فلسطین کا المیہ اور ہم…
16 May 2021 (11:17) 2021-05-16

بحیثیت قوم ہم اتحاد کی بجائے تقسیم کو ترجیح دیتے ہیں اور اتفاق میں بھی نا اتفاقی کا عنصر ڈھونڈ لیتے ہیں۔ کسی بھی مسئلے پر اجتماعیت کی بجائے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ چاہے وہ ایک عید کا مسئلہ ہو یا کچھ اور ہم اختلاف برائے اختلاف کرنے پر ہمہ وقت متفق رہتے ہیں۔ اس عدم اتفاقی کی وجہ سے ہم نے شوال کا چاند دیکھنے اور عید الفطر کا بھی ہمیشہ کی طرح تماشا بنا دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی نے حکومت کے اعلان کے برعکس جمعہ کو عید منائی اور کچھ علما ء نے حکومتی اعلان پر عید تو منائی لیکن قوم کو جمعہ کا قضا روزہ رکھنے کا فتویٰ بھی دے ڈالا۔ حکومتی چاند کمیٹی بھی شوال کے چاند پر تقسیم تھی جس کی وجہ سے عید کا اعلان رات 1150 پر کیا جبکہ لوگ نماز تراویح ادا کر چکے تھے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم ہمیشہ نااتفاقی پر ہی متفق ہوتے ہیں۔خیر یہ تو ہمارے گھر کی لڑائی ہے اس پر جتنا بھی کڑھیں کم ہے لیکن اس کے حل کی طرف ہم میں سے کوئی نہیں جانا چاہتا کیونکہ ہم انا کے پجاری ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہی کر سکتے ہیں کہ ہمیں ہدایت دے اور ہمارے رستے سیدھے کرے۔

اب آتے ہیں آج کے کالم کے اصل موضوع کی طرف۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اسرائیل نے مظلوم فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے لیکن مسلم امہ مذمت کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ دور کیوں جاتے ہیں وطن عزیز میں بھی اس سنگین مسئلہ پر بھی ہم قومی یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔پوری دنیا میں اسرائیلی مظالم اور نہتے فلسطینیوں کی شہادت پر بڑی بڑی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں لیکن ہماری حکومت، اپوزیشن یا این جی اوز کو اس حوالے سے کوئی توفیق نہ ہوئی۔ موم بتی مافیا چھوٹے چھوٹے معاملات پر احتجاج کرنے آجاتا ہے لیکن درجنوں فلسطینیوں کی شہادت پر انہیں احتجاج کی توفیق نہ ہوئی یا مسلمانوں کے ساتھ بربریت ان کے ایجنڈے پر ہی نہ ہے۔ گو کہ جماعت اسلامی سمیت جو بھی جماعتیں اس پر احتجاج کر رہی ہیں قابل ستائش ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس پر تمام جماعتیں ایک ہو جاتیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فلسطین پر اسرائیلی بر بریت پر تمام فروعی اور سیاسی اختلاف چھوڑ کر پوری قوم کو ہمقدم ہو کر اس کی مذمت کرنی چاہیے تھی۔ حکومت وقت بیان بازی کی حد تک اتحاد بین المسلمین کی داعی بنتی ہے لیکن اس سلسلے میں عمل عنقا ہے۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ معاشرے کے ہر طبقہ اور تمام جماعتوں کو اس بربریت کے خلاف اکٹھا کرتی اور کرونا ایس او پی پر عمل کرتے ہوئے ایک ملک گیر بڑے احتجاج کا اہتمام کرتی۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان نے تو اسرائیلی بربریت کا علم ہوتے ہوئے بھی عید نتھیا گلی کی ٹھنڈی ہوائوں میں منانے کو ترجیح دی۔ اور عید کے ایام میں بھی ان کی تمام تر توجہ شہباز شریف کا نام ای سی ایل پر ڈالنے پر مرکوز تھی۔ بات ترجیحات کی ہوتی ہے ۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عید کا دن لائین آف کنٹرول پر فوجی دستوں کیساتھ گزارا، فوج کی باقی قیادت بھی اپنے جوانوں  کے ساتھ اگلے مورچوں پر موجود رہی، فوج میں سپاہی سے جرنیل تک یہ جوان ایک خاندان میں پروئے ہوئے ہیں،ان کی راتیں جاگتی ہیں تا کہ عوام رات کو سوسکیں۔ جبکہ ہماری حکومت کی تمام تر کوششیں اپوزیشن کو چور ثابت کرنے اور اپوزیشن کی تمام قیادت کا سارا زور جواب آں غزل کے طور پر حکومت کو کرپٹ ثابت کرنے پر ہوتی ہے۔ یا پھر زیادہ وقت ان کی لیڈرشپ کے کیس جھوٹے ثابت کرنے پر صرف ہوتا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی اور اپوزیشن زعماء دن میں درجنوں بار ٹی وی سکرین پر جلوہ گر ہوتے ہیں اور موضوع سخن ہوتا ہے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا۔ لیکن انہیں توفیق نہیں ہوتی کہ اسرائیلی بربریت کی مزمت کے حوالے سے بھی از خود دو لفظ ادا کر دیں۔ اگر کہیں بھولے سے ذکر کر بھی دیں تو اس میں وہ گرمجوشی نہیں دکھائی جو اپنی حکومت یا سیاسی قیادت پر الزامات کے حوالے سے اپنائی جاتی ہے۔ فلسطین میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے لیکن ہماری حکومت اور اپوزیشن کی توجہ اس طرف ہونے کی بجاے ایک دوسرے کے کپڑے اتارنے پر ہے۔ فلسطین تو دور ہے ہماری حکومت اور سیاسی جماعتیں کشمیر پربھارتی بربریت پر بھی مشترکہ موقف رکھنے کی بجاے ایک دوسرے پر کشمیر فروشی کے الزام لگا رہی تھیں۔ 

