈالنے اور بقایاجات کی عدم ادائیگی کی صورت میںکی جائے گی۔ ایسے میں وفاقی حکومت کا چاروں صوبوں میں گنے کی پسائی 15 نومبر تک شروع کرانے سے متعلق بیان نمائشی لگتا ہے۔

روزنامہ ’کاوش‘ لکھتا ہے کہ عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد غریب دیہات میں رہتے ہیں۔جہاں کے رہائشی شہری علاقوں کے مقابلے میں غریب ترین اور تقریباً تمام سہولیات سے محروم ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود شہری اور دیہی علاقوں میں یہ فرق کم نہیں کیا جاسکا ہے۔ ’’اسٹیٹ آف واٹر اینڈ سینیٹیشن اینڈ پاورٹی ان پاکستان‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی اس رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ بلوچستان میں غربت زیادہ ہے جہاں ساٹھ فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتی ہے۔ دوسرے نمبر پر سندھ ہے جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں صورت حال قدرے بہتر ہے۔

روزنامہ ’عبرت‘ لکھتا ہے کہ دنیا کے بعض دیگر ممالک کی کی طرح پاکستان میں بھی مالیاتی اداروں، حکومتی اخراجات، کرپشن کی وجہ سے غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں کے لئے ایک وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان پہلے ہی غریب ملک ہے اوراس کی معیشت مختلف اتار چڑھائو کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہے۔ ناکام اقتصادی پالیسیاں بھی غربت میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں غریب عوام ابتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ بھی ہوتا رہا ہے کہ طاقتور طبقے نے اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے قرضے لئے۔ بعد میں یہ قرضے معاف کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا سہارا لیا۔ نتیجے میں عوام پر اربوں روپے معاشی بوجھ پڑا۔ ادراوں کی کارکردگی، عوام سے وصول کئے گئے ٹیکس کا غلط استعمال ، حکمرانوں کی جانب سے لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک میں لے جانے کی وجہ سے بھی دور دراز علاقوں میں ترقی نہ ہو سکی۔ طاقتور اور بالادست طبقے کے حق میں ملک کی اقتصادی پالیسیاں بنانا غربت کی اصل بنیاد ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکمران طبقات اور تمام ادارے آپس میں ہم آہنگی پیدا کر کے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں ۔ دہی خواہ شہری علاقوں میں بلاتفریق غربت کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں کہ کچھ خوشحالی اور خوشی غریبوں کے حصے میں بھی آئے۔

روزنامہ ’سندھ ایکسپریس‘ کے کالم نگار اعجاز منگی لکھتے ہیں کہ چاروں صوبوں میں تشکیل دی گئی فوڈ اتھارٹیز خواتین کے حوالے کی جائیں۔ کراچی میں ایک ہوٹل میں زہریلا کھانا کھانے کے بعد دو بچوں کی فوتگی کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور نہیں جب انسان جینے کے لئے کھاتا تھا۔ اب یہ دور ہے کہ انسان کھانے کے لئے جیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں فوڈ ایک بہت بڑی انڈسٹری ہے۔ اگرچہ فیشن کی بھی بہت بڑی مارکیٹ ہے لیکن فوڈ کی اس سے بڑھ کر مارکیٹ ہے۔ کھانا ہر عمر اور جنس کے شخص کو چاہئے۔ کھانے کی دنیا بہت وسیع ہے جس سے کئی معاشی، سیاسی اور معاشرتی مسائل منسلک ہو گئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کھانا بنیادی طور پر خواتین کی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ اس لئے اگر فوڈ انڈسٹریز خواتین کے حوالے کی جائیں گی تو غذائیت کی کمی خواہ غیر معیاری کھانے وغیرہ کے مسائل کو اچھی طرح سے نمٹا جاسکے گا۔


ای پیپر