بلیک لسٹ کرنا فلسطینی قوم کو دباؤ میں لانے کا حربہ ہے: حماس
16 نومبر 2018 (14:56) 2018-11-16

غزہ :اسلامی تحریک مزاحمت’’ حماس ‘‘کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے جماعت کے نائب صدر صالح العاروری کو امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست کا براہ راست حملہ قرار دیا ہے ۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن نے العاروری کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے سرکی قیمت مقرر کرنے کے ذریعے ایک بار پھریہ ثابت کیا کہ امریکیوں پرانصاف، قانون اور بنیادی حقوق پر ایمان نہیں بلکہ وہ صرف صہیونیوں کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔ العاروری کو بلیک لسٹ کرنا جماعت ہی نہیں بلکہ پوری فلسطینی قوم پربراہ راست حملہ ہے ۔اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ حماس کے رہ نما کو ایک ایسے وقت میں بلیک لسٹ کیا گیا جب دوسری جانب صہیونی ریاست نے فلسطینی قوم پروحشیانہ جنگ مسلط کر رکھی ہے ۔ اسرائیل غزہ کی پٹی میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا مرتکب ہے ۔ ایسے میں حماس کے کسی رہنماکو بلیک لسٹ کرنا اور اسے اشتہاری قرار دینا انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب صہیونیوں کے جرائم کی حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حماس کی قیادت کو بلیک لسٹ کرنا فلسطینی قوم اور جماعت کو دباؤ میں لانے کا ایک نیا حربہ ہے مگر فلسطینی قوم اس میں کامیابی سے ہم کنار ہوگی،امریکا اور صہیونی مل کر بھی حماس کو دباؤ میں لانے اور فلسطینی تحریک مزاحمت کو کچلنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔ امریکا اور صہیونی ریاست کی ننگی جارحیت کے باوجود فلسطینی قوم کے حقوق کے لیے جدو جہد اور مسلح مزاحمت جاری رکھی جائے گی۔خیال رہے کہ حال ہی میں امریکا نے حماس کے نائب صدر صالح العاروری کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دیا اوران کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کو 50 لاکھ ڈالر انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے ۔


ای پیپر