’’ شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا ‘‘
16 May 2020 (15:54) 2020-05-16

کالم کا ٹائٹل افسردہ ماحول کی غمازی کرتا ہے لیکن یقین کر یں آج ہم صرف موسیقی جیسے خوبصورت موضوع پر بات کریں گے۔ لاک ڈائون جیسے depressive ماحول میں صرف خوبصورتیوں کاذکر ہونا چاہیے ، اور کسے انکار ہے کہ موسیقی ایک خوبصورتی کا نام ہے۔موسیقی کا تعلق صرف روح سے ہے اس لیے اسے روح کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے کئی دفعہ محسوس کیا ہو گا کہ موسیقی کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے سے آپ کی روح کھل اٹھتی ہے اور آپ ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ آپ جانتے ہونگے کہ موسیقی کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔افریقن زبان میں خوبصورت دھن پر گائے گانے پر بھی دل جھومنے لگتا ہے حالانکہ ایک لفظ کے معنی بھی سمجھ نہیں آ رہے ہوتے۔اسی طرح آپ کو کبھی نہ کبھی یہ تجربہ بھی ہوا ہوگا کہ رات کے وقت کہیں دور سے آتی کسی گانے کی آوازنے آپ کو اپنی گرفت میں لے لیا اور آپ کئی یادوں میں کھو کے رہ گئے۔لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ موسیقی ہر انسان کو touch نہیں کرتی۔ یہ صرف ان لوگوں کو touch کرتی ہے جن کی جینز (genes) کے اندر موسیقی کو محسوس کرنے والا ایک آلہ فطرت کی طرف سے fix ہوتا ہے۔آپ کئی دفعہ اس تجربہ سے بھی گزرے ہونگے کہ آپ گاڑی میں ایک نہایت ہی خوبصورت گانے سے لطف اٹھا رہے ہیں اور ایک دوسست گاڑی میں بیٹھتے ہی کہتا ہے کہ یا ر اس شور کو تو بند کرو۔ ہمارے ایک دوست جو موسیقی کے بہت ہی رسیا ہیں انھوں نے تو کچھ اسی قسم کے دوست کو کہہ د یا تھا کہ اس سے بہتر نہیں کہ آپ ہی گاڑی سے اتر جائیں اور یہ کہہ کر گاڑی روک دی تھی۔ ٹائٹل میں دیا گیا مصرعہ رومانٹک اور خوبصورت شاعر منیر نیازی کی ایک غزل سے لیا گیا ہے جسے رشید عطرے کی دھن پر گلو کارہ نسیم بیگم نے گایا تھا۔منیر نیازی مرحوم کی یہ غزل آج تک لوگوں کے دلوں کے بہت قریب ہے۔ اس غزل کا مطلع تھا،

اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

میں سوچ رہا تھا کہ نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی ہے کہ ہر شعبہ زندگی زوال پذیر ہے اور ہر طرف ترقی معکوس نظر آتی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جو علاقے پاکستان کے حصے میں آئے تھے وہاںحالات خاصے ابتر تھے لیکن اس ملک کے لوگوں نے رات دن محنت کرکے اپنے ملک کو ہندوستان جیسے بڑے ملک کے مقابل لا کھڑا کیا تھا۔آج چونکہ ہم موسیقی پر بات کر رہے ہیں تو اسی شعبہ پر ہی بات جاری رکھیں گے۔ اس نوزائیدہ ملک کے گلوکاروں، شاعروں ، موسیقاروں اور سازندوں نے یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ ہندوستاں جیسے بڑے ملک کی

دنیائے موسیقی کے فنکاروں سے کسی طور کم نہیں ہیں۔ میں اس وقت کی موسیقی کے اس پہلو کو بھی رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ کیسے کیسے شعراء کے گیتوں اور غزلوں کو گایا جاتا تھا۔ فیض احمد فیض کی غزل مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ کو میڈم نور جہاں کا گانا اور اسے امر کر دینا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ یہ غزل فیض صاحب نے اپنے ایام جیل کے دوران لکھی تھی۔ فیض صاحب اس غزل کو میڈم کی غزل کہا کرتے تھے ، ان کے مطابق میڈم نے اپنی خوبصورت آواز میں اسے گا کر زبان زد عام کردیا تھا۔ آپ کو شاید یہ بھی معلوم ہو گا کہ فیض صاحب اپنی اسیری سے رہائی پانے کے بعد سیدھے میڈم کی رہائش گاہ پر میڈم کا شکریہ ادا کرنے چلے گئے تھے اور انھیں چوکیدار نے داخل نہیں ہونے دیا تھا، انکے اصرار پر جب میڈم کو بتایا گیا تو پہچاننے کے بعد وہ انھیں خود جا کر اپنے گھر میں لے کر آئی تھیں ۔ فیض صاحب نے کہا کہ میں نے جیل میں اس غزل کی مقبولیت کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ میں جیل سے سیدھا میڈم

