یہ دن کہیں نہیں جا رہے
16 نومبر 2018 2018-11-16

وزیراعظم عمران خان کاسودن کا نعرہ تو سیاسی بیان قرار پا چکا ، اُن کے وزرا بھی کہہ رہے ہیں کہ بھلا سو دنوں کے اندر تبدیلی کہاں آتی ہے یعنی اسی، نوے دن گزرے تو حکومت نے بھی تسلیم کر لیا کہ سیاسی بیان جھوٹ ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ سیاست اور سیاستدانوں پر عوام کا اعتماد ختم ہوتاچلا جا رہا ہے۔ سیاست میں سچ کی اہمیت کو ختم کرنے کے لئے صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ دوسری سیاسی جماعتیں بھی اپنا کردارادا کر رہی ہیں۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے پچھلی قومی اسمبلی میں بطور رکن ( یا وزیراعظم) کی گئی تقریر پر استثنیٰ مانگ لیا ہے یعنی اب کہا جاسکتا ہے کہ انہوںنے قومی اسمبلی میں غلط بیانی کی تھی۔ کیا میاں نواز شریف کا یہ جواز تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں خطاب ان کی نہیں بلکہ ان کے بیٹے کی معلومات پر مبنی تھا۔ کیا یہ بات بھی مانی جا سکتی ہے کہ سابق وزیراعظم کو مریم نواز شریف کے اکاونٹ میں انسٹھ ملین کی خطیر رقم کے آنے کا علم ہی نہ ہو۔ یہ درست ہے کہ وہ نوا زشریف، حسین نواز شریف کے ٹیکس کے گوشواروں کے بارے میں لاعلم ہوںجو وزیراعظم تھے، اس وقت وہ ایک ملزم کے طور پر عدالت کے سامنے پیش ہو رہے ہیں اور یہ کامن سینس کا سوال ہے کہ کیاحسین نواز اپنے والد کو بھی اپنے گوشواروں پر اعتماد میں نہیں لے سکتے، اس وقت نواز شریف کے پاس اس کے سوا دوسری مصروفیت کیا ہے کہ وہ اپنے مالی معاملات پر غور کریںاور انہیں درست کر لیں کہ تادم تحریر انہوں نے سیاست سے چھٹی لے رکھی ہے۔

بیگم کلثوم نواز کی رحلت اور چالیسویں کی رسم کے درمیان جب یہ کہاجاتا تھا کہ نواز شریف اور مریم نواز شریف خاموش رہیں گے تو عجیب لگتا تھا۔ کچھ لوگوں کے پاس یہ اطلاعا ت تھیں کہ نواز شریف ایک اور این آر او کرتے ہوئے ملک سے باہر جانا چاہتے ہیں او راب اس میں اتنی ترمیم ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں جانا چاہتے مگر مریم نواز کو بھیجنا چاہتے ہیں۔ مریم نواز کی خاموشی اور جلاوطنی موجودہ حالات میں شریف فیملی اور حکومت دونوں کے بہترین مفاد میں ہے ۔شریف فیملی کے مفاد میں اس لئے کہ خاندان کی اندرونی بحث میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو قائل کیا جا چکا ہے کہ مریم نواز کے بیانات نے ہی جلتی پر تیل ڈالاا اور اگر بات نواز شریف تک رہتی تو کنٹرول کی جا سکتی تھی ، حکومت کے مفاد میں اس لئے ہے کہ قیادت کے طور پر مریم نواز اس وقت نواز شریف سے بھی بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ انہیں نوجوان نہیںسمجھتے تو وہ بوڑھی بھی نہیں ہیں ۔ ان کے پاس سیاست کا کھیل کھیلنے کے لئے ایک طویل وقت موجود ہے او روہ اپنے بیانئے کے ساتھ جمہوریت پسندوں کی واحد چوائس بن سکتی ہیں مگر ان کی خاموشی ظاہر کررہی ہے کہ وہ اپنے خاندان کو فوری نقصان سے بچانا چاہتی ہیں اوراس کے لئے اپنے سیاسی کیرئیر کی قربانی دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔ سوشل میڈیا پر وہ تمام حلقے جو مریم نواز شریف کے قریب سمجھے جاتے ہیں وہ امید دلاتے ہیںکہ مریم نواز شریف بہت جلد بولیں گی مگر اب کوئی تاریخ نہیں دی جا رہی۔اپوزیشن میںمضبوط قیادت کی عدم موجودگی ہمیشہ حکومت کی مضبوطی ثابت ہوتی ہے۔

