’’اندرونی امن‘‘
16 May 2019 2019-05-16

ایک بزرگ اور ان کا مرید سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہے تھے۔ سردیوں کے دن تھے اور ہوا کے تھپیڑوںکے زور سے انتہائی اُونچی اور طاقتور موجیں جنم لے رہی تھیں۔

کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد بزرگ نے سمندر کی اُن موجوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا’’یہ متغیرّ ، طوفانی سمندر اور اُس کی یہ طاقتور بپھری ہوئی موجیں تمہیں کس چیز کی یاد دلاتی ہیں؟ ‘‘مرید نے جواب دیا’’اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے بے چین خیالات کی‘‘۔

’’بالکل ٹھیک کہا ‘‘ بزرگ بولے ’’ یہ متغیرّ سمندر ایک ذہن سے متشابہ ہے۔ جس کی موجیں بے چین کرنے والے خیالات ہیں۔ اصل میں ذہن ہر چیز سے بے تعلقّ ہے۔ سمندر کے اس پانی کی طرح ، نہ یہ اچھا ہے نہ برا ہے۔ موجیں تو دراصل ہوا کی وجہ سے ، اُس کے زور سے بن رہی ہیں۔ بالکل اُسی طرح جیسے خوف اور خواہشات بے چین کرنے والے خیالات پیدا کرتے ہیں۔ اکثر لوگوں کا ذہن ان خیالات سے بے چین رہتا ہے اور اُنہیں بے سکون کر دیتا ہے۔

’’تو پھر میں ان موجوں کو سکون کیسے دوں؟‘‘مُرید نے پوچھا ۔ ’’پانی کو اپنی گرفت میں لے کر سکون حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ ہوا کی طرح اپنے خیالات ، خواہشات اور خوف کو لگام دی جائے۔ یہ محنت طلب کام ہے۔ لیکن اس طرح انسان اپنے ذہن کے سمندر کی موجوں میں بے جا طغیانی پر قابو پا سکتا ہے۔‘‘

اندرونی امن ایک ایسی کیفیت یا حالت کو کہا جاتا ہے جس میں انسان ، ذہنی اور جسمانی طور پر امن یا چین محسوس کرے اور اُس میں اتنی ذہنی وسعت ہو کہ وہ مشکل حالات کا سامنا کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔

اندرونی امن پر چند مقولے کچھ یوں ہیں :

جب تک انسان دل کی نہ سنے اُسے ذہنی سکون نصیب نہیں ہوتا۔

غیر ضروری ’’باتوں ‘‘اور ’’چیزوں‘‘کو جانے دینا

اندرونی امن کا راستہ ہے۔

اندرونی امن تب شروع ہو تا ہے جب انسان کسی شخص یا واقعہ کو یہ اختیار نہیں دیتے کہ وہ آپ کے جذبات پر اثر انداز ہو۔

ایک صاحب نے اپنے ماہر نفسیات سے اندرونی امن (Inner Peace)حاصل کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔ ماہر نفسیات نے اُن صاحب کو مشورہ دیا کہ جو کچھ اُنہوں نے شروع کیا ہے اُسے ختم کرنے کی کوشش کریں تو اُنہیں اندرونی امن حاصل ہو سکتا ہے ۔ وہ صاحب اپنے گھر گئے تو اُنہیں یاد آیا کہ اُنہوں نے دو پائونڈ کا ایک چاکلیٹ کیک کھانا ’شروع ‘کیا تھا مگر ختم نہ کرسکے۔ بکرے کی دو بھنی ہوئی رانیں بھی ختم ہونے کی منتظر تھیں اور ڈیڑھ کلو کھیر بھی صرف شروع کی جا سکی تھی۔ تقریباً پونے دو گھنٹے کی سخت محنت کے بعد وہ صاحب اپنے تمام شروع کیے ہوئے یہ کام ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اُنہیں اندرونی امن نصیب ہوا یا نہیں یہ تو معلوم نہ ہو سکا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کے اہل خانہ ان کی اس کام ختم کرنے کی عادت کی وجہ سے کافی عرصے تک اشیائے خوردونوش کو ’ اندرونی امن ‘کی نظر ہوتے ہوئے دیکھتے رہے۔

