ماں کے عالمی دن پر اپنی مرحومہ ماں کے نام ایک خط
16 May 2020 (15:53) 2020-05-16

پیاری امی!

السلام علیکم!

آخری لمس تیرا آج بھی یاد آتا ہے

تیری خوشبو سے میر ا دل یہ مہک جاتا ہے

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے اکیس سال پہلے اکیس جون کو صبح چار بجے جب آپ ہمیشہ کے لیے ہمیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔

آپ تو جانتی تھیں نا میں آپ کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتی تھی پھر کیوں چھوڑا مجھے؟

آُپ جانتی تھیں نا میں آپ کو دیکھے بغیر نہیں سوسکتی تھی تو کیوں چھوڑا مجھے؟

امی آپ وہ واحد شخصیت تھیں جو بن کہے میرے دل کا مکمل حال جان لیتی تھیں!

آپ کہتی تھیں!

بیٹا کیوں اداس ہو آج میاں سے کوئی ناراضگی ہے تو میں کہتی تھی نہیں امی،یاد ہے تب آپ نے کہا تھا کہ آج تم نے لپ اسٹک جو نہیں لگائی تو اس لیے پوچھا ہے۔

امی آپ کی وہ سب نصیحتیں یاد ہیں میں عمل بھی کرتی ہوں۔

جلد بازی مت کرنا تمہیں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے یقین مانیں پچھلے رمضان میں میرا پورا ہاتھ جل گیا اور میں نے پھر بھی سارے کام کیے روٹی بھی پکائی۔سچ مانیں آپ کی بہت یاد آئی۔امی بہت سے مشکل اوقات میں حوصلہ کیا میں نے اور کیسے نہ کرتی،مجھے اس نے حوصلہ دیا جو ستر مائوں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔

امی آُپ ایک دن کے لیے ہسپتال گئی تھیں تو میں نہیں رہ سکی تھی اور اب دیکھیں میں کیسے زندہ ہوں؟

امی مجھے جب کوئی انجیکشن لگنا ہوتا آُپ مجھے جوس لے کر دیتیں پیار کرتیں سہلاتیں مگر اب تو اتنے زخموں سے چور ہوجاتی ہوں پھر بھی کہیں سے مرہم نہیں ملتا۔

امی آپ صبح سے رات گئے تک گھر کے کاموں،خدمت گزاری مہمان نوازی نماز روزہ ہمسائے گیری کے ساتھ ہمارے ساتھ شرارتیں بھی کیا کرتی تھیں،

یاں مجھے یاد ہے آپ بہت کھلکھلا کر ہنستی تھیں مگر پھر جب ہم سو جاتے تو چپکے سے اپنے بہن بھائیوں کو یاد کر کے بہت روتی تھیں اور ریڈیو پر اداس نغمے سنتی تھیں۔

امی مجھے یاد ہے آپ دیکھنے میں بڑی سرخ سفید لگتی تھیں مگر روز رات کو چپکے چپکے دس طرح کی دوائیاں کھاتی تھیں تاکہ آپ اگلے دن کی مشقت کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔

امی آپ کسی سے گلہ کرتی تھیں نا شکوہ ہر وقت مسکرانا دوسروں کے کام آنا خوشبو کی طرح پوری دنیا کو مہکاتی تھیں آپ!

امی مجھے فخر ہے کہ آُپ تعلیم یافتہ نہیں تھیں پھر بھی آُپ نے ہمیں سچ بولنا،بڑوں کا ادب کرنا،مہمان نوازی کرنا،دوسروں کے درد بانٹنا اور معاشرے میں عزت سے جینا سکھایا۔

مجھے یاد ہے کس طرح آپ کم بجٹ میں بہت اچھا گزارا کرتی تھیں، لیکن جب مہمان آتے تو جانے کہاں کہاں سے چیزیں نکال کر لے آتی تھیں کہ آدھے گھنٹے میں ٹیبل بھر جاتی تھی۔

مہمان نوازی کے ساتھ ہمسایوں کے لیے آپ کتنا فکر مند ہوتی تھیں ایسا لگتا تھا جیسے وہ بھی ہمارے ہی رشتہ دار ہیں۔ ایک بار ہماری ایک پڑوسن سے آپ نے میرا عید کا سوٹ سلوایا تھا تو انہوں نے سلائی نہیں لی اور آپ گھر آکر بہت پریشان رہیں کہ اب کس طرح ان کی محبت کا صلہ دیں۔ اگلے ہی دن آپ میرے ساتھ بازارگئیں تو ان کی دونوں بیٹیوں کے لیے لان کے بہت خوبصورت سوٹ لائیں اور ان کو عید کی رات تحفے میں دئیے۔ آپ نے سمجھایا کہ ہمیشہ تحفہ کا بدلہ بہتر تحفے سے دو اور کبھی کسی کا معمولی احسان بھی لو تو اس کو قدر ضرور کرو۔

