انتقام نہیں انصاف
16 May 2020 (15:55) 2020-05-16

ملک کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے قرضوں کے بڑھتے دبائو،اِداروں کی کم ہوتی استعداد اور فروغ پاتی کرپشن کے ایام میں کرونا کا عفریت الگ دردِ سر ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ میں اِن چیلنجز پر قابوپانے کی حکمت اور صلاحتیں ہیں یا نہیں ؟ بظاہر تو ایسا نظر آتا ہے حکمرانوں کو مسائل حل کرنے سے اِتنی دلچسپی نہیں جتنی حریفوں کو دیوار سے لگانے میں ہے شاید اُن کا خیال ہے کہ مخالفوں کو کچل کر دوبارہ حکومت میں آیا جاسکتا ہے مگر ایسا سوچتے ہوئے وہ جانے آمروںکے انجام کوکیوں بھول جاتے ہیں جنھوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور طول دینے کے ظلم وجبر کا ہر حربہ آزمایا مگرحکومت نہ بچا سکے آخرکار عوامی نفرت سمیٹ کر کوچہ اقتدار سے رخصت ہوئے ۔کیا موجودہ حکومت کو بھی ایسا ہی انجام پسندہے؟ اگر نہیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اچھے اخلاق اور تعمیری کردار سے ایسی یادیں چھوڑ کر جائیں جس سے اقتدارکے بعد بھی عزت وتکریم میں کمی نہ آئے سدا بادشاہی اللہ کی ہے پھر رسوائیاں اور بدنامیاں سمیٹنے میں کیا حکمت ہے؟

مسائل کا حل تفریق میں اضافے سے نہیں اتحاد واتفاق سے ممکن ہے جس سے حکومت پہلو تہی کر رہی ہے انھی وجوہات کی بنا پر لاک ڈائون کے حکومتی فیصلے پر

عملدرآمد کی رفتار سُست ہے تعاون کی پیشکش کے باوجود اپوزیشن پر دشنام طرازی دانشمندی نہیں بے اعتباری کے مظاہرے سے ملک میںاتحاد و اتفاق کی فضا عنقاہے آصف زرداری فکرمندی اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں حکومت کرونا سے نہیں اپوزیشن سے لڑ رہی ہے شہبازشریف بھی مسائل کے حل کے لیے ایک سے زائدبارتعاون کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن لگتا ہے حکمرانوں کو نہ مسائل سے پریشانی ہے اور نہ ہی مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے مسائل حل کرنے کا ہُنر تو نہیں حکومتی صفوں میں بیٹھے لوگ بحران تخلیق کر نے کے ماہرہیں تبھی تعاون کی فضا نہیں بن پا رہی اب بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ اتحادیوں کو بھی پریشان کیا جارہا ہے جس کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر روش تبدیل نہ کی گئی اور افہام وتفہیم کی فضا نہیں بنائی جاتی تو نہ صرف اپوزیشن کے وسیع تر اتحاد کے امکانات بڑھ جائیں گے بلکہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے اتحادی بھی الگ ہو سکتے ہیں اگر ایسا ہوتا ہے تو جو بھی نقصان ہوگا وہ حکومت کا ہی ہوسکتا ہے اپوزیشن کے پاس کھونے کے لیے تو کچھ نہیں تو پھر کیا یہ بہتر نہیں نقصان اُٹھانے کی بجائے مسائل کے حل کے لیے حزبِ مخالف کی مثبت تجاویز کو قبول کر لیا جائے سندھ واور وفاق کو مدمقابل لا کر قومی یکجہتی کوسبوتاژکرنا ملک وقوم کی خدمت نہیں۔

نیب کی ذمہ داری کرپشن کی روک تھام ہے اُس کا یہ فرض نہیں کہ خود کو سیاستدانوںکو تنگ کرنے تک محدود کر لے مگر نیب کی کاروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ نیب نے اپنا دائرہ کارصرف سیاستدانوں تک محدود کر لیا ہے اور سیاستدان بھی وہ جوحکومتی جماعت سے باہر ہیں جس سے انتقامی تاثر ہویداہے اسی بنا پر نیب کے کردار پر اُٹھتی اُنگلیاں اُس کی ساکھ تباہ کر رہی ہیں حکومتی اتحاد میں شامل ق لیگ بھی آجکل تختہ مشق ہے اِداروں کی جانبداری اورحکومتی اِشارے پر فیصلے کرنا انصاف اور احتساب کاگلہ گھونٹنے کے مترادف ہے۔

