’’فالس۔۔اے‘‘
16 مئی 2019 2019-05-16

دوستو، فالسے دنیا کا واحد پھل ہے جس کا نام ہی ہمیں انگریزی اور اردو کا مرکب لگتا ہے۔۔ جب کوئی ہمارے سامنے ’’فالسے‘‘ کا ذکر کرتا ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ کہہ رہا ہو، فالس ۔۔ اے ۔۔ یعنی جھوٹ ہے۔۔ لیکن یہ بات قطعی جھوٹ نہیں ہے کہ فالسے کا سیزن آگیا ہے۔۔ مگر آم ابھی تک نہیں آیا، حالانکہ رمضان المبارک میں عام سے لے کر خواص تک سب آم کے منتظر ہوتے ہیں۔۔آم کو پھلوں کا بادشاہ بھی کہاجاتا ہے لیکن آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ سبزیوں کا بادشاہ کسے کہاجاتا ہے۔۔ کدو(کاشی پھل) کا جو قد کاٹھ ہے ہمارے حساب سے تو اسے ہی سبزیوں کا بادشاہ ہونا چاہیئے کیوں کہ اس پھل کے اپنے اندر ایک رعب و دبدبہ ہے۔۔ لیکن ہمارے پیارے دوست کا دعوی ہے کہ ۔۔سبزیوں کا بادشاہ بینگن ہے، جب اس کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگے۔۔ بینگن کو غور سے دیکھو، اس کے سر پر تاج ہوتا ہے۔۔ہم نے ان کی یہ دلیل ماننے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس طرح کا تاج تو بھنڈی کے سرپر بھی ہوتا ہے۔۔ تو وہ آگے سے کہنے لگے۔۔ بھنڈی کوتو لیڈی فنگر کہاجاتا ہے، اب بھلا بتائیے کیا لیڈی بادشاہ ہوسکتی ہے؟؟ اپنے پیارے دوست کی اس دلیل کے سامنے واقعی ہم لاجواب ہوگئے۔۔ بات ہورہی تھی آم کی۔۔ ایک حکومت مخالف ہمارے دوست نے فتوی دیا کہ رمضان شروع ہوچکے، پہلا عشرہ بھی ختم ہونے کو ہے لیکن آم مارکیٹ میں نہیں آئے، حکومت کی ناکامی کی اس سے بڑی دلیل کیا ہوگی۔۔؟؟

لیجنڈ مزاح نگار مشتاق یوسفی صاحب فرماتے ہیں کہ ۔۔عمر بھی ضمیر اور جوتے کی مانند ہے، جن کی موجودگی کااحساس اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ تکلیف نہ دینے لگیں۔۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ۔۔ستو اور فالودے کو خالصتاً لغوی معنوں میں آپ نہ کھا سکتے ہیں اور نہ پی سکتے ہیں۔ بلکہ اگر دنیا میں کوئی ایسی شئے ہے جسے آپ با محاورہ اردو میں بیک وقت کھا اور پی سکتے ہیں تو یہی ستو اور فالودہ ہے جو ٹھوس غذا اور ٹھنڈے شربت کے درمیان نا قابلِ بیان سمجھوتہ ہے۔۔مشتاق یوسفی صاحب کی دلیل ہم تسلیم کرتے ہیں۔۔ بات وہی ہے کہ جو موقع پر چوکا مارے۔۔لوز گیند پر گیند کو باؤنڈری لائن کے باہر پہنچادی تو آپ کو کامیاب بلے باز سمجھا جائے گا۔۔ کہتے ہیں کہ ایک نشئی افطاری کے وقت سگریٹ پی رہا تھا، اس کے سب گھر والے افطاری کیلئے تیار ہو رہے تھے اور کچھ نماز کی تیاری میں مصروف تھے۔۔نشئی کے بچے بھی جلدی سے وضو کرنے میں مصروف تھے تاکہ مسجد بروقت پہنچ سکیں۔۔بچوں کا دادا چارپائی پہ ٹیک لگا کے اپنی آنکھوں سے یہ سب ماجرا دیکھ رہا تھا۔۔دادا اپنے نشئی بیٹے کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا۔۔نالائق! تجھے شرم تو نہیں آرہی، بچے نماز کے لئے مسجد جا رہے ہیں اور تو سگریٹ کے کش لگا رہا ہے؟؟نشئی باپ کی طرف دیکھتا ہے اور کہتا ہے۔۔دیکھا!! میری کی ہوئی تربیت اور اپنی کی ہوئی تربیت میں فرق۔۔؟؟