معاملات اتنے سیدھے سادھے نہیں ہوتے جتنے ظاہر کئے جاتے ہیں اور خاص طور پر مالی معاملات میں سچ، جھوٹ سب کچھ شامل ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو بھی ان کے ذرائع آمدن، اثاثوں اور اخراجات پر اسی طرح رگڑا جائے تو بہت سارے سوالات پیدا ہوجائیں گے جو نواز شریف کے سامنے رکھے ہوئے سوالوں سے بھی زیادہ مشکل ہو سکتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں احتساب ہمیشہ خاص قسم کے سیاستدانوں کا ہوا ہے، وہ سیاستدان جن میںان کے حامی ہوا بھر دیتے ہیں کہ وہ عوام کے رہ نما بن چکے ہیں، وہ ملک کے لئے ناگزیر ہو چکے ہیں اور پھر احساس دلایا جاتا ہے کہ کوئی بھی سیاستدان ملک کے لئے ناگزیر نہیں ہے۔ میں نے مسلم لیگ ن کے بہت سارے رہنماﺅں سے آف دی رکارڈ پوچھا، وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ جو معاملہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی کے ساتھ ہوا اور جو معاملہ اس وقت ان کی قیادت اور تنظیم کے ساتھ ہو رہا ہے وہی معاملہ چند ہی برسوں میں تحریک انصاف کی قیادت اور عہدے داروں کے ساتھ بھی ہوجائے گا بلکہ ان کا خیال ہے کہ عمران خان کے ساتھ یہ وقت زیادہ جلد آجائے گا کیونکہ وہ خود کو نواز شریف سے زیادہ بڑا کرشماتی رہنما سمجھتے ہیں ۔تاہم فی الوقت مسلم لیگ ن کے حمایتیوں کو ایسی خبروں پر زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں جیسی یہ خبر کہ چیف جسٹس کی طرف سے حکومت کی اہلیت، صلاحیت اور منصوبہ بندی پر سوال اٹھایا گیاکیونکہ بڑے سیاق و سباق میں یہ خبرواضح طور پر غلط نظر آتی ہے۔ ایک طرف چیف جسٹس سے منسوب یہ خبر شہ سرخیو ں شائع کی جا رہی تھی تو دوسری طرف کور کمانڈرز میٹنگ میں ریاستی اداروں کے لئے فوج کی حمایت کا اعادہ ہو رہا تھا اور پھر حالات و واقعات کا منطقی نتیجہ یہی نکلا کہ خبر کی تردید ہو گئی۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ تحقیق پر خبریہ کسی رپورٹر کی غلطی یاخواہش نکلے۔ سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کسی طور بھی آسان کام نہیں ہے کیونکہ وہاں آپ کو گفتگو رکارڈ کرنے کی سہولت نہیں لہذا بسا اوقات سیاق و سباق غلط ہو جاتا ہے جیسا کہ چیف جسٹس نے سی ڈی اے کے بارے میں ریمارکس دئیے جو حکومت کے بارے میں سمجھ لئے گئے اگرچہ سی ڈی اے بھی حکومت کا ہی ایک ادارہ ہے مگر بہرحال حکومت ، حکومت ہے جو اس وقت حکومتیں بنانے اور گرانے والے تمام حلقوں کی گڈ بکس میں ہے۔پنجاب کی حکومت بارے زیادہ کنفیوژن پھیلایا جاتا ہے کہ یہاں تبدیلی آسکتی ہے مگر دوسری طرف عمران خان واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایسی وفاقی حکومت ہرگز نہیں چلائیں گے جس میں پنجاب ان کے پاس نہ ہو کہ ایسی صورت میں وفاقی حکومت کا چلنا مزید مشکل ہوجائے گا۔

حکومت کے بارے میں مقتدر حلقوں کے ریمارکس ہمیشہ سے اہم رہے ہیں جیسے ماضی میں فاروق لغاری نے کہا کہ وہ بی بی کے نہیں بلکہ اللہ کے بندے ہیں تو علم ہو گیا کہ انہوں نے اپنا قبلہ بدل لیا ہے اور اسی طرح غلام اسحق خان نے کہا کہ میں نے کب کہا حکومت ٹھیک چل رہی ہے تو ا س سے حکومت کی رخصتی بارے اندازہ ہو گیا مگر یہاں تمام تر بیانات اور اشارے موجودہ حکومت کی حمایت میں ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عوام میں اس حکومت کے بارے میں غم و غصہ ہے تو یہ بات ہر دور میں ہر جمہوری اور غیر جمہوری حکومت کے بارے کہی جاتی رہی ہے۔ فی الوقت تو سو دن کا وعدہ ہی غلط ثابت ہو اہے اور اب بہتری کے لئے اگلی مدت چھ ماہ اور پھر تین برس بعد کی ہے۔ ویسے حکمرانوں کو چھ ماہ اور تین برس کے بعد کے بارے بیانات کی بھی پریکٹس کر لینی چاہئے کیونکہ جب تین برس گزر جائیں گے تو نئے لئے ہوئے قرضہ جات کی ادائیگیاں بھی شرو ع ہوجائیں گی اور ادھار پٹرول کی عیاشی کے بعد اس کی ادائیگی کا مرحلہ بھی درپیش ہو گا۔ یوں جب تین برس گزر جائیں تو پھر سب کی امیدیں اس حکومت سے ہوتی ہے جو نئی قائم ہونے والی ہوتی ہے لہذا اگر اس وقت مشکل دن ہیں تو یقین رکھئے کہ یہ مشکل دن اگلے چند برسوں میں کہیں نہیں جا رہے ۔


ای پیپر