جب ۱۹۴۳ء میں مشہور امریکی ماہر نفسیات ابراہیم ماسلو نے سیلف ایکچولائزیشن (Self-Actualization) یا امر واقع کا نظریہ پیش کیا تو اُس کی بنیاد اس بات پر تھی کہ انسان کی بہت سی ضروریات ہیں جن میں جذباتی ضروریات بھی ہیں۔ ان میں عزت نفس کے علاوہ امر واقع سب سے اُونچا مقام رکھتی ہے۔ امر واقع وہ نفسیاتی عمل ہے جس میں انسان اپنی صلاحیتوں اور میسر ذرائع وسائل کو بہترین طریقے سے بروئے کار لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہ عمل ہر شخص میں دوسرے شخص سے مختلف ہو سکتا ہے۔

اس بات سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ا نسان اپنے اندر کی صلاحیتوں کو تلاش کرے اور جو کام بھی کرے اُسے بہترین انداز سے کرنے کی کوشش کرے اور اس کوشش اور جدوجہد میں مصروف عمل رہے۔ شعراء کرام اپنے کلام کو تخلیق کر کے لوگوں کو محفوظ کرتے رہیں ۔ ماہر تعمیرات بلند و بالا عمارتیں کو بہتر سے بہتر بنانے کی جستجو میں کوشاں رہیں۔ دہقان فصلیں کو کاشت کر کے ان سے بہتر پیداوار کی تگ و دو میں لگے رہیں تو ماسلو کے مطابق یہ امر واقع کی جانب ایک قدم ہے ۔ ماسلو کا نظریہ معاشی طرز زندگی اور اس میں بہتری کی جستجو کو بنیاد بنا کر پیش کیا گیا ۔ اس نظریے کو پوری دنیا میں پذیرائی بھی ملی اور تنقید بھی ۔سوال یہ ہے کہ کیا معاشی کاوشیں اندرونی امن کے لیے کافی ہیں ؟ یہ شاید ممکن نہیں۔ ریسرچ سے ثابت ہے کہ دنیا میں بہت سے کامیاب ، امیرترین لوگ بھی ڈیپریشن ، ذہنی تنائو، ہائی بلڈ پریشر اور کئی مختلف ذہنی اور جسمانی بیماریوں اور پریشانیوں کا شکار ہوئے ۔ کیا اندرونی امن صرف بیرونی عوامل پر منحصر ہو سکتا ہے ؟ شاید یہ بھی ممکن نہیں ۔

یقینا بیرونی عوامل انسانی اختیار میں نہیں اور ایک خاص حد تک انسانی زندگی اور ذہن پر اثر انداز ضرور ہو سکتے ہیں۔ لیکن اصل معاملہ تو یہ ہے انسان اپنے ’من ‘میں اپنے ’اندر ‘کیا محسوس کر رہا ہے۔

چین ، امن ، سکون یا بے چینی ، اضطراب ، بے سکونی؟

کیا اندرونی امن ان تمام اعمال ، ان تمام کا موں کا نچوڑ نہیں جو ہم سر انجام دیتے ہیں؟

قرآن پاک میں بھی واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے سے دلوں کو سکون ملتا ہے ۔ اسی طرح لوگوں کے ساتھ اچھائی کر کے بھی دلی خوشی نصیب ہوتی ہے۔

رات کو سوتے وقت جب دل سے آواز آتی ہے اور ایک خود احتسابی کا عمل شروع ہوتا ہے تو یہ چیز واضح ہو جاتی ہے کہ اندرونی امن دراصل اپنی زندگی کے تمام معاملات میں ہی بہتری لانے کی جہد مسلسل ہے۔ ان تمام اعمال کا مجموعہ جو انسان کو مسلسل سچیّ خوشی دے ، صرف وقتی سکون نہیں۔

جنگل جنگل پھرے فرید اور کانٹوں کانٹوں جائے

اپنے من میں جھانکے نہ تُوجنگل میں کیا پائے


ای پیپر