’’مسیحا کی قومی خدمات اور کرونا وائرس کی تباہ کاریاں …؟
16 May 2020 (15:52) 2020-05-16

بچپن میں آپ سب نے بھی پڑھی ہوں گی..ایسی یا ان سے ملتی جلتی کہانیاں خاص طور پر ’’ خرگوش اور کچھوا‘‘۔۔

خرگوش اور کچھوے کی کہانی ’’نصاب‘‘ میں شامل کرنے والوں نے کیا ظلم کمایا ہے؟ … اُن کا خیال تھا کہ بچے یہ کہانی پڑھ کے خرگوش نہیں ’’کچھوا‘‘ بن جائیں گے اور چلتے رہیں گے … چلتے رہیں گے … چلتے رہیں گے … اور اُن بیچاروں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ کہانی پڑھنے والے جب کچھوے کو ہی اپنا ہیرو سمجھ لیں گے تو وہ کب سوچیں گے کہ کچھ عادات خرگوش والی بھی اپنا لی جائیں … شاید زندگی میں کبھی کسی موڑ پہ کام آ جائیں …؟!؟ اُنھوں نے تو یہ ہی بہتر جانا کہ ہمارا ہیرو تو بہرحال کچھوا ہے جس نے چلتے رہنا ہے؟ … کیونکہ خرگوش اچھل کود کر تھک جاتا ہے اور اُس کا رہن سہن بھی ذرا مختلف قسم کا ہے جبکہ کچھوا یا پانی میں … اگر دھوپ نکلے تو پانی سے باہر …

پھر یہ کہانی توجہ سے پڑھنے والوں نے سوچا کہ ہمیں عملی زندگی میں بھی کچھو ا بن کر ہی رہنا ہے … صبح جب لوگ جلدی (یعنی وقت پر) سو کر اُٹھ جاتے ہیں جبکہ کچھوے کے ’’پیروکار‘‘ کافی دیر تک اپنے بستر پر اِدھر اُدھر لیٹتے رہتے ہیں کبھی دائیں کبھی بائیں چونکہ وہ کچھوے کے ’’پیروکار‘‘ ہیں اس لیے وہ پھرتی سے اُٹھ نہیں پاتے …

امی نے کہا ’’بیٹے ایمرجنسی ہو گئی ہے بازار سے یہ دوائیں تو لا دو‘‘ … موصوف (یعنی کچھوا کے پیروکار) نکلے جو صبح دوائیں لینے تو چلتے رہے آرام سے … آرام سے … پارک کے پاس سے گزرتے ہوئے محسوس کیا کہ پارک میں جا گھسے … پرندوں سے کھیلتے رہے … پرندوں کی باتیں سنتے رہے … اُن کے بارے میں سوچتے رہے یہاں تک کہ گھر میں ’’امی‘‘ دل ہی دل میں کوستی رہیں اور پھر جب کچھوا سٹائل ہیرو گھر پہنچا تو امی نے خوب پٹائی کی ’’عزت افزائی کی‘‘ … آپ غور کیجئے گا کہ عام طور پر ہمارے ہاں جب محاروں کی بات ہوتی ہے اور آپ ’’عقل بڑی کے بھینس‘‘ والے محاورے پر بات کریں گے تو ہمارے کچھوے کو ہیرو ماننے والے دیر تک غور کرتے اور سوچتے رہتے ہیں کہ ’’عقل … بڑی … کے … بھینس‘‘ … وہ یقینا کئی بار سوچتے ہوں گے کہ غلطی نہ ہو جائے اور عوام میں وہ ’’بے عزت‘‘ نہ ہو جائیں یہ کہہ کر کہ عقل بڑی ہے کیونکہ بظاہر تو بھینس کو ہی بڑا ہونے کا شرف حاصل ہے اس لیے ایسے ’’عقلمند لوگ‘‘ بھینس کو سر زمین پر بوجھ سمجھتے ہیں اور عام دنوں میں ہی ذبح بھی کر ڈالتے ہیں کہ اتنا بڑا جانور اور اتنا تھوڑا دودھ دیتا ہے …؟ اور پھر اس کی خاطر تواضع بھی کرو اور … کھلائو پلائو بھی وغیرہ وغیرہ … اس لیے ایسے ’’عقلمند‘‘ کہتے ہیں کہ بھینس کو ذبح کر کے بہتر ہے بہت زیادہ گوشت ہی کھا لیا جائے تھوڑے سے دودھ کے مقابلے میں …

اپنے ارد گرد غور کریں آپ کو عقل بڑی … کے بھینس … پر غور کرنے اور سوچنے والے بہت سے مل جائیں گے یقینا یہی کچھوے کو ہی اپنا ’’ہیرو‘‘ ماننے والے ہوں گے …

ایک ادارے نے مجھے ’’نصاب‘‘ کی کتابوں کے لیے کہانیاں لکھنے کو کہا … میں نے اپنے انداز میں اپنی ہی قسم کی دلچسپ اور مزیدار کہانیاں لکھ ڈالیں … مجھے ’’انچارج‘‘ کا فون آیا کہنے لگے …

’’اپنا … حافظ مظفر محسن یہ کیا تم نے غیر سنجیدہ قسم کی کہانیاں لکھ دیں ہیں؟ …

بچے پڑھیں گے کم، ہنسیں گے زیادہ اور کھیل تماشہ شروع ہو جائے گا؟ … اوپر سے تم نے ان کہانیوں میں چاکلیٹ … سپر سانک جہاز (اُن کی مراد ٹیکنالوجی تھی؟ شاید) جینز کی پتلون … کمپیوٹر کی Latest سوچ ڈال دی ہے … بہتر ہے تم اس میں چورن، چٹنی، سموسے … بارہ مصالحے والی دال … انڈا برگر ڈالتے تو ہم سمجھتے ’’تم‘‘ لکھاری ہو ؟‘‘ …

