مودی بھی تو یہی چاہتا ہے
16 مئی 2019 2019-05-16

اس حوالے سے کہ اپنے پیارے وطن کی ناگفتہ بہ اندرونی وبیرونی صورت حال پہ اسرائیل، امریکہ کی بات پہ وقت ضائع کیا جائے، صرف بھارتی وزیراعظم مودی کی خواہشات حیوانی و نفسانی کی بات کریں، تو شاید اس کی دعائیں پوری ہوتی نظرآرہی ہیں کہ پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے ، روزمرہ اشیائے ہائے خوردونوش، عام تن و توش کو کجا، پہلوان پاکستان انعام بٹ کو حکومتی دو لاکھ بطور ہدیہ ونذرانہ بھی بے کار چلا گیا، شاید اس کی وجہ اس کی وطن کی طرح دگرگوں کیفیات ظاہری، باطنی ہوں مودی اس بات پہ بھی خوش ہوگا، کہ ”ہینگ لگی نہ پھٹکری“ اور روپیہ رکوع اور اقامے کی بجائے سجود میں چلا گیا، اور ایسا جذبہ ایمانی و مسلمانی کی وجہ سے نہیں، وطن کی جسمانی وایمانی کمزوری کے سبب ہوا، مودی اس بات پہ بھی بغلیں بجاتا ہوگا کہ پاکستانی وزیراعظم کا بیرون ملک ہم منصب نہیں، شہر کے ڈپٹی میئر استقبال کرتے ہیں، مودی شاید راتوں کو خوشی سے سوتا ہی نہیں ہوگا کہ پاکستانی وزیراعظم آئی ایم ایف کے پاس جانے کی سعی لاحاصل کی بناپر شاید واقعی خودکشی کرلے، مودی اس بات پہ بھی اتراتا پھرتا ہے ، کہ جنگ کیے بغیر ، اس کی ”درگادیوی “ کے سامنے ریاضت رنگ لائی ہے ، اور پہلی دفعہ مسلمان ملک میں رمضان المبارک میں شیطان کو نہ زنجیروں سے جکڑا گیا، اور نہ ہی پکڑا گیا، بلکہ قوم اپنا وقت ”بغدادی “ فکروعمل میں بتانے لگی ہے ، اور القادر یونیورسٹی بنانے پہ اپنی فکری سوچ کا بے دردی سے ضیاع کرنے پہ عمل پیرا ہونے لگی ہے ۔ جس کے بارے میں راقم کے پسندیدہ ترین، لکھاری ریاض احمد سید لکھتے ہیں کہ ایک معتبر نیوز ایجنسی نے فردوس عاشق اعوان کے حوالے سے خبردی ہے کہ سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی کا قیام جناب وزیراعظم اور ان کی اہلیہ محترمہ کی بصیرت اور فہم و فراست کا نتیجہ ہے ، بادی النظر میں ایک اچھے تعلیمی ادارے کا قیام بہت ہی احسن اقدام ، مگر قرائن بتارہے ہیں کہ مذکورہ جامعہ کے حوالے سے ضروری ہوم ورک نہیں کیا گیا، اور ادارے کے خدوخال کے بارے میں شکوک وشبہات موجود ہیں۔ میں راقم شاہ صاحب کو یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ جس منصب کے لیے بائیس سال، جدوجہد کی گئی، کیا اس کا ہوم ورک کیا گیا تھا؟

پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ روحانیت کو سپر سائنس بنائے گی، کیونکہ شرمندہ تعبیر ہوگا، اور پھر آپس میں ان دونوں کا کیا تال میل ؟ یہ کہنا بھی محل نظر ہے کہ صوفیائے کرام پر تحقیق کے لیے کوئی ادارہ نہیں، قومی سطح کے علاوہ ایسے ادارے ہربڑی درگاہ کے ساتھ منسلک ہیں۔ جناب روحانیت، اور جدید سائنسی تعلیم کو گڈ مڈ کرنے سے پہلے سرکاری جامعات کی حالت زار پہ توجہ دیجئے، جن کا بجٹ نصف ہوچکا، جس کی وجہ سے ان میں روحانیت تو کجا، البتہ فقیری ضرور ہی آجائے گی،اور حالت فقیری میں ان پر کیا بیتے گی، اندازہ چنداں دشوار نہیں، نجی شعبے کی سینکڑوں جامعات، اور ان کے نام نہاد کیمپس کا تو اللہ ہی حافظ ، جو پیسے لے کر جہالت تقسیم کررہے ہیں نئے آئیڈلز کی کھوج سے پہلے ملک بھر میں تعلیم کی ڈوبتی ناﺅ کو کنارے لگانے کے لیے کچھ تو کیجئے۔

