پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میںبڑی گرفتاریاں ،شیخ رشید کی بڑی خبر
16 May 2020 (21:08) 2020-05-16

لاہور: وفاقی وزےر ریلوے شیخ رشید نے نےب قوانےن مےں کسی بھی قسم کی تر مےم کی حماےت نہ کر نے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)میں دم نہیں اور 31 جولائی سے پہلے جھاڑو پھر جائے گا‘ نیب کے قانون میں ترمیم کرنے سے پیغام جائے گا کہ ہم خوف زدہ ہیںُ چھوٹی عید کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)سے گرفتاریاں ہوں گےں‘ شہبازشریف اپنے ٹریک پر خود پھنس گئے،انہیں کاغذ لانے کی اجازت نہیں ملے گی.

لاک ڈاون شہباز شریف کے لیے لاک اپ کا سامان ہے، وہ اپنا سوفٹ ویئر بدل لیں تو ہی بچ سکتے ہیں‘ اگر مونس الٰہی نے جہانگیر ترین سے ملاقات کی ہے تو اچھی بات ہے، چوہدری برادران گیلی جگہ پر پیر نہیں رکھتے، روایتی سیاست دان اقتدار کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں کورونا کے باوجود ٹرینیں چل رہی ہیں، وزیر اعظم کی اجازت ملنے کے 24 گھنٹوں میں ٹرینیں چلادیں گے۔ پیر تک اگر ٹرینیں چلانے کی اجازت نہ ملی تو پھر عید سے پہلے نہیں چلا سکتے کیونکہ عوام کی بھیڑ کو قابو میں نہیں کرسکیں گے۔ اب تک 24 کروڑ روپے کے آن لائن ٹکٹ خریدے جا چکے ہیں، ٹرینیں نہ چلیں تو عید کے 15 روز بعد ٹکٹوں کے پیسے واپس کردیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان پانچ سال پورے کریں گے، ان کی کوئی اپوزیشن نہیں، میں انہیں اپوزیشن نہیں سمجھتا، یہ ٹی وی ٹی وی کھیل رہے ہیں، ان کی اپوزیشن یہ ہے کہ میں ایک بیان دوں تو جواب میں ایک بیان آئے گا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں میں ہمت نہیں اور مولانا فضل الرحمان کو یہ لوگ استعمال کرچکے ہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نیب قانون میں ترمیم چاہتے ہیں، چوروں اور لٹیروں کو کھینچ کر رکھنا چاہیے، میں نیب کے قانون میں کسی ترمیم کی حمایت نہیں کروں گا.

نیب کے قانون میں ترمیم کرنے سے پیغام جائے گا کہ ہم خوف زدہ ہیں، 31 جولائی تک نیب جھاڑو پھیر دے گی، چھوٹی عید کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)سے گرفتاریاں ہوں گے۔ شہبازشریف اپنے ٹریک پر خود پھنس گئے،انہیں کاغذ لانے کی اجازت نہیں ملے گی، لاک ڈاون شہباز شریف کے لیے لاک اپ کا سامان ہے، وہ اپنا سوفٹ ویئر بدل لیں تو ہی بچ سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر مونس الٰہی نے جہانگیر ترین سے ملاقات کی ہے تو اچھی بات ہے، چوہدری برادران گیلی جگہ پر پیر نہیں رکھتے، روایتی سیاست دان اقتدار کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں، میر ظفر اللہ جمالی نے بھی ایک ووٹ سے حکومت کی تھی۔


ای پیپر