نئے مہر و ماہ تراش لو
16 May 2021 (11:47) 2021-05-16

رمضان اپنی روحانی نعمتیں سمیٹ کر لوٹ چلا۔ روحانیت کی حکمرانی اور حیوانیت کے کنٹرول کا سنہری موقع تھا۔ بارانِ رحمت حسبِ ظرف، حسبِِ توفیق وذوق وطلب سمیٹا جاتارہا۔ تاہم فتنۂ دجال نے انسانوں کو اندھے بہرے گونگے ریوڑوں میں ڈھال دیا ہے جن کی مہار کالی اسکرینوں کے ہاتھ میں ہے۔ غوروفکرو تدبر کے سبھی دربند ہیں۔نہ فرصت باقی ہے نہ صلاحیت۔ میڈیا پر رمضان پروگرام رہنمائی دیتے ہیں۔ یعنی،راہ جنت کی دکھائیں گے ہمیں نابینا!ثقافتی اداکار و صداکارپیش پیش رہے۔ ’ اب عنا دل کی طرح زاغ وزغن بولیں گے ‘ کا دور دورہ رہا۔جب عالم ِ اسلام یوں نظری فکری طور پر بانجھ ہوچکا ہو تو دنیا ہم پر، ہمارے مقدسات پر د یدہ دلیرانہ حملے کیوں نہ کرے۔

فلسطین، مسجدِ اقصیٰ، امتِ مسلمہ کا رستاہوا زخم پھر لہولہان ہے۔ جمعۃ الوداع پراسرائیلی فوج کی روزہ داروںپر فائرنگ، نمازیوں پر وحشیانہ تشدد سے شروع ہونے والی تازہ  دہشت گردانہ لہر اب تک139 شہادتیںاور 930زخمی کر چکی ہے۔ غاصبانہ قبضوں کے لامنتہا تسلسل میں فلسطینی آبادی کو شیخ جراح سے جبری بیدخل کرنے کے لئے یہ آغاز ہوا۔ غزہ پر بے رحم سفاکانہ بمباری سے 10 ہزار فلسطینی گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ مغربی کنارے میں مظاہرین پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ سے 11 فلسطینی شہید کئے۔ 14 منزلہ عمارت غزہ میں میزائلوں سے ڈھا دی گئی۔ 36 بچے شہید ہو چکے۔ امریکہ کی مکمل پشت پناہی (صدر بائیڈن کی اسرائیل کو یقین دہانی)، فرانس میں فلسطین کے حق میں مظاہروں پر پابندی کا اعلان، مغربی دنیا کے کانے انصاف کی تصویر ہے۔ فلسطین سے اسرائیل پر مارے گئے راکٹوں کا بہانہ بنا کر غزہ ادھیڑ ڈالا۔ ہسپتال ناکافی سہولیات کے ساتھ زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کمزور ترین بچی کھچی فلسطینی غزہ کی مفلس سرزمین ایٹم بم اور میزائلوں سے لدی عفریت اسرائیل کے رحم و کرم پر تنہا چھوڑی گئی ہے۔ عالمی ضمیر، برادر مسلم ممالک کی ڈیڑھ ارب آبادی منہ موڑے گہری نیند سو رہا ہے۔ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں سرگرم مسلمان ملک اور لابیاں مہر بلب، اپنے جان بلب فلسطینی بھائیوں کو تک رہے ہیں۔ دنیا بھر میں حقوق انسانی، انصاف، آزادی و مساوات کے پھریرے لہراتے اتحادی جو افغانستان میں میزائلوں بھری بارات اور آتش گیری و آتش بازی کے سارے سامان لئے اترے تھے نجات دہندہ بن کر اب کہاں ہیں؟ فلسطین کی عید پر آتش بازی اور گولے چھوٹنے کے مناظر جگر پاش ہیں۔ غلیل اور کنکریوں نما راکٹوں کے بدلے قطار اندر قطار ٹینکوں اور آسمان سے چھوٹتے میزائل ہماری بے حسی کا نوحہ ہیں۔ جواباً اسرائیل پر معاشی دبائو کی تحریک کھڑی ہے بس۔ لِسّے دا کی کم محمد نس جانا یا رونا والے فارمولے کے تحت اب ماڈرن دنیا سوشل میڈیا پر تحریکیں اٹھاتی ہے۔ ترکی ڈراموں سے نقلی جہاد کا جعلی ولولہ کشید کر کے۔ وہ ہمارے گھر آبادیاں بستیاں جلاتے، قبرستان آباد کرتے ہیں۔ ہم اپنے ٹائر اور نیتن یاہو کے پتلے جلاتے ہیں!

