چاند کی روئیت پر پندرہ سوال
16 May 2021 2021-05-16

چاند آسمان پر نکلتا ہے اسے کھوجنا نہیں پڑتا ، کہتے ہیں جب چاند چڑھتا تو کل عالم دیکھتا ہے مگر بہت برسوں سے ایسا ہو رہا ہے کہ عید کا چاند انتیسویں روزے مخصوص قسم کے پندرہ، بیس لوگوں کو نظر آجاتا ہے۔ میں بدھ کے روز رویت ہلال کمیٹی کے دو معزز ارکان ڈاکٹر راغب نعیمی اور علامہ محمد حسین اکبر کے ساتھ یہی ڈسکس کررہا تھا کہ چاند دیکھنا اصل میں کس کی ذمے داری ہے، ماہرین فلکیات کی یا علمائے کرام کی۔علامہ محمد حسین اکبر کا کہنا تھا کہ یہ ذمے داری سب کی ہے اور ڈاکٹر راغب نعیمی بتا رہے تھے کہ اس مرتبہ چاند کا دیکھا جانا ممکن ہی نہیں ہے اور اس کے بعدوہی پرانا تنازعہ کھڑا ہو گیا۔دور دراز کے علاقوں کے نامعلوم لوگوں کی روایتی گواہی ۔ میرا دل ٹوٹ گیا۔ مجھے پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری انفارمیشن ، بھائیوں کی طرح محترم ،نور اللہ صدیقی نے میری ہی ایک وائرل ویڈیو بھیج دی، کوئی دس، گیارہ برس پہلے میں جناب طاہر القادری سے یہی سوال کر رہا ہوں کہ ہم عید پر اختلاف کو کس طرح ختم کر سکتے ہیں۔

عید کے تیسرے روز مجھے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کی فون کال موصول ہوئی، ان سے کافی عرصے سے ملاقات واجب ہے جو ہونہیں پا رہی، فرمانے لگے، انہوں نے نہ کبھی شریعت کے خلاف کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی آئندہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فیصلہ سنانے میںدیرکی وجہ دور دراز علاقوں سے گواہیاں تھیں اور ان کی تصدیق او رجانچ ضروری تھی۔ میں مولانا آزاد کے موقف کا احترام کرتا ہوں مگر مجھے علم ہے کہ یہ فیصلہ کہاں سے آیا اور کس دباو ¿ پر ہوا ہے نجانے ہمارے اداروں کوجمعرات کے روز عید کے فیصلے کے لئے دباو¿ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا واقعی یہ سمجھا جا رہا تھا کہ اگر جمعے کی عید ہوئی تودو خطبے حکمرانوں کے لئے بھاری ثابت ہوں گے یعنی ہم آج بھی ایوب دورمیں کھڑے ہیں جب آدھی رات کو جمعرات کی عید کا فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔ تب انٹرنیٹ اور ٹی وی وغیرہ نہیں ہوتے تھے لہٰذا لوگوں کو صبح اس وقت علم ہوا جب پولیس والوں نے باقاعدہ اعلانات کروا کے لوگوں کے روزے تڑوائے اورزبردستی عید کی نمازیں پڑھوائیں۔ اس وقت مولانا احتشام الحق تھانوی، مولانا سید ابوالاعلی مودودی، مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا اظہر حسین زیدی اور مولانا غوث ہزاروی کو اس فیصلے کی مخالفت پر انتیس جنوری1967 کو گرفتار کر کے مچھ جیل بھیج دیا تھا۔ اب اس روایت کو نبھانے والے رویت ہلال کمیٹی کے دوارکان تھے، علامہ اصغر کے علاوہ مفتی محمد حسین نعیمی کے پوتے راغب نعیمی۔ انہوں نے اختلاف کیااورروزے کی قضا کا فتویٰ بھی دیا۔ اس جرا¿ت اور کردار کا مظاہرہ مفتی سرفراز نعیمی کا بیٹا ہی کر سکتا تھا، جی ہاں، وہی سرفراز نعیمی جنہوں نے دہشت گردی کے عین عروج میں اپنے مدرسے میں دہشت گردی کو حرام کہنے کا فتویٰ دیا تھا اور اپنی ہی جامعہ کے استقبالیہ پر خود کش بم دھماکے میں شہید کر دئیے گئے تھے۔

