پھیکی عید.... 
16 May 2021 2021-05-16

 رمضان المبارک کے آخری عشرے ہی سے عیدالفطر کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، لیکن اس برس تو وبائی صورت حال نے کسی کو کچھ کرنے ہی نہیں دیا۔ حکومت کی طرف سے مکمل لاک ڈاﺅن ہونے کے باعث لوگ گھروں میں دُبکے رہے، کہیں کہیں ”ایس اوپیز“ کی خلاف ورزیاں بھی دیکھنے کوملیں۔ اصل میں عیدایک ایسا تہوار ہوتا ہے کہ بچھڑے ہوئے، ناراض، دوسرے دیسوں میں مقیم لوگ بھی اس موقع پر اکٹھے ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ طرح طرح کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں، نئے ملبوسات اور بن سنور کر اپنے چاہنے والوں سے ملاقات کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ عیدالفطر کو میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے۔ پکوانوں کے لحاظ سے تو بھلے اس بار عید میٹھی کہی جاسکتی ہے لیکن ملنے ملانے کے حوالے سے اس مرتبہ یہ عیدپھیکی قرار“ دی جائے گی۔ 

اس مرتبہ لوگ فون پر یا ویڈیو کال پر ہی ” عید مبارک“ کہہ رہے ہیں۔ عید کی نماز بھی ”ایس اوپیز“ کے سائے میں پڑھی گئی۔ گلے ملنا تو درکنار، ہاتھ سے ہاتھ نہ ملائے جاسکے، اِس ماسک زدہ ” پھیکی عید“ پر دکانداروں کی ”چاندی“ بھی قدرے ماند رہی۔ صدیق ڈھول والا اداس تھا کہنے لگا صاحب جی اس بار عید کا نذرانہ دینے والے بھی منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ بالکل پہچانتے نہیں۔ ہم ہرشب، سحری کے وقت ڈھول بجاکر سونے والوں کو روزہ رکھنے کے لیے جگانے کا کام کرتے ہیں۔ اس بار تو حد ہی ہوگئی ایک کھاتے پیتے گھرانے کے شیخ صاحب تو فرمانے لگے :”کس دنیا میں رہ رہے ہو اب ڈھول کی آواز سے قبل ہی لوگ جاگ جاتے ہیں، تم خوا مخواہ اپنا وقت ضائع کرتے ہواور دوسروں کو بھی اوازار کرتے ہو، مت بجایا کرو ڈھول، اب لوگ الارم لگاکر سوتے ہیں۔ ہوٹر بھی بجتے ہیں اور ٹی وی کی نشریات بھی جاری وساری رہتی ہیں۔ اور نئی نسل تو پہلے ہی نہیں سوتی، انہیں سوشل میڈیا کے بخار نے بیدار رکھا ہوا ہے۔ 

میں نے صدیق ڈھول والے کو عیدی دی اور کہا اب تم واقعی کوئی اور دھندہ کرو۔

کہنے لگا حضور! یہ تو ثواب کے لیے ہم کرتے ہیں، اور اس سے گزارہ تھوڑا ہوتا ہے۔ میں تو پٹھورے کی ریڑھی لگاتا ہوں ہاں یہ ضرور ہے کہ اب پٹھورے کھانے والے بھی بہت کم لوگ باقی رہ گئے ہیں۔ پیزا برگر کھانے والی نسل آگئی ہے میں سوچ رہا ہوں یہ عید کی چھٹیاں گزریں اور یہ لاک ڈاﺅن کا ”سیاپا“ ختم ہو تو کوئی اور کاروبار شروع کرتا ہوں۔ 

ابھی صدیق ڈھول والے کی بات جاری تھی کہ رفیق مالی آگیا....”سلاماں لیکم سرجی ! عید مبارک ہو“۔ صدیق یہ سن کر رخصت ہوگیا میں نے اسے بھی عید دی اور چند دوستوں کو فون پر عید مبارک کے لیے رابطہ کیا، نیٹ ورک پر شاید اس قدر بوجھ تھا کہ بمشکل ایک دوسے بات ہوسکی۔ 

میرے ایک مرحوم دوست اطہر ناسک کا شعر منصورآفاق نے ارسال کیا تو پرانی عیدیں یاد آگئیں جو ہم ملتان میں اکٹھی منایا کرتے تھے۔ پہلے شعر ملاحظہ فرمائیں۔ 

عیدکے دن بھی قدم گھر سے نہ باہر نکلے

جشن غربت جو مناتے تو مناتے کیسے 

منصور آفاق نے کہا بس یہی حال ہے بھئی میں تو میانوالی میں ہوں اور گھر سے باہرقدم نہیں نکال سکتا کہ لاک ڈاﺅن میں بندہ جائے تو کہاں جائے۔ 

میں نے ازراہ تفنن پوچھا، سرکاری عید بھی تقسیم ہوئی ہے یا نہیں۔ مطلب یہ کہ پنجاب حکومت نے عام لوگوں خاص طورپر مزدوروں اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے بھی کوئی عید منانے کا بندوبست کیا ہے۔ تو منصور بولا !یہ تو آپا، فردوس عاشق اعوان بتاسکتی ہیں لیکن لنگر خانوں میں نادار افراد کے لیے اچھے پکوان اور عید کے تحائف تقسیم ہونے کی بات سننے میں آئی ہے۔“فون ختم ہوا تو موبائل فون پر نگاہ ڈالی جہاں بے شمار احباب کے عید مبارک کے پیغامات تھے جنہیں پڑھنے میں کافی وقت صرف ہوگیا اب یہی رابطہ باقی رہ گیا ہے۔ غمی خوشی کا اظہار بھی فیس بک کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بلال حیدری کی نظم یاد آرہی ہے عید کے حوالے سے : ملاحظہ فرمائیں اور پھر اجازت:

گداگری کے قریب لوگو!

مری سنو اے غریب لوگو

ترانہ¿ عید گاﺅ لیکن 

نماز پڑھنے بھی جاﺅ لیکن 

تم اپنے بچوں کو عید کے دن 

جہاں تلک بھی ہو تم سے ممکن 

گھروں سے باہر نہ جانے دینا

 وگرنہ بچوں کی خواہشوں کا 

تمام دن قتلِ عام ہوگا +تمام دن قتل عام ہوگا۔


ای پیپر