عید پر حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے ایک بڑے نے عید مبارک کے لیے رابطہ کیا۔ میں نے فلسطین کی صورتحال کا ذکر چھیڑ دیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ اجتماعی یا انفرادی حیثیت سے سیاسی جماعتوں نے اتنے بڑے انسانی المیہ کی طرف توجہ نہ دی۔ جھٹ سے بولے لاہور میں پی ٹی آئی نے فلسطین کی حمایت میں احتجاجی جلوس نکالا تھا۔ میں نے کہا کہ درجن بھر کارکنوں کے اجتماع کو آپ جلوس کہتے ہیں جس میں مرکزی تو چھوڑ لاہور کی قیادت بھی نہ تھی۔ آپ کو توچاہیے تھا کہ حکومت وقت ہوتے ہوے سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے۔ یہی باتیں میں نے اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں سے بھی کیں لیکن طرفین کسی ایک مشترکہ کاز کے لیے بھی ایک پیج پر آنے کو تیار نہیں۔ اس رویہ پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ مسلم لیگی لیڈران کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کو درپیش ایسے وقت میں ملک کا وزیر اعظم سیاحتی مقامات پر گزارے گا تو اس سے ان کی ترجیحات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور انکی اسی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ان کے ساتھ نہیں بیٹھا جا سکتا۔ 

مولانا فضل الرحمان یوں تو گفتار کے غازی ہیں لیکن فلسطینیوں پر اسرائیلی بربریت پر بھی انہوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر کوئی احتجاج کی بجاے ایک بیان داغنے پر ہی گزارہ کیا۔ تحریک لبیک تیسری سیاسی قوت کی دعویدار ہے لیکن اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی پر انہوں نے بیان بازی سے بھی گریز کیا۔ پیپلز پارٹی لبرل جماعت ہونے کی دعویدار ہے لیکن فلطینیوں کی تباہی پر وہ بھی ٹویٹ یا بیان بازی تک ہی محدود رہی۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مظاہروں یا ریلیوں سے کیا فرق پڑے گا بالکل غلط کہتے ہیں۔ مہذب دنیا میں ان مظاہروں کا وزن ہوتا ے اور انہی سے معاملے کی سنجیدگی کا بھی پتہ چلتا ہے ۔

نواز شریف صاحب گاہے بگاہے لندن میں میڈیا سے بات کرتے رہتے ہیں اگر اسرائیل کے فلسطینیوں پر ظلم کی حوالے سے بھی مذمتی بیان جاری کر دیتے تو اس کا کچھ نہ کچھ اثر یقینا ہوتا۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے بیرون ملک ونگز ہیں انہیں بھی متحد ہو کر اسرائیلی بربریت کے خلاف ریلی نکالنی چاہیے۔ لیکن شاید یہ ہماری سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے میں نہیں۔ مسلم اُمہ کا لفظ تو مذاق بن کر رہ گیا۔ اردن کے طیب اردگان بیان دیتے ہیں کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ ان کے اپنے وطن میں اسرائیل کا سفارتخانہ موجود ہے۔ عرب دنیا کا ذکر ہی فضول ہو گا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر کے شاید وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خود کو محفوظ کر لیا ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ لے دے کے ہمارے پاس سوائے رب جلیل کی بارگاہ میں اس ظلم کے خلاف دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کے سوا کچھ نہیں نہ کہ 

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا 

اللہ سے رحم ہی مانگ سکتے ہیں…

 قارئین اپنی رائے کے اظہار کے لیے اس نمبر 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل ، بی آئی پی یا ٹیلیگرام کر سکتے ہیں۔


ای پیپر