5اگست کومقبوضہ کشمیرکی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدام پر پاکستان نے بھارت سے ہرقسم کی تجارت منقطع کر لی لیکن کابینہ کے فیصلوں کے برعکس چپکے سے مخصوص ہاتھوں نے تجارت کی بندش سے جان بچانے والی ادویات کے نام پرادویات کو استثنیٰ دے دیا اور اِس آڑ میں دھڑادھڑ ایسی ادویات بھی منگوانا شروع کردیں جو پاکستان میں وافر تیار ہوتی ہیں یوں اربوں روپیہ بھارت منتقل ہوگیالیکن وزیرِ تجارت رزاق دائود کا محاسبہ کرنے کی بجائے احتساب کے مشیر شہزاد اکبر کوچھان بین پر لگا دیا گیا ہے مشیرِ صحت ظفر مرزاکی تعیناتی سے ادویات کے نرخ دوگُنا سے بڑھ گئے ہیں جس پر بارے واقفانِ راز کا دعویٰ ہے کہ وہ فارماسوٹیکل صنعتکاروں کے مفادات کی نگہبانی کا فریضہ نبھا رہے ہیں اتنی بڑی واردات کے باوجود شہزاد اکبر نے ہونٹ سختی سے بھینچ رکھے ہیں آئے روز اپوزیشن رہنمائوں پر کیچڑ اُچھالنے میں پیش پیش احتساب کے مشیر ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں یہ جانبداری ہے یا مفادات کی چمک نے خاموش کر رکھا ہے؟ نیب کا آنکھیں بند کرنے کاکیا مطلب ہے ؟اِس کا جواب جو بھی ہوحکومت کی نیک نامی میں اضافے کوئی پہلو نہیںقرآن کریم میں ارشادِ خداوندی ہے انسانوں کے لیے وہی ہے جس کے لیے انھوں نے جستجو کی۔

بدعنوانی کا الزام لگاکر شریف اور زرداری خاندان کے سیاسی کردارکو محدود کرنے کے لیے حکومتی کاروائیوں کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر جس رفتار سے کیس بنائے جارہے ہیں ثابت نہیں ہورہے جس سے احتساب کے عمل میں جانبداری مترشح ہے عمران خان کے چُھپ کر وار نہ کرنے کے دعوے کے باوجود ق لیگ کی قیادت کے خلاف 21 برس پُراناکیس کھلوانے میں حکومتی ہاتھ رَد کرنا بظاہر ممکن نہیں کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے ایام میں چوہدریوں کے کردار سے حکومتی ناخوشی الم نشرح حقیقت ہے اسی وجہ سے اتحادی جماعت مشکوک ہوئی علاوہ ازیں شہبازشریف کی طرف سے چوہدری برادران سے گلے شکوے ختم ہونے کا مطلب یہ لیا گیا ہے کہ پنجاب میں ن اور ق میں بڑھتی اپنائیت پی ٹی آئی کے اقتدار کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اسی لیے کیس بنانے میں عجلت کا مظاہرہ کیا گیا جب ختم کیس دوبارہ کھولنے کے اقدام کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تو نیب نے کسی قسم کی انکوائری سے ا نکار کر دیا لیکن اِس بات میں شائبہ نہیں کہ نیب چند ماہ سے ایسے مخصوص سیاستدانوں کے بارے متحرک ہے جن کا تعلق اپوزیشن یا اتحادیوںسے ہے جس کا ایک ہی مطلب ہے کہ خطرہ محسوس کرتے ہوئے نیب کے زریعے اقتدار بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

شبلی فراز کہتے ہیں مکمل لاک ڈائون سے لوگوں کو بھوکا نہیں مار سکتے انسانی جانوں کے ساتھ معیشت کو بھی بچانا ہے اِس لیے ایس او پیز پر عمل کرانے کے لیے ڈنڈے کا ستعمال نہیں کر سکتے مگر اُن سے پوچھنے کی اتنی جسارت ہے کہ اپوزیشن اور اتحادیوں کے پیچھے لٹھ لیکر بھاگنے میں کیا حکمت ہے؟ پُر سکون سیاسی منظر نامے سے حکمرانوں کو کیوں چڑ ہے؟ موجودہ حکومت کواقتدار میں آئے دوبرس ہوگئے ہیں لہذابہتر یہ ہے کہ اپوزیشن کی سوچ ترک کردیں اور خود کو حکمران سمجھ کر ٹھہرائو اور تحمل کی روش پر چلیں انتقامی کاروائیوں سے اقتدار کو دوام نہیں ملتا بلکہ سیاسی منظرنامہ پراگندہ کرنے سے نقصان کا احتمال ہے۔


ای پیپر