ادھر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کو امریکا کی آن لائن فروخت کی مہیب گلوبل کمپنی ایمازون (Amazon ) کی دیدہ دلیری دیکھیے۔ مسلمانوں کی بے خبری وبے نیازی کا ماتم کتنا کیا جائے! مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں۔ یہ خبر امریکی مسلم شہریوں کے حقوق کی توانا آواز، کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR ) نے 8 مئی کی پریس ریلیز میں دی ہے۔ ایمازون نے مردوں کے زیر جامے اور باکسروں کی مختصر نیکر پر سامنے جلی حروف میں لکھا کلمۂ شہادت آن لائن فروخت کے لیے پیش کیا ہے۔ چینی ملبوسات کی تقسیم کار کمپنی ’گوانگ زو یومی‘، فروخت کنندہ ہے۔ ایمازون نے اشتعال انگیز، ناقابل بیان جملوں میں واشگاف تعارف کرواتے ہوئے کلمے کے معانی تک درج کر رکھے ہیں۔ اخلاقیات  شکن، حیا بریدہ یہ اشتہار دیدہ دانستہ مسلم عقائد ومقدسات پر حملے روا رکھنے کا تسلسل ہے۔ یاد رہے کہ پہلے بھی CAIR  تنظیم کی کوششوں سے پائیدان اور غسل خانے کی اسی نوعیت کی اشیاء پر مقدس مواد اور قرآنی آیات دے کر جو ہمارا جگر پاش ہوتا رہا، اس پر قدغن لگائی گئی۔ یہ کام اصلاً مسلم حکومتوں، وزارت خارجہ اور مسلم سفارت خانوں کا ہے جو مسلم عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوں پر ان کی نمایندگی کرتی ہیں۔ ہمارے دینی تشخص اور حقوق کے تحفظ کا فرض انہی پر عائد ہوتا ہے۔  یہ ممالک اور ادارے پورے عالم اسلام سے تجارت کرتے اور جیبیں بھرتے ہیں۔ ہمارے احساسات کو علی الاعلان زخمی کرنے میں انہیں ادنیٰ تامل نہ ہوتا۔ یہ ہماری حکومتوں کی نااہلی اور بدترین ایمانی کمزوری ہے۔ دنیا کی اخلاقی  گراوٹ کی انتہا بھی واضح ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی عداوت میں پوری دنیا ہم زبان ویک جان ہے امریکا تا چین، شرق تا غرب۔ 

یورپی یونین کی قرارداد، انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند کے مصداق ہے۔ ہم پر حکم صادر کر رہی ہے کہ ہم 295-C اور B ختم کردیں (تاکہ شانِ رسالت پر حملے کی آزادی میسر آجائے۔) اسے یہ اظہار رائے کی آزادی کا نام دیتے ہیں۔ انہیں پاکستان میں فرانس مخالف مظاہروں پر بھی شدید اعتراض ہے۔ یعنی وہ توہینِ رسالت کے طومار باندھیں اور ہم ان کی طرح (ہر رشتے کی غیرت کھو دیں) انبیاء سے وابستگی کی جذباتیت چھوڑ دیں!

