آئی ایم ایف معاہدہ ، ایمنسٹی سکیم ، حکومت کے بہترین یوٹرن!
16 May 2019 2019-05-16

مشہور محاورہ ہے ’’پہلے تولو پھر بولو‘‘ انسانی طبیعت میں معلوم نہیں جلدبازی کا عنصر کیوں پنہاں ہے ؟ آج کا انسان الفاظ کی نوعیت ، ہیت اور ساخت کو جانے بغیر جب صرف بولنے کو ترجیح دیتا ہے تو جلدیا بدیر اسے ان الفاظ کی قیمت بھی چکانا پڑتی ہے ۔ اسے بِناء تولے بولے گئے الفاظ پر پشیمانی کا سامنا بھی کرنا پڑتاہے۔ موجودہ دور میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیاپرایسے الفاظ آپ کی ٹرولنگ کا باعث بھی بن جاتے ہیں جو کبھی آپ کے منہ سے ارادی یا غیر ارادی طور پر نکلے ہوں۔ سچ یہ ہے کہ جتنے اونچے منصب پر آپ فائز ہوتے ہیںاس منصب کی توقیر کا خیال رکھے بغیر جب آپ پوائنٹ سکورنگ کے چکر میں پڑتے ہیں تو یہی الفاظ وقت آنے پرآپ پر صادق آنے لگتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے اگر بولنے سے پہلے الفاظ کو تول لیا جائے تو مستقبل میں آپ ان کے نتائج سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں۔ صرف ایک برس قبل کی تو بات ہے جب مسلم لیگ ن کی حکومت کالے دھن کو سفید کرنے کی سکیم لائی تھی تو موجودہ وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ حکومتی فیصلے کیخلاف عدالت جائیں گے۔ اسی جماعت کے رہنماؤں جن میں شفقت محمود، شیریں مزاری اوراسد عمر شامل تھے انہوں نے ایک قرارد اد پر دستخط کیے تھے کہ انہیں حکومت کی طرف سے متعارف کروائی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کسی صورت منظور نہیں۔ اب آپ مکافات عمل کہیں یا اسے تحریک انصاف کا سیاسی نابالغ پن سمجھ لیجئے ایک برس بعد انہیں بھی وہی ٹیکس ایمنسٹی لانا پڑ گئی جس کی وہ مخالفت کررہے تھے ۔ اب یہاں دو سوالات پیدا ہوتے ہیںپہلا، کیا ایک سال قبل تحریک انصاف ملکی معیشت سے کلی طورپر نابلد تھی ، کیا اسے معلوم نہیں تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ٹیکس دہندگان کی تعداد بہت کم ہے وہاں ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلیے ایسی سکیمیں لانا پڑتی ہیں؟دوسرا، کیا تحریک انصاف کوخود اس بات کا یقین نہیں تھا کہ آئندہ حکومت اس کی ہوگی ، کیا تحریک انصاف کے پاس ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے متبادل کوئی سکیم موجود تھی ؟ اگر تحریک انصاف متبادل ذرائع کو اپناتے ہوئے معیشت کی بحالی کیلئے کوششیں کرتی تو کی حکومت پر اس کے اعتراضات کی آسانی سے سمجھ آسکتی تھی لیکن جب موجودہ حکومت بھی گزشتہ حکومت کے طورطریقے اپنا کر معیشت بحال کرتی نظر آئے گی پھر اعتراض تو ہوگا ۔ آپ کل غلط تھے یا آج اس کا فیصلہ بھی تحریک انصاف کے رہنماؤں کو خود کرلینا چاہیے کوئی اور یہ باتیں یاد کروائے گاتواس پر قدغن لگائی جاسکتی ہے ۔ ہمارا کپتان تو آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خودکشی کرنے کو ترجیح دینے کی باتیں کرتا تھا پھر کیوں آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا ؟ یہ موجودہ حکومت کے قول و فعل کا تضاد ہی تو ہے کل جواپنے حریفوں کو نیچادکھانے کیلئے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے تھے آج ان ہی کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم کو ایک سال قبل وزرات عظمیٰ کے تقاضوں کی سمجھ کیوں نہیں آرہی تھی؟لیڈر کی تو خوبی ہوتی ہے کہ وہ دوراندیش ہوتا ہے وہ اپنی عوام کو آنے والے خطرات سے آگاہ کرتا ہے مگرہمارے کپتان نے توصرف ووٹوں کی خاطراپنے نوجوانوں کو سبزباغ دکھائے۔کپتان نے تو مینار پاکستان پر کھڑے ہو کرکہا تھا کہ وہ ہمیشہ سچ بولے گا پھر کیوںاس نے گزشتہ حکومت کے اچھے کاموں کو عوام میں برا بنا کر پیش کیا۔ہمارا کپتان تو کل تک میٹروبس لاہور کا تخمینہ 70ارب روپے سے بھی زیادہ بتاتا رہا ۔ آج جب اس کی پارٹی کی حکومت ہے اسے تو ان 70ارب روپے کی تحقیقات کرنی چاہیے تھیں۔لیکن اسی حکومت میں اچانک یہ خبرکیسے سامنے آگئی کہ گجومتہ سے شاہدرہ تک چلنے والی بس اوراس کے 27کلومیٹر ٹریک کا خرچہ 30ارب روپے تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک منصوبے کو جسے آپ چیخ چیخ کر 70ارب کا بتاتے رہے وہ 30ارب روپے کا نکلے اور آپ سے سوال نہ ہو کہ بھئی آپ کل جھوٹ بولے رہے تھے یا آج ۔تحریک انصاف تو نئے پاکستان کی بنیاد رکھ رہی تھی پھر کیسے یہ پرانے پاکستان کی سیاست کرنا شروع ہوگئی ، کیا نئے پاکستان میں بھی سچ بولنے کی گنجائش نہیں ہے ؟ کاش تحریک انصاف کے پارٹی رہنماماضی میں بولے گئے الفاظ کو پہلے تول لیتے توآج ان پر یہ سوالات نہ اٹھ رہے ہوتے ۔

