کرونی انقلاب…’’ جہان نو ہو رہا ہے پیدا۔۔۔‘‘
16 May 2020 (15:54) 2020-05-16

کرونا کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے اب یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ اس کو جڑ سے ختم کرنا مستقبل قریب میں شاید ممکن نہ ہو گا۔ اس صورت حال کو کرونی انقلاب کا نام دنیا چاہیے جس نے دنیا کا معاشی اور کاروباری منظر نامہ یکسر تبدیل کردیا ہے۔ جس تیزی سے کیسز بڑھ رہے ہیں آنے والے وقت میں قرنطینہ انتظامات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔ عوامی سطح پر پاکستان میں اس کا انسانی زندگی کو درپیش خوف کم ہو رہا ہے البتہ اس بیماری کی معاشی casualityکی شرح انسانی شرح اموات سے کہیں زیادہ ہے۔ اس نے دنیا بھر کے بزنس پر گہری ضرب لگائی ہے جس سے دنیا میں کساد بازاری اور غربت میں اضافہ کا سنگین خطرہ ہے۔

چھوٹے بڑے کاروبار تباہ ہورہے ہیں پاکستان آٹوموبائیل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اپریل کے مہینے میں پاکستان میں ایک بھی نئی گاڑی سیل نہیں ہوئی گویا سوزوکی ٹویوٹا ہنڈا جیسے دیو ہیکل اداروں کی ماہانہ سیل زیرو ہوگئی اس سے پہلے ہی یہ ادارے اپنے پروڈکشن پلانٹ بند کر چکے ہیں اور ان میں ڈائون سائزگ کا عمل تیزی سے جاری ہے جس سے ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

البتہ کرونی انقلاب کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہیَ سماجی فاصلوں لاک ڈائون اور بین الاقوامی سفری پابندیوں کے بعد آن لائن رابطوں، ویڈیو کانفرنسنگ، آن لائن کلاسز اور اس طرح کی سرگرمیوں میں زبردست تیزی آئی ہے اور یہ سلسلہ مزید فروغ پائے گا۔ایک طرف دنیا بھر کی آدھی سے زیادہ ائیرلائن کمپنیاں دیوالیہ ہوکر بند ہونے والی ہیں جو باقی بچی ہیں وہ آئندہ مالی حالات کا کا شکار ہوں گی کیونکہ مسافروں کی تعداد بہت کم ہوگی۔ سیاحت بطور انڈسٹری کی بساط لپیٹ دی گئی ہے۔ سیاحت کے خاتمے سے ہوٹل ریسٹورنٹ روڈ ٹرانسپورٹ کے شعبے مجروح ہوں گے۔ گویا ایک سلسلہ ہے جو مزید سیکٹرز کے دیوالیہ ہونے کا باعث بن رہا ہے۔

گزشتہ دودہائیوں سے پاکستان میں شام کا کھانا باہر کھانے کا رحجان بڑی تیزرفتاری سے جاری ہے۔امیر لوگ باہر پرتعیش کھانے کھاتے تھے اور غریب اور متوسط طبقہ ان کی نقالی میں انہی جگہوں پر کبھی کبھار کھانا کھا کر ان سے برابری کا اظہار کرکے اپنی نفسیاتی اناکی تسکین کا سامان مسیر کرتا تھا پاکستان میں ریسٹورنٹ کو بھی ہوٹل کہہ دیا جاتا ہے حالانکہ ہوٹل وہ ہوتا جہاں قیام کرنے کیلئے کمرے موجود ہوں۔ بہر حال ریسٹورنٹ کی صنعت نے عوامی ذہنیت کا بھر پور فائدا اٹھایا اور ملک بھر میں خصوصاً لاہور میں ریسٹورنٹس کا جال بچھا ہوا ہے۔ اب تو قومی سطح پر ایسے چین وجود آگئے جن کے کئی شہروں میں ایک ہی نام سے کاروبار ہیں جیسے بندوخان ریسٹورنٹ ہے۔ ہمارے سندھ سے تعلق رکھنے والے دوست اکثر کہتے ہیں کہ انہوں نے 70کی دہائی میں کراچی میں بندوخان کو دیکھا ہے جو ایک لکڑی کے ٹھیلے پر بیٹھ کر کھانا فروخت کرتا تھا۔

ان ریسٹورنٹس میں کھانے کے بل پر 17فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوتا ہے۔ ویٹر اور سکیورٹی گارڈ اور پارکنگ میں الگ الگ بخششیں دینا پڑتی ہیں۔ منرل واٹر کی 30والی بوتل 100روپے میں فراہم ہوتی ہے جو جی ایس ٹی شامل کرکے 117کی ہو جاتی ہے۔ گلبرگ کے علاقے میں کھانے کے یہ اڈے روزانہ لاکھوں روپے کی سیل کرتے ہیں ۔ سیکنڈ کپ ایک کافی شاپ چین ہے جہاں کافی کا ایک کپ جس کی لاگت 50روپے سے کم ہے وہ 400روپے میں بیچا اور خریدا جاتا ہے۔ ریسٹورنٹ گزشتہ دوماہ سے بند پڑے ہیں ان کا بلدنگ رینٹ لاکھوں میں ہے لیکن ان کو اس لئے پرواہ نہیں کیونکہ یہ رینٹ تو کسٹمر کی جیب سے جاتا ہے۔ ایف بی آر کی رپورٹس دیکھ لیں یہ ریسٹورنٹ میں بہت سے ایسے ہیں جو سیلز ٹیکس کی رقم غبن کرتے ہیں اور وہ پیسہ سرکاری خزانے میں جمع نہیں ہوتا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ ایشو چلا تھا مگر پھر لاک ڈائو ن ہوگیا۔

ان ریسٹورنٹ کے لیے لاک ڈاؤن سے بھی زیادہ بری خبر یہ ہے کہ مستقبل قریب میں یہ انڈسٹری ٹھپ ہو جائے گی۔ ایک امریکی ارب پتی Travis Kalanick جسے آپ نہیں جانتے مگر اس کی قائم کردہ UBER ٹیکسی سروس کو آپ جانتے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس کی اپنی ایک بھی ٹیکسی نہیں مگر اس نے ایک کمپیوٹر App بنا کر دنیا بھر کی ٹیکسی بزنس کو در بدر کر دیا ہے اور خود اربوں روپے کھا لیے کیونکہ اوبر کا کرایہ ٹیکسی سے آدھا ہے۔

Travis نے اب فیصلہ کیا ہے کہ وہ Cloud Kitchen کے نام سے وسیع جگہ بنا کر وہاں کھانا پکوانے کا انتظام کرے گا اور اعلیٰ معیار کا یہ کھانا اوبر کے کرائے کی طرح آدھی قیمت پر کسٹمر کی دہلیز پر پہنچایا جائے گا۔ اس سے ریسٹورنٹ بزنس جو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہے وہ ختم ہو کر رہ جائے گا۔

یہ ایک بزنس سیکرٹ ہے کہ دنیا میں نوکیا فون جو کبھی پہلے نمبر پر تھا اب بند ہو چکا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نوکیا نے وقت اور حالات کے مطابق خود کو نہیں بدلا۔ ہماری ریسٹورنٹ لائن مستقبل کی نوکیا ہے کیونکہ انہوںنے اپنے کسٹمر کا استحصال کیا ہے اور ناجائز منافع خوری سے اربوں روپے سے اپنی جیبیں بھری ہیں۔


ای پیپر