انہیں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ اور ہماری قومی اسمبلی کی قرارداد بھی قبول نہیں! 295-C  پر ان کا رونا پیٹنا یہ ہے کہ یہ قانون اقلیت کو خوفزدہ کرتا ہے۔ ہماری مہذب قانون پسند مسیحی، ہندو، سکھ آبادیوں کا تو یہ مسئلہ نہیں ہے۔ یہ مسئلہ ہے یورپی دریدہ دہنوں اور ہماری سیکولر مقتدر کلاس یا این جی اوز کا جو واویلا کار ہیں۔ یوں بھی 97 فیصد مسلم اکثریت کے ملک میں 3 فیصد اقلیت کے بھی اعشاریہ صفر صفر صفر 3 فیصد کی خاطر ہم اپنے مسلمہ عقائد کی بنیاد پر بنے قوانین اور نصاب بدل دیں؟ بدعنوان مقتدرین نے ملک کو معاشی لوٹ کھسوٹ کے ذریعے اس حال کو پہنچایا ہے کہ ہمارا دشمن قرضوں اور تجارت پر بلیک میل کرکے ہم سے ناموس رسالت کا سودا کروانا چاہ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حرف آئے اور اہل حق رہیں زندہ، اگر اللہ نے چاہا کبھی ایسا نہیں ہوگا! یہ زمین ابھی اتنی بانجھ نہیں ہوئی۔ یورپ ہم پر جی ایس پی پلس سے محرومی کا معاشی کوڑا لہرا رہا ہے۔ ادھر امریکا مذہبی آزادی رپورٹ کے حوالے سے پاکستان کو خصوصی تشویش کا ملک ٹھہرا رہا ہے۔ 2021 ء کی سالانہ رپورٹ میں ہمیں بھاشن دیے جارہے ہیں کہ ہم اپنے سرکاری تعلیمی نصاب اور اساتذہ کے تربیتی مواد میں اقلیتوں کا مذہبی مواد شامل کریں (اپنا نکال دیں) ہمارے نصابوں پر گزشتہ 20 سالوں سے ہمہ نوع بے سری بے تکی یلغار رہی۔ سارا وقت نصابوں کی اکھاڑ پچھاڑ کے نرغے میں ہماری اس نسل کا حال یہ ہوچکا کہ سی ایس ایس کے تحریری امتحان میں 2 فیصد پاس ہوئے۔ ایڈیشنل سیشن ججوں کے انٹرویو میں 42  میں سے 2 پاس ہوئے ہیں۔ اخلاقی دینی مواد نکال کر، مخلوط تعلیم اور کمتر تعلیمی معیارات کے ہاتھوں ہم نکمی ترین نوجوان نسل پیدا کر رہے ہیں۔ اردو قومی زبان ہے، اس کا معیار گراتے، احساس کمتری کی بھینٹ چڑھاتے ہم بے زبان ہوگئے۔ بدیسی انگریزی ہمارے قومی تعلیمی نظام کی ابتری کی اصل مجرم ہے۔ بے زبان (آدھی اردو آدھی انگریزی) قوم گونگی بہری ہوچکی ترقی کی کون سی منزلیں سر کرے گی! رہی سہی کسر کورونا میں آن لائن تعلیم، بلاامتحان پروموشن نے نکال دی۔ غیرملکی نصابوں کا جال، مہنگی ترین تعلیم عوام الناس کی دسترس سے باہر ہے۔ سو بدترین ابتری شعبہ تعلیم کے حصے آئی ہے۔ انجام گلستاں کیا ہوگا؟ فواد چودھری بتائیںگے! 

مرے شب گزیدہ مسافرو!نئے مہر و ماہ تراش لو 

نہ فضاؤں میں کوئی چاند ہے نہ ہے آفتاب مدار پر

ادھر فرانس نے فرانسیسی اقدار کی خلاف ورزی کرنے والوں، انتہاپسند سمجھے جانے والوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان فرمایا ہے! فرانسیسی اقدار یعنی برہنگی، فحاشی، دریدہ دہنی، مسلم مقدسات پر کیچڑ اچھالنا! صاف کہیے کہ مسلمان فرانس سے نکل جائیں! یہ درجہ بدرجہ یورپ کا اسپین (1492 ء) بنانے کا ابتدائیہ ہے۔ مسلمانوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ نہ کیکروں پر انگور چڑھائیں اور زخم زخم ہوکر نکلیں! گوروں کی اپنی آبادیاں اخلاقیات سے عاری، ٹوٹے خاندانوں کے بن ماں / باپ کے بے راہ رو بچے، گرتی شرح پیدائش، منشیات کے ہاتھوں بگڑی بکھری نسلیں ہیں۔ دنیا بھر میں جنگوں کے الاؤ بھڑکا کر مہاجرین کی آبادکاری یورپ کی مجبوری بھی ہے۔ یہ مہاجرین پر احسان نہیں کررہے۔ یہی شامی مہاجرین بہتر انسان اور شہری بن کر ان کا ملک چلانے میں مدد دے رہے ہیں۔ سو  رعب نہ گانٹھو۔ نصاب بدلنے اور بہترین انسان پیدا کرنے کی ضرورت انہیں ہے ہمیں نہیں۔


ای پیپر