خیر وزیراعظم عمران خان میں ایک خوبی موجودہے وہ غلطی کرکے اس پر قائم رہنے کے بجائے تصیح ہونے پر فوراً یوٹرن لے لیتے ہیں ۔ معیشت کی بحالی کے معاملے میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیاہے ۔ گو کہ ماضی کے الفاظ ان کا پیچھا کرتے رہیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس جانے اور ٹیکس ایمنسٹی لانے کا انہوں نے درست فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس وقت آئی ایم ایف کے قرضے کے علاوہ ملکی معیشت کی بحا لی کے لیے 470ارب روپے فوری طورپر درکار ہیں ۔توقع ہے کہ نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ذریعے 250ارب روپے سے زائد مل جائیں گے ۔ماضی میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے جب ایسی ہی سکیم متعارف کروائی تھی تو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس آڑے آگئے انہوں نے کہا تھا کہ عدالت اس ایمنسٹی سکیم کو چیک کرے گی ، ان ریمارکس کے بعد ٹیکس نادہندگان نے اس سکیم میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔پھر جب ایمنسٹی سکیم کی مدت ختم ہونے میں دو ہفتے رہ گئے تو سابق چیف جسٹس نے کہا ان کا ایسی سکیمیوں سے کیا لینا دینا ۔یہی وجہ تھی کہ سابقہ دور حکومت میں متعارف کی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت 98 ارب روپے اکٹھے ہوئے۔تھے۔ جن میں 36 ارب روپے بیرون ملک جائیدادوں اور 61 ارب روپے ملک میں موجود بے نامی جائیدادوں کی مد میں اکٹھے کیے گئے تھے۔حالیہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم ماضی سے تھوڑی مختلف ہے اس سکیم سے عوامی وسرکاری عہدیدار مستفید نہیں ہوسکیں گے جبکہ سکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو ٹیکس فائلر بننا ہوگا۔اس سکیم کو بڑا سادہ اور آسان بنایا گیا اب بھی اگر کوئی اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھائے گا تو پھر نیب اپنا ڈنڈا اٹھائے گاکیونکہ ڈیڑھ لاکھ کے قریب اکاؤنٹس کی معلومات مل چکی ہیں ۔ توقع ہے حالیہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم تحریک انصاف کی پہلی اور ملک کی آخری سکیم ہوگی ۔آخر میں وزیراعظم صاحب نے جہاں ایک اچھا کام کیا ہے وہیں ایک حکم اپنے وزراء کے لیے بھی صادر کردیں کہ معاشی معاملات پر وہ بغیر سوچے سمجھے زبان درازیوں سے گریز کریںورنہ وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس سادہ سی سکیم کو فیل کرنے کیلئے کافی ہوں گے ۔


ای پیپر