آئی ایم ایف معاہدہ نئی سیاسی گشیدگی کو جنم دے گا
16 May 2019 2019-05-16

آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے نئے معاہدے میں بعض چھپی ہوئی چیزیں موجود ہیں، ۔ اس مالیاتی ادارے کو اپنے پرانے اور نئے قرضے وصول کرنے ہیں۔ یہ وصولی کے لئے چار اقدامات ضروری ہیں جن کا ذکر ادارے کے جاری کئے گئے اعلامیہ میں بھی کیا گیا ہے۔قرضوں کی واپسی تبھی ممکن ہوگی جب ملک کی آمدن بڑھے گی اور اخراجات کم ہونگے۔ ملک کی آمدن میں اضافہ ہو، اخراجات کم ہوں، ملکی معیشت بڑھے تاکہ لوگ ٹیکس دے پائیں۔

آمدن ٹیکس بڑھانے، ٹیکس بیس میں توسیع، بعض نئے ٹیکسوں کے تلاش کرنے اور وصولی کو موثر کرنے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ٹیکس بڑھانے کی صورت میں اس کا فوری شکار متوسط طبقہ ا ور غریب ہوگا۔ جو سیلز ٹیکس یا دیگر ضروری اشیاء کی خرایداری پر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ قرضے کی یہ رقم معیشت میں بطور سرمایہ کاری نہیں لگے گی بلکہ قرضہ اتارنے پر خرچ کی جائے گی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری درآمدات زیادہ ہیں اور برآمدات کم ہیں۔ ہم درآمدات کم نہیں کر سکتے۔اور ملکی معیشت خاص طور پر صنعت کاری اور مینوفیکچرنگ پر توجہ نہیں دے پاتے۔نیتجے میں اپنی مصنوعات برآمد کرنا دور کی بات، اپنی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتے۔ اپنی مصنوعات میں یا معیار نہیں، یا پھر سرے سے ہم تیار ہی نہیں کرتے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ جب بعض اشیاء کی درآمد کم یا ختم کی گئی تو سمگلنگ عروج پر پہنچ گئی۔ ہمارا سسٹم اور ادارے اس کو روک نہیں پائے۔ آج کی آزاد دنیا میں ایسے بھی درآمدات پر قدغن لگانا آسان نہیں رہا۔ نیتجے میں درآمدات کم نہیں ہو سکتیں۔ لہٰذا درآمدات او برآمدات کے درمیان گیپ رہے گا ، جو کہ خسارے کی صورت میں موجود ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی رہے گا ۔ یہ گیپ بطور قرضہ چڑھ رہا ہے۔ رواں سال میں یہ گیپ بیس ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اب آئی ایم سے قرضہ لے کر درآمدات کا خسارہ ادا کریں گے۔ لہٰذا یہ درست ہے کہ یہ قرضہ عوام کو دے گا نہیں بلکہ اس سے وصول ہی کرے گا ۔عوام میں بھی ایک حد سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے کی سکت نہیں۔اس صورتحال میں متوسط طببقہ غریب ہو جائے گا ، اور غریب مزید غریب ہو جائے گا ۔ حکومت اس صورتحال سے آگاہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں جو لوگ خط غربت کی نچلی سطح پر جائیں گے، ان کی خیرات کے ذریعے مدد کریگی۔یہی وجہ ہے کہ حکومت نے غریبوں کو کام دینے کے بجائے نقد پیسے دینے کے پروگرام شروع کئے ہیں اس پروگرام کو تقریباً وزارت کا درجہ دینے کے لئے خصوصی معاون کو وزیر کا درجہ دے دیا ہے۔

