صدارتی ہنی مون
16 نومبر 2018 2018-11-16

پچھلے دنوں پتہ چلا، ایک پاکستانی اداکارہ ، جن کی شادی اپنی عمر سے خاصے بڑے غالباً خالہ زاد بھائی سے ہوئی ،حالانکہ ہم نے تو ہمیشہ سے یہی سن رکھا ہے، کہ ڈائن بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے، کہ بدمعاش سے بھی بڑا بدمعاش ، بدمعاشی کرتے وقت یہ خیال رکھتا ہے، اور ایسا کام ہمسایوں کے ساتھ نہیں کرتا، بلکہ سات گھر چھوڑ دیتا ہے، شاید اسی لیے میں نے رشتہ داروں میں شادی نہیں کی۔ اسلامی اصول ہمسائیگی بھی یہ ہے کہ آس پاس اور آگے پیچھے کے سات گھر ہمسایوں کے گھر سمجھے جاتے ہیں، شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ڈائین ، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بچوں کے کلیجے کھا جاتی ہے، وہ بھی سات گھر چھوڑ دیتی ہے۔ میں بات کررہا تھا، اداکارہ کی ، شادی تو اس نے کرلی، مگر ہنی مون کے لیے اپنی بہن یا سہیلی کے ساتھ اکیلی گلگت بلتستان چلی گئی، مجھے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کتنی مدت کے لیے شوہر کی دسترس سے بچی ہے ؟ مجھے ہنی مون کا خیال صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس بیان کے ردعمل کے طورپر ذہن میںآیا، انہوں نے فرمایا کہ شادی سے پہلے کے وعدے اور انتخابی نعرے ایک جیسے ہوتے ہیں، یعنی غلط وعدے، اور ”لارے“ لگا کر ووٹروں کو بھی پھنسایا جاسکتا ہے، اور لڑکی کو بھی جھانسہ دیا جاسکتا ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ صدر عارف علوی صاحب نے اپنا ”دل پشاوری“ فلم جوانی پھر نہیں آنی، دیکھنے کے بعد، یا فلم دیکھنے سے پہلے کرتے ہوئے یہ بیان داغ دیا بیشک انسان تو کسی بھی وقت ترنگ میں آسکتا ہے، ایسا بیان، رانا ثناءاللہ ، شیخ رشید احمد، چھوٹے یا بڑے اطلاتی ، نورتن کا ہوتا ، تو درگزر کرنے کی گنجائش موجود تھی، کیونکہ ہمارے لوگ تو فلم مولا جٹ کو اترنے ہی نہیں دیتے، اور عامر خان کی فلم ”ٹھگ آف ہندوستان“ ایک دن میں اربوں کا بزنس کرلیتی ہے۔