میں نے ادب سے عرض کی سرکار آپ بڑے افسر ہیں آپ نے مجھے ’’تم‘‘ … ’’تم‘‘ … ’’تم‘‘ … پچاس دفعہ کہہ ڈالا … پنجابی میں ’’تم‘‘ کوئی قابل عزت طرز تخاطب نہیں ؟ … دوسرا یہ کہ آپ کے دور میں ’’چورن‘‘ … چٹنی … بارہ مصالحے والی دال … گھچک … وغیرہ چلتے ہوں گے اب تو بچے چاکلیٹ … کمپیوٹر … سپر سانک ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہیں، یاد کریں جو بچی چند سال پہلے کم عمری میں ہی فوت ہو گئی تھی میری مراد ’’ارفع کریم‘‘ سے ہے … وہ معصوم کم عمر بچی ’’کمپیوٹر‘‘ … کی ماہر ہو چکی تھی اور دنیا بھر کے کمپیوٹر کے ماہرین اُس کی اس قابلیت پر حیران تھے … پریشان تھے اُس کے آگے گھٹنے ٹیک چکے تھے وہ تو اللہ پاک کا حکم تھا اور وہ بیچاری کم عمری میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئی … ایسے ہی آزاد کشمیر ایک آٹھ سال کا بچہ جو فزکس، کیمسٹری اور دوسرے جدید علوم میں ’’عالم‘‘ بن چکا ہے اور اپنے سے بڑوں کو ان مضامین میں لیکچر بھی دیتا ہے … ؟ پورے اعتماد کے ساتھ …

ہمارے ہاں بات یہ ہے کہ نصاب کی کتابوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ لکھاری یا عالم فاضل لوگ تعینات کئے جائیں جو علم بانٹتے ہیں جنہیں اس کام کی سوجھ بوجھ بھی ہو مجھے بار بار یورپ کا وہی مشہورِ زمانہ لکھاری برٹرینڈرسل یاد آ جاتا ہے جو کہتا ہے کہ ’’ترکھان بننے کی صلاحیت والے کو ہم ’’صحافی‘‘ بنا کر بیٹھا دیتے ہیں … جو اچھا عالم یا ڈاکٹر، انجینئر بن سکتا ہے اُس کو ہم بے روزگاری کے باعث ’’دربان‘‘ بنا کر بیٹھا دیتے ہیں … جبکہ محض ایف۔ ایس سی میں اچھے نمبر حاصل کر لینے پر یہاں بہت سے لوگ ڈاکٹر یا انجینئر بن بیٹھتے ہیں حالانکہ اصولی طور پر اُن میں اچھا کاروباری یا ہیرا پھیری والا دوکاندار بننے کی پوری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں اور ایسے ڈاکٹر پھر جب تعلیم نہیں ڈگریاں حاصل کر کے ملازمت حاصل کرتے ہیں اور لاہور کے ’’میو ہسپتال‘‘ میں تعینات ہو جاتے ہیں تو پھر وہ ڈاکٹر نہیں رہتے اُن کے اندر کا کاروباری جاگ اُٹھتا ہے عام طور پر صحتمند آدمی بھی کسی ’’مسل‘‘ کے کھیچ جانے سے اگر اپنا معائنہ کروانے ایسے ڈاکٹروں کے جا پہنچتا ہے تو وہ ’’اُسے‘‘ جھوٹ موٹ کہتے ہیں تمہارے دل کی دو شریانیں بند ہیں موت سے ڈراتے ہیں اور وہ بیچارہ خود کو دل کا مریض سمجھ کر اُن ’’بظاہر ڈاکٹروں‘‘ کے حوالے کر ڈالتا ہے اور وہ چار پانچ لاکھ ایسے ہی چھین لیتے ہیں

اور اُس کو ’’ادھیڑ‘‘ بھی ڈالتے ہیں …

اور … خود پھر بھی ’’ڈاکٹر‘‘ ہی کہلاتے ہیں ؟ …

اِک محفل میں ’’اُن‘‘ کے پاس بیٹھے تھے... یہ قطعہ ہو گیا آپ بھی ملاحظہ کریں ..

سامنے ہیں ...اداس بیٹھے ہیں

اپنی مرضی سے پاس بیٹھے ہیں

اُن کو جی بھر کے دیکھنا تو ہے

سامنے گرچہ ’’ باس ‘‘ بیٹھے ہیں

یعنی Meeting جاری ہے سامنے ’’ باس‘‘ بھی تشریف فرما ہیں لیکن .... ہم اپنی طبیعت کے مطابق... اُن کو دیکھنے میں محو ہیں …

کچھ دنوں سے دنیا بھر میں ’’ کرونا‘‘ کی آمد کے بعد ہمارا میڈیکل کے شعبہ میں موجود لوگوں کے بارے میں نظریہ بدل چکا ہے کیونکہ ڈاکٹرز اور دوسرا طبی عملہ اس وقت اپنی جان پر کھیل کر انسانیت کی فلاح میں مصروف ہے اور بہت سے اس شعبہ سے وابستہ لوگ خدمات سر انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار چکے ہیں … کرونا وائرس کے حوالے سے ایک شعر ملاحظہ کریں … ؎

پرندے بھی ہیں گم سم کیا ہوا انسان کیوں چپ ہے؟

کسی کو TOUCH نہیں کرتا وہ HUG کرنے سے ڈرتا ہے ؟


ای پیپر