اب آپ ایک سچا واقعہ سنیں، جو گزشتہ روز بعدنمازتراویح ہمیں باباجی نے ’’لائیو‘‘ سنایاتھا، یعنی بالمشافہ گفتگو کے دوران۔۔ باباجی ہمیں قصہ سنانے لگے کہ۔۔اک بندے نے انگلینڈ میں ایک دکان سے دوہزار پاؤنڈ کا ایک کوٹ خریدا اس نے ادائیگی چیک کی شکل میں کی،کوٹ لے کر وہ سامنے والی دکان میں گیا اور دکاندار سے کہا۔۔ یہ کوٹ میں دوسو پاؤنڈ کا بیچتا ہوں اگر خریدنا ہے تو سودا کرو ،دکاندار نے کوٹ دیکھا قیمت دیکھی اور سوچا کوٹ بالکل نیا ہے، ہے بھی دوہزار کا پھر یہ دوسو کا کیوں بیچ رہا ہے؟ دوسرے دکاندار نے پہلے دکاندار جس سے اس آدمی نے کوٹ خریدا تھا کو فون کرکے پوچھا جس بندے نے ابھی ابھی آپ سے دوہزار پاؤنڈ کا کوٹ خریدا ہے اس نے ادائیگی کس چیز سے کی ہے؟ دکاندار نے کہا چیک کے ذریعے، دوسرے دکاندار نے کہا مجھے وہ چیک جعلی لگ رہا ہے کیونکہ وہ بندہ وہی کوٹ مجھے دوسو پاؤنڈ کا بیچ رہا ہے،پہلے دکاندار نے پولیس کو فون کیا اور اس بندے کو گرفتار کرایا کیس جب عدالت میں گیا تو عدالت والوں نے بینک فون کرکے پوچھا یہ چیک اصلی ہے؟؟ بینک والوں نے کہا بالکل اصلی ہے ،عدالت نے پوچھا اس بندے کے اکاؤنٹ میں بیلنس ہے بینک نے کہا جی ہے، عدالت نے کہا آپ اس چیک کو کیش کرینگے بینک نے کہا کیوں نہیں کرینگے ، اس بندہ کی ضمانت ہوئی اور وہ عدالت سے نکل کر فورا پولیس اسٹیشن گیا اس نے تین آدمیوں پر ایف آئی کار کٹوائی، دونوں دکاندار اور پولیس آفیسر پر، تینوں کو گرفتار کیا گیا،جب کیس عدالت گیا تو اس بندے نے عدالت سے کہا ان تینوں نے میری ہتک عزت کی ہے اور میرے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے لہذا مجھے ان سے ایک لاکھ پاؤنڈ بطور جرمانہ دلوائے جائیں،کیس کی شنوائی سنوائی ہوئی، فیصلہ اس بندے کے حق میں ہوا اور اس بندے کو تینوں سے ایک لاکھ پاؤنڈ دلوائے گئے ۔۔باباجی نے یہاں تک واقعہ سنایا پھر سانس لینے کو رکے۔۔ جیب سے سگریٹ کی ڈبیا نکالی، اس میں سے ایک سگریٹ نکالی، اسے دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پر الٹا کرکے دو،تین بار مارا، پھر اپنے سیاہ لبوں میں سگریٹ کو پھنساکرجیب میں ماچس تلاش کی، ایک تیلی سلگائی اور ہاتھوں کاحصار بناکرسگریٹ جلائی۔۔ لمبا کش لیا اور ہماری طرف ٹیڑھی نظروں سے دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔۔ پتہ ہے وہ بندہ کون تھا؟؟ ہم نے دائیں سے بائیں گردن ہلائی، باباجی چونکہ سمجھدار ہیں ہمارا اشارہ سمجھ گئے کہ ہم جواب سے لاعلم ہیں تو سگریٹ کا ایک اور بھرپور کش لگاکربولے۔۔ وہ بندہ پاکستانی تھا۔۔

چین کے ایک بزنس مین کا کہنا ہے میں نے بچوں کے چہرے میں خوشی کے آثار دیکھے اور کار کے اوپر چڑھ کر جمپ لگا لگا کر کھیلنے کی اجازت دے دی، اور بچے اتنے خوش تھے کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔حالانکہ نہ تو بچے میرے تھے نہ ہی گاڑی ۔۔کہاجاتا ہے کہ میراثیوں کا ایک لڑکا دوسری کلاس میں فیل ہو گیا۔۔ سرکاری اسکولوں میں یہ روایت تھی جو بچہ کلاس میں فیل ہو جاتا تو اسے اسی کلاس کا مانیٹر لگا دیتے تھے۔اب اس لڑکے نے گھر آ کے اپنے والد کو بڑا خوش ہو کے بتایا ۔۔۔ میاں جی میں دوجی کلاس چوں فیل ہو گیاں تے ماسٹر جی نے مینوں دوجی دا مانیٹر لا دتااے۔(میاں جی، دوسری کلاس میں فیل ہوگیا ہوں اور ماسٹر جی نے مجھے دوسری جماعت کا مانیٹر بنادیا ہے)۔۔آگے سے میاں جی نے جواب دیا۔۔ پْتر اک واری ہور فیل ہو جائیں تے اگلے سال کچی پکی دا ماسٹر لگ جاویں(بیٹا ایک بار پھر فیل ہوجانا تاکہ اگلے سال پہلی کلاس کا ماسٹر لگ سکے۔۔) واقعہ کی دُم: اسد عمر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین مقرر۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ کبھی کسی کو چھوٹا جان کر حقیر نہ سمجھو، فالسے بھی چھوٹے ہوتے ہیں لیکن دانت کھٹے کردیتے ہیں۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر