عید کا مخمصہ
16 May 2021 (12:00) 2021-05-16

یا د پڑتا ہے کہ اس مر تبہ کی طر ح جنر ل ایو ب خا ن کے دو ر حکو مت کے دو ران بھی ایک عید جمعہ کو پڑرہی تھی تو ایک دن قبل جبری عید کا اعلا ن کیا گیا۔ اس پر مشہو ر شا عر دلا ور فگا ر نے شا ہکا ر نظم لکھی:

نظم: ایو ب خا ن کی جبر ی عید۔

 ریڈیو نے دس بجے شب کے خبر دی عید کی

عالمو ں نے رات بھر اس نیو ز کی تر دید کی

ریڈ یو ر ا ت بھر کہتا تھا کل ہماری عید ہے

اور عا لم کہتے تھے یہ غیر شرعی عید ہے

دو دھڑو ں میں بٹ گئے تھے سا رے عوام

 اک طرف مقتد ی تھے ایک طرف سا رے امام

بیٹا کہتا تھا کل شیطا ن روزہ رکھے گا

با پ بو لا ’تیرا ابا جا ن روزہ رکھے گا ‘

بیٹا کہتا تھا میں سرکا ری افسر ہو ں جنا ب

 روز ہ رکھوں گا تو مجھ سے ما نگا جا ئے گا جو اب

 با پ کہتا تھا پھر یو ں با م پہ ایما ں کے چڑھ

 روزہ رکھ او ر روزے میں نما زِعید پڑھ

 آ ج کتنا فرق فل اسٹا پ اور کا مے میں تھا 

 با پ کا رو زہ تھا اور بیٹا عید کے جا مے میں تھا

اختلا ف اس با ت پر بھی قو م میں پا یا گیا

چا ند خو د نکلا تھا یا جبرا نکلوا یا گیا 

قا رئین کرا م، کیا کہتے ہیں آ پ اس سا ل کی عید کے با رے میں جو ابھی اس جمعرا ت کو منا ئی گئی ہے۔ رات سا ڑھے گیا رہ بجے چا ند کے نظر آ نے کا کہیں دور دور تک ذ کر مو جو د نہیں تھا ۔مگر پھر اچا نک سر کا ری طو ر پر عید منا نے کا اعلا ن کر دیا گیا۔ اور پھر بحث میں الجھ جا نے کے عا دی عوام اس بحث میں الجھنا شرو ع ہو گئے کہ جمعرات کے روز کی عید درست ہے یا نہیں۔ وطنِ عز یز میں عید کے مسلئے پہ الجھ جا نا کو ئی نئی با ت نہیں۔مگر قا بلِ غور با ت یہ ہے کہ یہ مسلئہ ز یا دہ تر اس وقت جنم لیتا ہے جب عید کے بر وز جمعہ ہونے کا امکا ن ہو۔ اوپر بیا ن کی گئی نظم دلا ور فگا ر نے جس عید کے مو قع پر تحر یر کی تھی تب بھی کہا جا تا ہے کہ ایو ب حکو مت نے جمعہ کے روز کی عید سے بچنے کے 