موجودہ حکومت کے بارے میں میزبان نے جو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا انٹرویو کررہے تھے، تحریک انصاف کو کامیاب حکومت کے ”گر“ بتانے کا کہا تو انہوں نے صرف ایک انتہائی مجرب اور کامیاب نسخہ بتایا،کہ حکومت کے اکابرین اور کچھ نہ کریں، صرف اپنا منہ بند رکھا کریں اور خلوص کے ساتھ وطن کی خدمت کو اپنا شعار بنالیں کیونکہ ان کا کام ہی ان کی کامیابی کی گواہی دے گا اسی لیے تو بانی پاکستان بار بار کہتے تھے، کہ کام، کام اور کام .... اکیلے وزیراعظم کے اٹھارہ گھنٹے کام کرنے کا کیا فائدہ ؟ اب میں تو نہیں سمجھتا کہ صدر پاکستان عارف علوی صاحب نے اپنے منصب کے مطابق بات کی ہے، کیونکہ ان کے اس بیان سے دوباتوں کا شک پختہ ہوتا ہے، ایک یہ کہ ان کی شادی پسند کی ہے، دوسرے یہ کہ ان کو صدر، بننے کی توقع نہیں تھی، یا پھر وہ اس منصب جلیلہ کے ....نہیں تھے ۔ تقویت شبہات واعتراض کے لیے یہ خبربھی کافی ہے، کہ ان کے گزشتہ سکردو کے دورے پہ صرف ناشتے پر پچاس لاکھ روپے کا خرچہ آیا ہے، صدر صاحب وہ ہیں کہ جو اپنی اس پارٹی کی خفگی اور پریشانی کا باعث اس لیے بنے ہیں کہ وہ اس انتخابی نعرے کی بنیاد پر مسند اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ ملک کو غیر ضروری اخراجات، اور پروٹوکول سے بچائیں گے ،امریکی وزیر خارجہ کی پاکستان آمد پہ تو صرف چائے اور تین بسکٹ رکھے جاتے ہیں مگر اسی ملک کا صدر پچاس لاکھ کاناشتہ کرلیتا ہے، جو پچاس لاکھ کا ناشتہ کرے گا، تو یا پھروہ دور کی کوڑی لائیں گے، یا پھر اپنے تشخص کو بٹہ لگا لیں گے، میں حیران ہوں کہ ان کی اہلیہ محترمہ اس فضول خرچی پہ کیوں خاموش رہیں، سابق صدر ممنون صاحب کی اہلیہ محترمہ ایوان صدر میں رہ کر ماشاءاللہ حافظہ بن گئیں .... مگر خود انہوں نے عاشق رسول کو اپنے دستخطوں سے پھانسی کے پھندے پہ چڑھاکر اپنی نوکری تو بچالی، آخرت کے لیے اللہ سے رجوع کریں۔ مہنگے ناشتے کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لیا، تو صدرعلوی صاحب نے جواب طلبی کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا، تو انہیں بل کی رسید پیش کی، اور واضح کیا کہ اخراجات پچاس لاکھ نہیں بلکہ 51ہزار پانچ سو تھے، جو میں نے اپنی جیب سے ادا کردیئے تھے، مگر وہ رسیدیں بھی غلطیوں سے بھرپور تھیں، جن پر شک وشبہات مزید زیادہ ہوگئے ، قارئین ایک غریب ملک کا صدر اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ انہوں نے ساڑھے پچاس ہزار ناشتے پہ اڑا دیئے تو کیا پھر بھی وہ قابل معافی ہیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ

تیری دعا ہے ، کہ ہوتیری آرزو پوری

میری دعا ہے تیری آروز بدل جائے

اس معاملے میں، میں جے آئی ٹی کا مطالبہ تو نہیں کرتا، اور نہ ہی نیب یا ایف آئی اے کو اس میں ملوث کرنا چاہتا ہوں، مگر میں صدرصاحب سے دست بستہ ملتجی ضرور ہوں کہ خدارا اس وقت پاکستان کے جو مخدوش اندرونی وبیرونی مسائل ہیں، بجائے اس کے کہ وہ انہیں حل کرنے میں وہ اپنے چیئرمین کے معاون ثابت ہوتے، ان کی شہرت کو داغدار نہ کریں اور صدارتی ہنی مون کو خیرباد کہہ کر وہ اپنے اس وعدے کو پورا کریں، کہ وہ روایتی صدر نہیں ہوں گے، بلکہ وہ عملاً میدان عمل میں آئیں گے، اور غریب عوام کے مسائل کو خود ان کے ساتھ مل کر حل کریں گے، اور خصوصاً کراچی کے پانی اور بجلی کے مسئلے کو حل کریں گے۔ عوام کو متبادل جگہ کی فراہمی کا حل کیے بغیر رجسٹری ، اور انتقال شدہ جگہوں کو مسمار کرتے ہوئے، حکومت کہتی ہے، کہ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ ہیں۔ اب سپریم کورٹ کو بھی کھل کر کہنا چاہیے کہ سپریم کورٹ بھی حکومت کے ساتھ ہے، اور میں جناب قمر جاوید باجوہ سے بھی گزارش کروں گا کہ اپنے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں جناب چیف جسٹس صاحب کی شمولیت کی قدر کرتے ہوئے وہ بھی کسی کا دل رکھنے کی خاطر کہہ دیں کہ ہمارا ادارہ بھی آپ کے ساتھ ہے، مگر موجودہ چیف جسٹس کی کسی صاحب اختیار کے ”فیملی فنکشن “ میں شرکت وشمولیت نئی اور انہونی بات نہیں، اس سے پہلے والے چیف جسٹس افتخار چودھری صاحب، تو صدر پاکستان کے بچوں کی سالگرہ میں بھی شرکت کرلیا کرتے تھے، اور ”اف“ تک نہیں کرتے تھے۔

حضرت علامہ اقبالؒ نے نفسیات حاکمی کے بارے میں کمال کا شعر کہا ہے، فرماتے ہیں

رکھنے لگا مرجھائے ہوئے پھول قفس میں

شاید کہ اسیروں کو گوارا ہو اسیری

رابطہ :0300-4383224


ای پیپر