آئی ایم ایف کی را م کہا نی
16 May 2019 2019-05-16

تو لیجئے صا حب آ خر کا ر حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے نمائندوں کے درمیان کئی روز کے مذاکرات کے بعد قرض کا وہ معاہدہ طے پاگیا ہے جسے حکومت کے عہدیدار ملکی معیشت پر عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کرنے کا باعث قرار دے رہے ہیں جبکہ ملک کی متوسط اور کم آمدنی والی آبادی اس قرض کے ساتھ جڑی شرائط کے اثرات کے بارے سن کر افسردہ ہے۔ بجلی، گیس اور تیل کے نرخوں میں اضافے کا عندیہ دیا جاچکا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات بذات خود مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہوتے ہیں، مگر آنے والے دنوں میں ہمیں سہ جہتی مہنگائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یعنی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے آنے والی مہنگائی کے علاوہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافے اور روپے کی شرح مبادلہ میں کمی کے اثرات سے جو مہنگائی آئے گی وہ اس کے علاوہ ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت نے آنے والے اس طوفان کا سامنا کرنے کے لیے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا ہے۔ اس سے قبل حکومتیں زرِ اعانت کے ذریعے عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کا انتظام کیا کرتی تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کس قدر مؤثر بندوبست تھا، مگر آنے والے دنوں میں عوام کے لیے یہ بھی دستیاب نہیں ہوگا۔ چنانچہ اب دھکا جس شدت کا بھی ہوگا، نحیف جانیں اس کا براہِ راست سامنا کریں گی۔ اس قرض معاہدے کے حوالے سے دستیاب معلومات سے ملکی معیشت کے مستقبل کا جو خاکہ بنتا ہے اس میں صرف متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات نہیں بلکہ صنعت و پیداوار بھی بحران سے دوچار ہوگی اور اس کی بھی متعدد وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ لوگوں کی آمدنی اور اخراجات میں جو شدید تفاوت پید اہوگا اور قوتِ خرید جو پہلے ہی محدود سی ہے، اس میں مزید کمی آئے گی تو مصنوعات کی کھپت میں بھی کمی آئے گی۔ علاوہ ازیں مہنگی بجلی، کمزور روپیہ اور قرضوں پر شرح سود میں مزید اضافے کی وجہ سے پیداوار کی زیادہ لاگت کھپت کو مزید کم کرنے کا باعث بنے گی۔ صنعت و پیداوار کی یہ بحرانی کیفیت بیروزگاری میں اضافہ کرے گی اور بے روزگاری میں اضافہ سماج میں مزید غربت کی صورت میں سامنے آئے گا۔ چنانچہ یوں سمجھا جائے کہ ہماری موجودہ حکومت نے معیشت کے شعبے میں اب تک کا جو سب سے بڑا تیر مارا ہے، آنے والے وقت میں تادیر اس کی تکلیف محسوس کی جائے گی۔ ہماری آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، انہیں روزگار کے مواقع چاہئیں۔ ماہرین معیشت کا ماننا ہے کہ اتنی بڑی نوجوان اور اور کام کرنے کی اہل آبادی کو کھپانے کے لیے معیشت کی شرح نمو سالانہ سات سے آٹھ فیصد ہونی چاہیے۔ ہم پہلے بمشکل پانچ فیصد تک پہنچے تھے اور اس کے بعد ترقیٔ معکوس کا سفر شروع ہوگیا۔ اس سال بمشکل ساڑھے تین فیصد تک پہنچنے کے امکان نظر آتا ہے، اس سے آگے اس سے بھی کم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس صورتحال کو ملکی معیشت کے لیے المیہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس سے بڑا المیہ یہ کہ ہمارے پاس اس بحران سے نکلنے کا کوئی تسلی بخش منصوبہ بھی نہیں۔ ہمارا عام شہری کم وسائل والا ہے، مگر نئے ٹیکسوں کا اور اشیائے صرف کے مہنگا ہونے کا اثر سب پر پڑے گا۔ کوئی بھی مہنگائی کے مہلک اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔ جب آپ کے ماحول میں ہر چیز کی قیمت بڑھ جائے تو کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مہنگائی کی جو سیاہ رات چھا جانے والی ہے اس سے ہر پاکستانی متاثر ہوگا حتیٰ کہ وہ بھی جو بیرونِ ملک محنت کرتے اور گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ تیل، بجلی اور ڈالر مہنگا ہونے سے زرعی پیداوار اور لاگت پر بھی نہایت برا اثر پڑے گا کیونکہ کاشتکاری کے لیے استعمال ہونے والی مشینری، کھاد، دوائیں، بیج، آب پاشی کے وسائل الغرض ہر چیز کی لاگت بڑھ جائے گی جبکہ قرضوں پر شرح سود میں اضافے کے اثرات زرعی قرضوں پر بھی پڑیں گے۔ اب تھوک میں قیمتیں بڑھیں گی تو لازمی ہے کہ پرچون قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ چنانچہ یہ آسانی سے ثابت ہوتا ہے کہ غریب ہو یا امیر آنے والے دنوں میں ہر ایک کے لیے زندگی کا رشتہ برقرار رکھنا پہلے کی نسبت خاصا مہنگا ہوجائے گا۔ امیر کو اپنا معیار زندگی پہلی سطح پر رکھنے کے لیے 30,20 یا شاید 50 فیصد زیادہ خرچ کرنا پڑے۔ جس کے پاس اس کی گنجائش ہوگی اور جس حد تک ہوگی وہ تو زیادہ خرچ کرلے گا مگر غریب کے پاس گنجائش کہاں ہے؟ وہ یہ خلا کیونکر پُر کرسکے گاَ خوراک، بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور روز مرہ زندگی کے دیگر اخراجات کی کیا صورت ہوگی؟ لازمی ہے کہ کم آمدنی والا طبقہ اپنی کئی مدات سے پس انداز کرنے پر مجبور ہوگا۔ یہی وہ طبقہ ہے جو تعداد میں زیادہ اور ووٹ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہی طبقہ عمران خان کا سب سے بڑا مداح بھی تھا، اب یہی حکومت سے سب سے زیادہ شاکی ہے۔ قرض مل جانے پر جو اطمینان کا سانس لے رہے ہیں، یا وہ ہیں جو کچھ بھی پیدا کرتے ہیں یا فروخت کرتے ہیں، اشیا ہوں یا خدمات، ان کی قیمت بڑھا سکتے ہیں۔ مگر ان کی تعداد ہمارے ہاں دس لاکھ سے کہیں کم ہوگی۔ باقی 20 کروڑ سے زیادہ وہ ہیں جو اس وقت بھی سانس بمشکل لے رہے ہیں اور آئندہ ان کے لیے اور بھی مشکل ہوجائے گا۔ سابقہ حکومتوں کے جرائم اپنی جگہ، مگر موجودہ حالات کی سختیوں کو دیکھ کرعام شہری گزرے وقتوں کو یاد کرنے لگے ہیں۔