قارئین کرام، روحانیت کے بارے میں ایک مستند سید زادے کے تبصرے کے بعد کسی پیر مونث، ومذکر کے خیالات ، کو خیالات آفرینی ، اور چشم بینی کیسے کہا جاسکتا ہے ؟ کیونکہ ایسے منصوبے کی عمل پیرائی کی صورت میں ، مسلمانوں کے ایمان و ایقان میں جو دراڑیں پڑیں گی، اور جو خلیج حائل ہو جائے گی، اس کو پاٹنا ناممکن ہوجائے گا، اگر میں اس کی تفصیل میں جانے کے لیے اپنے محسن دیرینہ بابا یحییٰ خان کے خیالات و تجربات سے استفادہ کروں تو زیادہ بہتر ہے ، کیونکہ بابا یحییٰ خان، گھر کے بھیدی ہیں اور اکثر بین الاقوامی سیاح ہونے کی وجہ سے اور خصوصاً بھارتی میلوں، ٹھیلوں میں شرکت کرنے وہ ہندوستان چلے جاتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ انسان کے دماغ، آنکھ، زبان اور اعصاب میں ایسی ایسی قوتیں، اور حیرت انگیزقسم کی طاقتیں پنہاں ہیں، کہ انسان انہیں بروئے کارلاکر محیرالعقول کارنامے انجام دے سکتا ہے ، کہ آپ اسے روحانی طاقت قرار دینے میں ذرہ برابر تامل نہیں کرتے، جبکہ ان کا تعلق اعصاب سے ہوتا ہے نہ کہ روحانیت اور افلاکیت سے .... میں نے آنکھ کی طاقت سے پنسل برابر لوہے کے موٹے کیل ٹیڑھے ہوتے دیکھے ہیں، خیال کی طاقت سے انسانی فیصلے تبدیل ہوتے دیکھے، زبان کی طاقت و تاثیر سے پتھروں کو موم کی مانند نرم ہوتے دیکھا دماغی اور ذہنی قوتوں سے بڑے کارنامہ ہائے انجام ہوتے دیکھے، اعصابی طاقتوں سے وہ کام ہوتے دیکھے، جو بظاہر انسانوں کے بس واختیار میں نہیں، مٹی، مٹی میں، مل جاتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا امر امر ہوجاتا ہے ، ہوا میں اڑنا ، پانی پہ چلنا، آگ میں کود جانا، ایک مقام سے دوسرے مقام میں پہنچ جانا ، دور بیٹھ کر مشاہدہ کرنا یا پیغام منتقل کردینا، کسی انسان جانور اور ارضی اشیاءکو اپنی خواہش کے مطابق ڈھال لینا، ان پر حکم لگا دینا، یہ سب کچھ انسانی عقلی ،شعوری، دماغی، اعصابی استعانتیں اور شعوری قوتیں ہیں، روحانیت کا ان میں کوئی دخل نہیں۔ ہمالیہ ، تبت کی ترائیوں میں، میں نے سادھو، سنت دیکھے، جو نقطہ انجماد سے بھی اتری ہوئی سردی، اور بارہ مہینے کی برف باری میں صرف تن پہ لنگوٹی میں ننگے پڑے رہتے ہیں، حالانکہ عام انسان ، اس حالت میں بیس منٹ بعد اکڑ کر فارغ ہو جاتا ہے ، مگر وہ بغیر کھائے پیئے، اہم ضروریات زندگی کے بغیر بھوکے ننگے ، پچاس پچاس سالوں سے پڑے ہوئے ہیں، نہ نزلہ نہ بخار یرقان، سردی نہ گرمی، انہیں نہ تو سانپ ڈستا ہے ، اور نہ کوئی شیر اور چیتا ہلاک کرتا ہے ۔

قارئین کرام، اس سے پہلے کہ میں روحانیت پہ کوئی مزید بات لکھتا، میں چاہتا ہوں کہ اپنی بات یہیں ختم کردوں، کیونکہ متذکرہ بالا واقعات، کافروں کے ساتھ رونما ہوتے ہیں .... مگر ان ناقابل یقین کرتوتوں ، کو کرامات نہیں کہا جاسکتا اس لیے یہ دیکھ کر کبھی کوئی مسلمان کافر نہیں ہوا.... البتہ کافر ضرور مسلمان ہو جاتے ہیں، مختصریہ کہ قارئین بلاول زرداری کا ٹویٹ پڑھ کر مجھے فکر لاحق ہوگئی، کہ عمران خان کا خیال رکھیے، کہیں وہ خودکشی ہی نہ کرلیں، بلاول پریشان نہ ہوں، کیونکہ علامہ اقبالؒفرماتے ہیں کہ :

جو ”فقیر“ ہوا تلخی دوراں کا گلہ مند

اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی

مودی چاہے انتخابات ہار جائے ، مگر میں یہ سمجھتا ہوں، کہ مودی جیت چکا ہے اور اس کا ” بیانیہ“ بھی ....مجھے فکر ہے ، تو محض اپنے ”نظریے“ اور نظریات بندگی کی کہ اللہ سبحان وتعالیٰ کو ریاست مدینہ کا نام لے کر کیا منہ دکھائیں گے ؟


ای پیپر