لیئے چا ند کو زبر دستی ایک رو ز پہلے طلو ع کر وا یا تھا۔ ذ را سو چیئے کہ ہم کہا ں کھڑے ہیں۔ لیکن نہیں۔ ہم وہیں کھڑ ے ہیں جہا ں ایو ب کے دو ر میں کھڑے تھے جبکہ با قی کی دنیا مر یخ پہ جا نے کی با تیں کر رہی ہے۔ ہما ری مثا ل تو اس میز جیسی ہے جس کا ہر پایہ اور ہر سائیڈ میرا مطلب ہے ہر چول ڈھیلی پڑ چکی ہو اور اس پہ بہت سی اشیاء پڑی ہوں۔ پھر اس پر مزید اشیاء دھری جارہی ہوں۔ جب تک وہ میز اپنی جگہ قائم ہوگی اشیاء کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ لیکن جیسے ہی کسی وجہ سے میز کو اپنی جگہ سے گھسیٹا جائے گا تو سب ہی اشیاء ایک دوسرے پہ گرتی پڑتی نیچے جاگریں گی اور ٹوٹ پھوٹ جائیں گی۔ کچھ ایسا ہی حال اس وقت اس ملک کا ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔ روزمرہ کی سی ڈگر پہ چلتی ہوئی زندگی سے تو ہمیں سب اچھا ہے کا احساس ہوتا ہے مگر جوں ہی ہمیں کسی قسم کے حادثاتی عمل سے گزرنا پڑے تو یک دم پوری پول پٹی کھل جاتی ہے۔ ملک کو اس حال پہ پہنچانے میں جہاں دوسرے بہت سے عوامل کا ہاتھ ہے وہاں کرپشن کا ہاتھ سب سے نمایاں ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک یہ ہمارے ر گ و پے میں سما چکی ہے۔ اوپر کے لوگوں کی کرپشن کا حال ہم اکثر و بیشتر پڑھتے رہتے ہیں لیکن نیچے کے طبقے کا حال بھی کچھ کم نہیں۔ ریڑھی بان، خوانچہ فروش، پرچون فروش، رکشہ ٹیکسی ڈرائیور، سبزی فروش، کلرک حضرات، راج مزدور غرضیکہ آپ جس بھی پیشہ ور پہ انگلی رکھ دیں وہ آپ کو کرپشن میں ملوث نظر آئے گا۔ سبزی کی مثال لے لیجئے۔ آپ کو منڈی میں ٹماٹر بیس روپے کلو دستیاب ہوں گے، تو کچھ ہی فاصلے کے بازار میں یہ آپ کو تیس روپے کلو ملیں گے۔ پھر آپ کے محلے کے بازار میں چالیس روپے کلو اور یوں ہوتے ہوتے آپ کی گلی میں ناجائز تجاوزات میں کھلی ہوئی سبزی کی دکان میں شاید ساٹھ روپے کلو ملیں گے۔ ایک پرانی دلیل ہے کہ چونکہ اوپر کا طبقہ کرپشن میں ناکوں ناک دھنسا ہوا ہے لہٰذا انچلی سطح پہ کرپشن ختم کرنے کے لیے پہلے اوپر کی سطح پہ ختم کرنا ہوگی۔ ایک حد تک تو یہ درست ہے لیکن اسے مسئلے کا حتمی حل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ جس کا فلسفہ مذہبی ہے۔ یہاں مذہبی طور پر الہام کے زمرے میں بیان کے گئے گناہوں ہی کو قابل نفرت سمجھا جاتا ہے جبکہ قانونی جرم کے نتیجے میں ملنے والی سزا کو مجبوری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم کسی بھی شہر کے روایتی بازاروں میں دیکھتے ہیں کہ پہلے تو دکاندار نے اپنی دکان کو اپنی حدود سے زیادہ فٹ پاتھ پر بڑھایا ہوگا، پھر اس کے بعد اس نے کرائے کے عوض کسی ٹھیلے والے کو اجازت دی ہوگی کہ وہ اپناٹھیلا لگائے۔ پھر اس کے بعد بے شک سڑک ’’نو پارکنگ‘‘ روڈ ہوگی۔ لیکن آگے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قطار در قطار ہوگی۔ پھر بچے کھچے راستے پہ کوئی رکشہ سواریاں اتارنے یا لادنے کے لیے اچانک بریک لگا کر ٹریفک کو جام کرنے کا باعث بنے گا۔ یہ سب کچھ قانون کی نگاہ میں جرم ہے لیکن چونکہ ہمارے موجودہ دور کے گناہ اور ثواب کا فیصلہ کرنے والوں کے نزدیک یہ کسی گناہ کے زمرے میں نہیں آتا، لہٰذا معاشرے میں درستگی کے نظر آ نے کا کہیں نا م و نشا ں تک نہ تھا۔ اور پھر با ئیس کرو ڑ کی آ با دی کے ملک میں کل با رہ لو گو ں کے چا ند نظر آ نے کی گو اہی پراسے قابل قبول سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بعض صورتوں میں یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ اس علاقے کی کاروباری یونین حقوق کی حفاظت کے طور پر ان سب قانون شکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ اٹھاتی ہے۔ چنانچہ اگر کبھی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا چاہتی ہیں تو اسے حکومت کی جانب سے کیا گیا ظلم کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہنگامے کیے جاتے ہیں، جلوس نکالے جاتے ہیں،ٹا ئر جلائے جاتے ہیں اور پھر بینر آویزاں کیے جاتے ہیں اس تحریر کے ساتھ ’’چھوٹے تاجروں پہ پولیس کا ظلم نامنظور۔‘‘ لیکن ہما ری حکو مت کا مسلئہ یہ نہیں ہے۔ ہما ری حکو مت کا مسلئہ تو عید کو جمعہ کے روز پڑ نے سے بچا نا ہے۔


ای پیپر