کے گھر جا کر ان کا شکریہ ادا کرونگا۔ کیا شعراء تھے اور کیا گلوکار۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ انڈین فلم انڈسٹری نے اپنی ایک فلم کے گانے میں اسی غزل کا ایک مصرعہ استعمال کرنے کی اجازت فیض صاحب سے مانگی تھی اور وہ مصرعہ تھا ع تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے ،جسے رفیع صاحب کے بہترین گانوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔اس وقت اپنے ملک میں فلموں کے گانے اپنے ملک کے خوبصورت اور چنیدہ شعراء لکھا کرتے تھے جیسے منیر نیازی ، سیف الدین سیف ، قتیل شفائی ،اے حمید اور احمد راہی ۔ احمد راہی پنجابی کے خوبصورت گانے لکھتے تھے لیکن ان کے اردو فلموں کے گانوں نے بھی وہ مقبولیت پائی کہ آج تک لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں ،جیسے کہ نور جہاں کا گایا گیت، دل کے افسانے نگاہوں کی زبان تک پہنچے بات چل نکلی ہے اب جانے کہاں تک پہنچے ۔ اس وقت کے سنگرز میں مہدی حسن ، سلیم رضا ، منیر حسین ، احمد رشدی اور مسعود رانا ۔ اسی طرح میڈم نور جہاں، نسیم بیگم ،زبیدہ خانم اور مالا بیگم۔ موسیقاروں میں خواجہ خورشید انور جو ایم اے انگلش اور انڈیا کی سول سروس کے لیے امتحان پاس کرچکے تھے، فیروز نظامی ، موسیقار وجاہت عطرے کے باپ رشید عطرے، اے حمید،ماسٹر عنائت حسین اور ماسٹر عبداللہ، کس کس کا نام لیں۔پاکستان اور خصوصاً لاہور میں موسیقی ایک انڈسٹری کے طور پر اپنا مقام بنا چکی تھی۔ لاہور کے کئی گھرانے موسیقی کی دنیا میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ جیسے امانت علی خان اور فتح علی خان فیملی، مشہور غزل گائیک غلام علی، غزل کے بادشاہ مہدی حسن ، غزل گائیک فریدہ خانم ۔ اسی طرح مختلف گھرانے مختلف ساز بجانے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے ، جیسے ماسٹر صادق جو پیدایشی طور پر بلائنڈ تھے لیکن پیانو بجانے میں ان کی مہارت تاریخ کا حصہ ہے۔ انھوں نے کئی سالوں تک لاہور کے پرل کانٹی نینٹل ہو ٹل میں پیانو بجایا۔ ان کے بیٹے اسد اس ملک کے بہت بڑے گٹارسٹ ہیں۔ اسد سے میری ملاقات ندیم حسن آصف کی وساطت سے ہوئی تھی جو اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری تھے ۔ندیم حسن آصف خود بہت اچھے گٹارسٹ ہیں اور موسیقی ان کے دل میں ایک خاص جگہ رکھتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر شعبہ جات کی طرح موسیقی کا شعبہ بھی زوال پذیر ہوتا گیا ، سٹوڈیوز اور ریکارڈنگ ہاوسز بند ہوتے گئے ۔ کچھ سمجھ نہیں آتی اس ملک کو کیاہوتا گیا ۔

یہاں مجھے منیر نیازی کا ایک اور شعر یاد آگیا ہے ،

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر اور سفر آہستہ آہستہ

اب اس ملک کے گلوکار اور سازندے مواقع کی تلاش میں ہندوستاں کا رخ کرتے ہیں ، وہاں آپ جانتے ہیں آ ج کل پاکستانیوں کے لیے حالات بالکل ساز گار نہیں ہیں۔ کبھی کوئی ہندو شدت پسند جماعت ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے تو کبھی وہاں کا انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ تنگ کرتا ہے۔غرضیکہ اس ملک کے بڑے بڑے فنکار بہت ہی مشکلوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ صاف ظاہر ہے ان مشکل حالات میں فن کی کیا آبیاری ہوگی، آہستہ آہستہ فن ختم ہوتا جائیگا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہاں فن کے خزانے موجود ہیں جو ضائع ہو رہے ہیں لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔میں چند روز پہلے یو ٹیوب (Youtube ) پر استا د آ فتاب علی خان المعروف تبو خان کو اکارڈین ( Accordian ) بجاتے دیکھ اور سن رہا تھا ۔ اسکافن ایک خزانہ تھا۔لیکن اب ان خزانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ حکومت پنجاب نے پنجاب آرٹس کونسل کے ایم ڈی کے عہدہ پر ایسے آفیسر کو تعینات کر دیا ہے جو انتہائی بے لوث ، دیانت دار اور فنکار قبیلہ کا درد رکھنے والا ہے۔فنکاروں کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ، اور رضوان شریف کو اپنے ہر مسئلہ سے آگا ہ رکھا کریں۔


ای پیپر