میرے یہاں مولانا عبدالخبیر آزاد سے کچھ بنیادی سوالات ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ جب تمام سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ چاند دیکھنے کے تمام بارہ مروج معیارات میں بھی چاند کم عمر ی کی وجہ سے مطلع پر دیکھا نہیں جا سکتا تھا تو وہ کیسے دیکھ لیا گیا۔ دوسرا سوال ہے کہ شعبان کا چاند چوبیس گھنٹے عمر کا ہونے کے باوجود نہیں دیکھا جا سکا تھا تو شوال کاتیرہ گھنٹے والا کیسے نظر آگیا۔ تیسر ا سوال ہے کہ لاہور، کراچی، حیدرآباد، ایبٹ آباد، گوجرانوالہ، فیصل آباد جیسے کروڑوں اور لاکھوں آبادی والے شہروں کو چھوڑ کر چاند ہمیشہ دور دراز کے اضلاع میں ہی کیوں نظر آتا ہے، کیا بڑے شہروں میں رہنے والے کروڑوں لوگ اندھے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ بڑے شہروں میں آلودگی کی وجہ سے چاند نظر نہیں آتا مگر یہ آلودگی دیہات اور قصبات میں تو نہیں ہوتی اور اگر بات پہاڑی علاقے کی ہے تو پہاڑی علاقہ کھاریاں اور جہلم سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ چوتھا سوال مولانا کے ساتھ ساتھ وزارت مذہبی امور سے ہے جس نے دوسرے روز چاند کی تصاویر شئیر کیں اور دعویٰ کیا کہ موٹائی کے لحاظ سے یہ دوسری رات کا چاند ہے تو کیا وہ واقعی یہ نہیں جانتے کہ چاند کی موٹائی کبھی اس کی عمر کی دلیل نہیں ہوتی، یہ دلیل تھڑے کی دلیل ہے، چاند کی موٹائی کا تعلق اس کی عمر سے ہے طلوع ہونے سے نہیں۔ پانچواں سوال ان سے ہے جو دوسرے روز کے چاند کی تصاویر دھڑا دھڑشیئر کر رہے ہیں کہ انہوں نے جب پہلے روز چاند دیکھا تو اس کی کوئی تصویر کیوں شئیر نہیں کی جبکہ اب ہمارے ہر دوسرے بندے کے پاس ایک اچھے کیمرے والا فون موجود ہے ۔ جب ایک بندے کا مقصد ہی چاند کی گواہی دیناتھا تو کیا اسے چاند دیکھتے ہوئے سب سے پہلے اس کی تصویر کھینچ کر ثبوت کا اہتمام نہیں کرنا چاہیئے تھا، اگر چاند واقعی موجود ہوتا اور دیکھا گیا ہوتا۔ چھٹا سوال ہے کہ بائیس کروڑ کے ملک میں صرف بائیس افراد ہی کیوں دیکھ سکے، یہ بائیس سوبلکہ بائیس ہزار یا بائیس لاکھ کیوں نہیں تھے۔ ساتواں سوال ان عادی روایتی اور پیشہ ور گواہوں سے ہے جو ہررمضان میں انتیسویں شب چاند دیکھ لیتے اور شوال شروع کروا دیتے ہیں کہ تم سب روزوں اور عید کے دومہینے چھوڑ کر باقی دس مہینے کہاں ہوتے ہو خاص طورپر رجب میں شعبان کا چاند کیوں نہیں دیکھ پائے جو تمام سائنسی کیلنڈروں میں انتیس کا لکھا ہوا تھا۔ میں واضح گمان رکھتا ہوں کہ یہ جھوٹے اور فسادی ہیں جو ان دو مہینوں میں قوم کوتقسیم اور گمراہ کرنے نکلتے ہیں۔آٹھواں سوال پوپلزئی اوران کے روایتی گواہوں سے ہے کہ انہوں نے آخری مرتبہ کب تیس روزے پورے کروائے تھے کیونکہ دس، بیس، تیس برس جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ ہر مرتبہ تیسواں روزہ نہیں ہونے دیتے ۔ نواں سوال پھر حکومت سے ہے کہ اگر ان پیشہ ور گواہوں پر رہے تو کیا پاکستان میں کبھی تیس روزے نہیں ہوں گے۔ دسواں سوال ان سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ عید کی جائے کہ چانداور اس کا افق تو ایک ہی ہے تو کیا وہ فجر سے عشا تک کی نمازیں بھی سعودی عرب کی اذان کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں کہ سورج اور اس کا افق بھی تو پوری دنیا کا ایک ہی ہے۔گیارہواں سوال محکمہ موسمیات سے ہے کہ ان کے چالیس شہروں میں بیٹھے پروفیشنل آبزورز جو جدید آلات کے ساتھ بھی چاند نہیں دیکھ پائے وہ عام لوگوں نے ننگی آنکھ سے کیسے دیکھ لیا کیا آپ اس نااہل ، نکمے اور اندھے عملے کو فارغ کر رہے ہیں۔بارہواں سوال یہ ہے کہ کیا نمازوں کے بعد اب عیدیں بھی مسلکی تقسیم کے ساتھ ہوں گی (اس کی مزید تفصیل نہ پوچھی جائے، شکریہ)۔تیرہواں سوال، سوا ارب کی آبادی والے انڈیا میں بھی چاند نظر نہیں آیا اور بنگلہ دیش میں بھی تیس روزے ہوئے تو ہمارے ہاں الگ سے چاند کیسے نکل آیا۔ چودہواں سوال ہے کہ کیا ہماری روئیت ہلال کمیٹی بھی یقین رکھتی ہے کہ دو خطبے حکمرانوں پر بھاری ہوتے ہیں ۔ پندرہواں سوال ہے کہ کیا آپ رب سے ڈرتے ہیں یا اس سے نزدیک کسی اور شے کا زیادہ خوف رکھتے ہیں؟


ای پیپر