میں نے کبھی آپ کو قسمت سے گلہ کرتے یا کسی کی برائی کرتے نہیں دیکھا جب دیکھا ہنستے مسکراتے گپیں لگاتے اور دوسروں کی خدمت کرتے دیکھا۔

کھانا بانٹتے وقت ہمیشہ انصاف کا تقاضا سامنے رکھتی تھیں کہ کسی بچے کو بوٹی سے محروم نہ رکھا جائے اور خود اپنی پلیٹ میں صرف کچھ بچا کھچا سالن ہوتا پوچھنے پر بس یہی کہتی کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔ آپ کی پسندیدہ غذا بس چائے کے ساتھ ایک کرارا توس ہوتا اور اسی پر آپ سارا دن گزار لیتیں۔ ویسے تو آپ نے کبھی مجھ پر سختی نہیں کی لیکن ایک بار میں سکول سے اپنی کسی سہیلی کے ہمراہ اس کے گھر چلی گئی جب واپس گھر آئی تو آپ دروازے میں لال پیلی کھڑی تھیں جیسے ہی میں گھر کے اندر داخل ہوئی آپ نے میرے منہ پر ایک زور دار طمانچہ دیا اور کہا کہ آج کے بعد ایسی جرائت مت کرنا اور واقعی وہ سبق ایسا تھا کہ آج تین عشروں بعد بھی اپنی شادی کے بعد بھی یہ سبق نہیں بھولا اور کبھی اپنے شوہر کی اجازت لیے بغیر کبھی کہیں جانے کی ہمت نہیں کی۔

مجھے یاد ہے جب میرا یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو آپ نے مجھ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور مخالفت کے باوجود کھل کر میرا ساتھ دیا۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ آپ میری بھابھیوں کو مجھ پر فوقیت دیتی تھیں میں بڑا حیران ہوتی تھی کہ آپ اپنی بیٹی پر ان کو ترجیح کیوں دیتی ہیں تو آپ نے کہا بیٹا یہ کسی کی بیٹیاں ہیں ان کے بارے میں میں اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں مگر تم میری بیٹی ہو میں تم پر کوئی بھی سختی کرسکتی ہوں۔

اس پر اللہ مجھ سے ناراض نہیں ہوگا۔

امی آپ میرا سب کچھ تھیں، میری دوست راز دار، غمگسار آپ کے ہوتے ہوئے میں نے کبھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی کہ کوئی بیسٹ فرینڈ ہواور پھر جب چلی گئیں تو کوئی دوست ایسا ملا ہی نہیں جو آپ جیسا ہوتا!

امی آپ کی قدر و قیمت کا اندازہ ہمیں پہلے نہیں تھا کہ آپ ہمارے لیے کتنی دعائیں اور جتن کرتی تھیں۔

آخری روز جب ڈاکٹر آپ کی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے اور میرے سسرال والے آئے اور آپ نے بھائی سے کولڈ ڈرنکس منگوائیں۔

امی آپ کی جان حلق میں تھی جب آپ نے ڈاکٹرز کوکہا کہ ہسپتال کا بل زیادہ مت بنانا میرے بیٹوں کو پریشانی ہوگی۔

امی آپ تو آخری سانسوں میں بھی ہم سب کے لیے اولاد، رزق، صحت کی دعائیں مانگتی رہیں مگر ہم جیتے جی آپ کی وہ قدر نہیں کرسکے جس کی آپ حقدار تھیں۔

بے شک ہم بہت نا شکرے تھے اسی لیے اللہ نے آُپ کو اپنے پاس بلا لیا۔

امی جان ہمیں معاف کردیں اگرہماری وجہ سے آپ کا دل دکھا ہو۔

میرا وعدہ ہے، حشر میں آپ سرخرو ہوں گی اور میری خوش قسمتی میں آپ کے نام سے پکاری جائوں گی، الحمد للہ آُپ کی تربیت پر کوئی حرف نہیں آنے دیا اور یہی تربیت میں اپنی بیٹی کو بھی دوں گی انشا اللہ ۔آپ جتنا صبر، ظرف اورہمت تو نہیں ہے میرے اندر لیکن اس کی ایک پرچھائی ضرورہے۔ میری دعائوں وفائوں میں آپ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔اللہ آپ کو جنت میں اعلٰی ترین مقام عطا کرے اور اولاد کی طرف سے صدقہ جاریہ کی ٹھنڈی ہوائیں آپ کو اور ابا جان کو ہمیشہ ملتی رہیں آمین ثم آمین۔

آپ کی بیٹی


ای پیپر