تحریک انصاف حکومت میں آنے کی تیاری یعنی تحریک چلانے کے دوران اور اس کے بعد گزشتہ نو ماہ تک یہی ڈھول پیٹتی رہی کہ ملکی معیشت کی بدحالی کی اصل وجہ کرپشن ہے۔ لیکن تمام دعوئوں، تمام وسائل بروئے کا رلانے اور کوششوں کے باوجود حکومت تاحال ایک پیسہ بھی حاصل نہیں کر سکی۔ اب نئی مالی ٹیم نے اچانک یہ انکشاف کیا کہ معاشی برائی کی جڑ کالادھن ہے، جو ملکی معیشت کا تیس فیصد ہے۔ لہٰذا اب نئی مالی امور سے متعلق ٹیم اس کالے دھن کو تلاش کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پیسے وصول کرنا اور وقت پر وصول کرنا اور مقررہ رقم حاصل کرنا ایک طویل اور مشکل عمل ہے، ہمیں جلدی رقم چاہئے۔حکومت کی خواہش ہے کہ معیشت کا تیس فیصد حصہ کالا دھن قانونی شکل میں معیشت کا حصہ بنے۔ دنیا خواہشوں پر نہیں چلتی۔ کالے دھن والے اس پرانے طریقے سے زیادہ کما رہے ہیں اور بہتر پوزیشن میں ہیں، تو قانونی معیشت کا حصہ کیوں بنیں؟ دو صورتوں میں وہ قانونی معیشت کا حصہ بن سکتے ہیں، اول یہ کہ ان کی راہیں ہر حال میں مسدود کردی جائیں۔جو کہ پاکستان جیسے ملک میں فی الحال ممکن نہیں لگتا۔ یا پھر ان کو معیشت اور فیصلہ سازی، قانون سازی میں شراکت کرائی جائے۔ ان دونوں صورتوں میں وسائل اور فیصلہ سازی دونوں کی از سرنو تقسیم ہوگی۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کو مجبور کردیا ہے کہ ملک کے مالی وسائل کی از سرنو تقسیم ہوگی۔وہ چاہتا ہے کہ اخراجات کم کئے جائیں، یعنی اخراجات کی ترجیحات کا از سرنو تعین ہو۔ یہ تقسیم شعبوں اور ادروں کے حوالے سے بھی ہوگی اور علاقوں اور صوبوں کے حوالے سے بھی۔ کس کے حصے میں سے اخراجات کم کئے جائیں؟ عالمی مالیاتی ادارہ تو یہاں تک کہتا ہے کہ بھلے ترقیاتی اخراجات کم کرنے پڑیں اس کو اپنا قرضہ چاہئے۔غیر ترقیاتی اور غیر پیداواری اخراجات کم کئے جائیں یہ کوئی نیا فارمولا نہیں۔ لیکن راکٹ سائنس یہ ہے کہ کس کے حصے سے پیسے کم ہوں۔ اس پر پہلے ہی ملک کے حکمران طبقات میں کشیدگی موجود ہے۔ فی الحال جو فارمولا میچوئر ہو رہا ہے وہ یہ کہ صوبوں کا حصہ کم کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چھ ماہ سے این ایف سی ایوارڈ کو تبدیل کرنے اور اٹھارویں ترمیم میں ردوبدل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، اس کے خلاف بھی اظہار خیال کیا جارہا ہے۔ اس موضوع پر سب سے مضبوط آواز پیپلزپارٹی کی اور صوبوں میں سے سندھ کی ہے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت اس پر سخت موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت نے نئے مالی سال کا جو بجیٹ تیار کیا ہے اس میں وفاق سے ملنے والی رقم کے حصے میں زیادہ پیسوں کا تخمینہ لگایا ہے۔تجویز کردہ بجٹ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ سندھ نے وفاق سے مجموعی طور پر 760 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ رواں سال کے لئے یہ تخمینہ 680 ارب روپے تھا۔ جس میں سے مارچ تک سندھ کو 123 ارب روپے کم وصول ہوئے تھے۔دوسرے صوبوں کی رائے کا اظہار ان کے تجویز کردہ بجٹ میں آئے گا ۔ وزیراعظم بھی اٹھارویں ترمیم پر کہہ چکے ہین اس کے نتیجے میں وفاق کنگلا ہو گیا ہے۔وزیراعظم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ صوبوں کو فاٹا کے لئے اپنے حصے میں سے تین فیصد دینا پڑے گا ۔ ایک طرح سے انہوں نے حتمی رائے کا اظہار کیا ہے۔لہٰذا آئی ایم ایف کے ساتھ نئے معاہدے سے ملک میں ایک نئی کشیدگی جنم لینے والی ہے۔ جو وفاق اور صوبوںکے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے درمیان بھی ہوگی، کیونکہ کوئی بھی اپنا حصہ کم کرنا نہیں چاہتا۔


ای پیپر