یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(پندرہویں قسط )
16 May 2020 2020-05-16

وزیراعظم عمران خان کے ساتھ حالیہ طویل ون ٹوون ملاقات کے حوالے سے گزشتہ کالم میں، میں عرض کررہا تھا ”ہمارے محترم خان صاحب الیکشن کے قریب قریب اور وزیراعظم بننے کے فوراً بعد اپنے روایتی جذباتی انداز میں جب سودنوں میں سسٹم ٹھیک کرنے کے مسلسل دعوے بغیر سوچے سمجھے کرتے تھے ہمیں اُن کی ”معصومیت“ پر ہنسی آتی تھی، جتنی خرابیاں گزشتہ چالیس پچاس برسوں میں سیاسی وغیر سیاسی حکمرانوں نے جن میں عدالتی و فوجی حکمران بھی شامل ہیں، اور ہماری صحافت نے بھی پورا حصہ اس میں ڈالا، اور سب سے بڑا حصہ عوام کی مسلسل خاموشی نے ڈالا، ملک میں چُن چُن کر گاڑ دی ہے اُن خرابیوں کو اُکھاڑنے کے لیے سوبرس بھی اب شاید کم ہیں، البتہ ایک صورت میں مختصر ترین وقت میں سب کچھ ٹھیک کرنے کا دعویٰ ضرورقابلِِ عمل ہوسکتا ہے ، اِس ملک کی چند شخصیات معاشرے کو ٹھیک کرنے کا کوئی مشترکہ ”ایس اوپی“ تیارکرلیں جو ہرقسم کے ذاتی اغراض اور مقاصد سے پاک ہو، ہرقسم کی مصلحتوں سے پاک ہو، ہرقسم کی منافقتوں سے پاک ہو، خصوصاً جھوٹ جیسی لعنت سے پاک ہو، یہ ”معجزہ“ واقعی اگر ہو جائے، میں پورے ایمان، پورے یقین ، پورے دعوے سے کہتا ہوں یہ ملک سودنوں میں نہیں سوگھنٹوں میں ٹھیک ہوسکتا ہے ، پر المیہ اور حقیقت یہ ہے کچھ قوتوں یا اصل قوتوں کے سارے مفادات ہی اس غلیظ اور گندے سسٹم سے جُڑے ہوئے ہیں، اور عوام بھی اس غلیظ اور گندے سسٹم کے اتنے عادی ہوچکے ہیں وہ کوئی ایسا سسٹم قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں جو وقتی طورپر اُن کے لیے شاید کسی نہ کسی حوالے سے نقصان دہ ہو، مگر بالآخر تبدیل شدہ یہ سسٹم دنیا بھر کے معاشروں بلکہ مہذب معاشروں میں اُنہیں ایک منفرد اور خاص مقام پر لے جاکرکھڑے کرسکتا ہے ، اِس صورت میں ہونے والے اجتماعی فوائد کا وہ اندازہ ہی نہیں لگاسکتے، پر افسوس ہم فوری ومصنوعی فائدوں کے اتنے خواہش مند، اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ مستقل ، دیرپا اور باوقار فوائد کا تصور ہی ہمارے ہاں نہیں ہے ، ہماری سوچ اِ س حدتک گرچکی ہے کچھ عرصہ پہلے ایک پولیس افسر بلکہ موٹے تازے پولیس افسر نے مجھ سے کہا ”میں اگر کسی کا کام کروں، میں اُسی دن اُس کے بدلے میں کوئی نہ کوئی فائدہ اُس سے لے لیتا ہوں کہ پتہ نہیں میں نے کل بچنا بھی ہے یا نہیں“ .... یہ اکیلے شخص کی سوچ نہیں، بدقسمتی سے پورا معاشرہ اس سوچ کا شکار ہے ۔ اور بے وقار ہے ، .... میں عرض کررہا تھا ہمارے ملک کی صرف تین بڑی شخصیات پہلے خود ٹھیک ہو جائیں، اُس کے بعد ڈنڈاہاتھ میں پکڑ لیں، ضرورت پرے ”بندوق“ پکڑنے میں بھی کوئی حرج نہیں، اُس کے بعد عوام سے کہیں ”جتنا گند ہم سب نے مل کر ڈالنا تھا ڈال لیا، اب سب اپنے معاملات کو درست کرلیں، اِس کے بعد کسی نے کوئی ”ہینگی پھینگی“ کی اُسے اُلٹا لٹکا دیا جائے گا۔ اور سرعام لٹکا دیا جائے گا، .... میں دیکھتا ہوں اُس کے بعد بُری طرح بگڑے ہوئے ہم لوگ کیسے سیدھے نہیں ہوتے؟ ایک بات طے ہے اپنے طورپر ہم نے بالکل سیدھا نہیں ہونا، ہمیں اس کا کوئی تجربہ ہی نہیں ہے ، ہمیں صرف ڈنڈا ٹھیک کرسکتا ہے ، پیارمحبت کے ہم گاہک ہی نہیں ہیں، بلکہ پیار محبت کو اب باقاعدہ ہم ایک ”کمزوری“ سمجھتے ہیں،.... افسوس ہمارا پورے کا پورا سسٹم مصلحتوں اور مفافقتوں کا شکار ہے ،.... ابھی گزشتہ دنوں ایک ادارے کی ہدایت پر ”پیمراشریف“ نے کچھ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے پر ”نیوٹی وی “ کا لائسنس معطل کیا جسے سپریم کورٹ نے بحال کردیا، میں سوچ رہا تھایہ چینل اگر سیاسی وغیر سیاسی یعنی اصلی حکمرانوں کی ہراچھی بُری پالیسی کی تعریف کررہا ہوتا، دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے یہ چینل”حکومت کا میراثی“ بنا ہوتا اِس کے لائسنس کو معطل نہ کرنے کے کئی جواز ڈھونڈ لیے جاتے، .... ایسے ہی ہمارے سیاسی حکمران جنہیں ہم ”برائے نام حکمران“ ہی کہہ سکتے ہیں وہ اگر اِس ملک کی ”اصل طاقتوں“ کے سامنے اُس انداز میں آداب بجالاتے رہیں جس انداز میں وہ چاہتی ہیں، اُس کے بعد چاہے یہ ”برائے نام سیاسی حکمران“ جتنی چاہیں کرپشن کرلیں، کوئی اُن کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھے گا، سوکم ازکم مجھے ہمیشہ یہی لگتا ہے اِس ملک میں اصل مسئلہ کرپشن کا نہیں، اصل مسئلہ اصل قوتوں کے سامنے سراُٹھانے کا ہے ، اصل مسئلہ سچ بولنے کا ہے ، اصل مسئلہ اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا ہے ، جسے کوئی برداشت نہیں کرتا، کوئی اگر اِس ملک کی اصلی قوتوں کے سامنے سرنگوں رہے پھر اُس کی جان مال عزت کو کوئی خطرہ نہیں، خطرہ صرف سراُٹھانے کی صورت میں ہے ، سچ بولنے کی صورت میں ہے ، اِن قوتوں کی مثال اُس عورت جیسی ہے جو اپنے ساتھ ہونے والی ”زیادتی“ کا معاملہ لے کر عدالت میں چلی گئی، سماعت جج صاحب کو اُس عورت سے یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس ہوگئی“ بی بی تمہیں کس وقت پتہ چلا کہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوگئی ہے ؟“وہ بولی ”جج صاحب مجھے اُس وقت پتہ چلا جب چیک باﺅنس ہوا“ ....بس چیک باﺅنس نہیں ہونے چاہئیں ورنہ اپنے جانی مالی وعزت کے نقصان کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے، بہرحال یہ ساری باتیں جو میں عرض کررہا ہوں خان صاحب کے سامنے پہلے بھی کئی بار عرض کرچکا ہوں، پہلے شاید وہ اسے ہماری ”بکواس“ سمجھتے ہوں گے، مجھے یقین ہے اب اُنہیں اندازہ ہوگیا ہوگا، بلکہ اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہوگا ”کس بھاﺅ بکتی ہے ؟“....اِس بار میں جب وزیراعظم ہاﺅس پہنچا میں نے محسوس کیا بہت سا سٹاف تبدیل ہوگیا ہے ، وزیراعظم ہاﺅس کے مین گیٹ پر مجھے خوش آمدید کہا گیا، پھر وزیراعظم ہاﺅس کے لائبریری نما ایک خوبصورت کمرے میں لے جاکر بیٹھا دیا گیا، اُس لائبریری میں زیادہ تر انگریزی کتابیں پڑی تھیں، جو ظاہر ہے میرے کسی کام کی نہیں تھیں، میں سوچ رہا تھا کاش میں ”وزیراعظم نواز شریف“ کے دور میں یہاں آیا ہوتا تو کوئی نہ کوئی کتاب ضرور مجھے اپنے ملطب کی یہاں مل جاتی، ممکن ہے یہ انگریزی کتابیں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دور میں یہاں رکھی گئی ہوں تاکہ وزیراعظم سے ملنے کے لیے انے والے غیر ملکی مہمانوں کو اندازہ ہوسکے وزیراعظم نواز شریف کو انگریزی آتی ہے ۔ حالانکہ ”نواز شریف کی انگریزی سمجھنے کے لیے ضروری ہے بندے کو اُردو آتی ہو“ .... آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہے اس کالم کے آخری پیراگراف کو جان بُوجھ کر میں نے تھوڑا لائٹ کردیا ہے تاکہ اِس ملک کی اصل قوتیں باقی کالم کو بھی ”لائیٹ لی“ ہی لیں!!(جاری ہے )


ای پیپر