ز یا دہ دکھ اس وقت ہو تا ہے جب وز یرِا عظم عمر ان خان ان تما م تر برے حا لا ت کا ذمہ وا ر پچھلی حکو متو ں کو ٹھہرا کر ہمیشہ تہی دا من ر ہنے کی کو ششو ں میں جٹے رہتے ہیں۔ یا وہ مر غیا ں اور بکر یا ں پالنے کو پا کستا ن کے معاشی مسا ئل کا حل بتا تے نظر آ تے ہیں۔حکو مت میں آ نے سے پہلے انہو ں نے پہلے سو دنو ں یا کہہ لیجیے کہ تین ما ہ میں عوا م النا س کو برے حا لا ت کی دلدل سے نکا لنے کا وعد ہ کیا تھا۔چو نکہ وہ ا یک رو ا ئتی سیا ستدا ن نہ تھے ، لہذا عوام نے ان کے بیان پہ یقین کر نے میں چند ا ں دیر نہ کی ۔مگر وہی عوا م آ ج کل ایک دوسرے سے پچا س لا کھ مکا نو ں اور دو کر وڑ نو کر یو ں کا پو چھ رہے ہیں۔ جوا ب میں انہیں آ ئی ایم ایف سے قر ض لینے میں کا میا ب ہو جا نے کی را م کہانی سنا دی جا تی ہے۔ایک سا دہ سا سوا ل یہ اٹھتا ہے کہ مو جو د ہ حکو مت کویو ں نا کا م ہو تے دیکھ کر آ خر عوا م کسی نہ کسی جا نب تو دیکھیں گے۔مگر وا ئے قسمت کہ تب انہیں نوا زشر یف اور آ صف زر دا ری کے علا وہ کچھ اور نظر نہیں آ ئے گا۔


ای پیپر