وزیراعظم عمران خان کی محبت میں !
16 مئی 2019 2019-05-16

پچھلے دنوں میں سیالکوٹ کے ایک ممتاز سماجی رہنما امتیاز الدین ڈار کے حوالے سے کالم لکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کوئی شخص جو دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کی خوبیوں کو یاد کرنا یا خود اُسے یاد کرنا اس بے حِس معاشرے کا اب چلن ہی نہیں، المیہ رہا ہے یا ہماری اخلاقیات اور انسانی قدریں اس حد تک گر گئی ہیں ہمیں اپنے بعض زندہ عزیزوں کے بارے میں بھی صحیح طرح معلوم نہیں ہوتا کہ وہ زندہ ہیں بھی یا نہیں؟۔پچھلے دنوں مجھے خود پر بڑاافسوس ہوا جب میری بیوی نے میرے ایک عزیز کے بارے میں فون پر مجھے یہ اطلاع دی ان کا انتقال ہوگیا ہے، میں یہ سُن کر بڑا حیران ہوا کیونکہ میں یہ سمجھ رہا تھا وہ کافی عرصے پہلے فوت ہوچکے ہیں، اس طرح چند ماہ پہلے بہت ہی خوبصورت دل دماغ والے انسان فرخ سہیل گوئندی نے ممتاز ترین لکھاری ڈاکٹر انورسجاد کی سالگرہ کے موقع پر ان کے ساتھ کچھ تصویریں کیک وغیرہ کاٹتے ہوئے اپنی فیس بک وال پر لگائیں تو میں نے اپنی معلومات یا انسانیت پر باقاعدہ ماتم کیا، اور خوشی بھی ہوئی کہ پاکستانی ادب کا یہ قیمتی سرمایہ ابھی زندہ ہے، اللہ انہیں صحت سلامتی عطا فرمائے، ایسے چند ہیرے ہی ہمارے پاس اب باقی رہ گئے ہیں، باقی سارا تو کچرا ہے جس سے معاشرے کی بُو میں باقاعدہ اضافہ ہوتا چلے جارہا ہے،.... ہمارے بڑے بڑے ہیروز اس دنیا سے چلے گئے۔ ان کی خوبیوں کو یاد کرنا تو دُور کی بات ہے ان کے بارے میں صحیح طرح معلومات بھی ہمیں نہیں ہیں، جیسے چند روز قبل ہمارے بے خبر وزیراعظم عمران خان نے حضرت قائد اعظم ؒکے بارے میں پورے وثوق سے یہ کہہ دیا ” اُن کا انتقال کینسر سے ہوا تھا“۔ ....شکر ہے اپنی ”پوری معلومات“ کے مطابق یا اپنے پورے ”یقین “ کے مطابق انہوں نے کہیں یہ نہیں کہہ دیا کہ حضرت قائداعظم جب کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہوئے تو اُن کا علاج شوکت خانم ہسپتال میں ہوا تھا “ .... تاریخ سے معمولی سی واقفیت رکھنے والے چھوٹے بچے کو بھی شاید معلوم ہوگا کہ قائداعظمؒکا انتقال ٹی بی سے ہوا تھا جو کینسر سے بالکل مختلف بیماری ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ اُس زمانے کی ایک بڑی بیماری ہوا کرتی تھی، یا یوں کہہ لیں یہ اُس دور کا ”کینسر“ ہی ہواکرتا تھا، کیونکہ اُن دنوں اس کا علاج آسان نہیں تھا، اب یہ بیماری عام ہوگئی ہے اور اس کا علاج بھی ممکن ہے، البتہ ہمارے حکمرانوں کی اس ”بیماری“ کا علاج ناممکن ہے کہ اپنے ہیروزکے بارے میں اُن کی معلومات انتہائی ناقص ہیں، بلکہ موجودہ حکمران اعظم کے بارے میں یہ بھی ثابت ہوتا جارہا ہے ان کی اپنے بارے میں معلومات بھی بڑی ناقص ہیں، کیونکہ وزیراعظم بننے سے پہلے وہ خود کو خود بخود ہی جن خوبیوں کا مالک قرار دیتے تھے ان کے وزیراعظم بننے کے بعد ہمیں پتہ چلا، بلکہ خود انہیں بھی شاید وزیراعظم بننے کے بعد ہی پتہ چلا ان میں بہت ہی کم ہیں، .... اب مختلف معاملات میں وہ ٹامک ٹوئیاں ماررہے ہیں (ٹوئیاں کو ٹوئیاں ہی پڑھا جائے) جِسے ہم جیسے اُن کے خیرخواہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ”وہ اپنی طرف سے کوششیں بہت کررہے ہیں“ .... اللہ کرے اُن کی کوششیں جلد رنگ لے آئیں ورنہ خود تو وہ جب باہر نکلتے ہیں اچھی خاصی سکیورٹی اُن کے ساتھ ہوتی ہے، ہم نے اُنہیں اقتدار کی منزل تک پہنچانے میں تھوڑا بہت جو کردار ادا کیا، اور اب جو لوگوں کے حالات ہیں ہمیں تو اپنی جان کے لالے پڑے رہتے ہیں کہ کہیں خان صاحب کی کرتوتوں کا بدلہ لوگ ہم ایسے اُن کے چاہنے والوں سے نہ لے لیں، .... جِس قسم کی ٹیم کا اُنہوں نے انتخاب کیا یا جس قسم کی ٹیم اُن پر مسلط کردی گئی اُس سے کم ازکم ہمیں تومیچ جیتنے کی پوزیشن میں وہ نظر نہیں آئے کوئی ”معجزہ“ ہو جائے تو الگ بات ہے۔ ہم دعاگو ہیں اللہ ان کے ان خوابوں کو تعبیر بخش دے جوانتخابات سے پہلے پاکستان کے کروڑوں عوام کو اُنہوں نے دیکھائے تھے۔ ہم نے گزشتہ بیس برسوں سے تبدیلی کے لیے اُن کے ساتھ مِل کر جدوجہد کی ، اُنہیں شاید اب یاد بھی نہیں ہوگا اُن کی زندگی کے مشکل ترین اِس سفر میں کون کون اُن کے ساتھ تھا ؟۔ کس نے کیا کیا اذیتیں برداشت کی تھیں؟ کیونکہ وہ خان صاحب کو ٹوٹ کر چاہتے تھے اور اِس کی واحد وجہ اُن کا یہ یقین تھا کہ خان صاحب اِس ملک کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں، اب جبکہ ہمارے خواب ٹوٹ پُھوٹ رہے ہیں، ہم پر کیا گزر

رہی ہے؟ ہم ہی جانتے ہیں، ہمیں ابتداءمیں جب کہا گیا ”فلاں فلاں اہم سرکاری عہدوں کے آپ حقدار ہیں “ ،ہم نے ہرعہدہ قبول کرنے سے معذرت کرلی، صرف اِس لیے کہ حق سچ کی بات کرسکیں، جو کوئی عہدہ قبول کرنے کے بعد کسی صورت میں کرنے کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے، کوئی عہدہ قبول نہ کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا ہر وہ بات جو میرے نزدیک ملکی یا عوامی مفاد میں ہوتی ہے محترم وزیراعظم کو اُن کے واٹس ایپ پر یہ سوچے سمجھے بغیرعرض کردیتا ہوں اُنہیں یہ بات بُری لگے گی یا اچھی.... ایک زمانے میں وہ چاپلوسی بالکل پسند نہیں کرتے تھے، خوشامد سے کوسوں دُور بھاگتے تھے، مگر جب کوئی سیاستدان حکمران بن جاتا ہے اُسے چاپلوسی یا خوشامد کی ضرورت شاید اِس لیے محسوس ہونے لگتی ہے کہ اُس کے کچھ اقدامات پر تنقید بڑھ جاتی ہے جس سے اُسے چاپلوسی اور خوشامد کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے، تاکہ اُس تنقید یا تکلیف کا کچھ ازالہ ہوسکے، .... ہم سے یہ گلہ کیا جاتا ہے ”آپ جب مجھ سے بات کرسکتے ہیں تو خلاف کیوں لکھتے ہیں ؟“.... لکھتے ہم اُس وقت ہیں جب بات کا کوئی اثرنہیں ہوتا، خان صاحب کو اقتدار میں آئے آٹھ ماہ گزر گئے، ان آٹھ مہینوں میں اپنی ذات کے لیے یا اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے ایک گزارش اُن سے نہیں کی ، جب اُنہوں نے کچھ پوچھا جو ذاتی طورپر اُن کے اور اس ملک کے بہترین مفاد میں سمجھا اُنہیں بتادیا، کیونکہ ہم اب بھی اُنہیں اپنا دوست اپنی اُمید ہی سمجھتے ہیں، یہ الگ بات ہے اُن کے کچھ غلط اقدامات پر انتہائی جائز تنقید سے ہمیں یہ خدشہ رہتا ہے روایتی حکمرانوں کی طرح وہ بھی اپنی محبت یا دوستی سے ہمیں خارج نہ کردیں، بلکہ ایسا وقت نہ آجائے ہم خود ہی اِس ”سعادت“ سے محروم ہونا اپنے لیے باعث اعزاز سمجھیں، .... عمران خان سے ملنے کے لیے دِل ہروقت بے چین رہتا تھا، وزیراعظم عمران خان سے ملنے کی کوئی تمنا نہیں سوائے اس کے یہ خواہش رہتی ہے اُن سے ملاقات ہو تو تفصیلاً عرض کریں ” ہم نے آپ کا ساتھ ستر برسوں سے اس ملک میں پھیلی ہوئی گندگی ختم کرنے کے لیے دیا تھا، اِس وجہ سے جو نقصان ہم نے اُٹھائے ، خصوصاً شریف برادران اور جنرل مشرف کے دور میں جواذیتیں برداشت کیں آپ کو بتانے کی اِس لیے ضرورت نہیں میرے خیال میں آپ کی یادداشت ابھی اتنی کمزورنہیں ہوئی۔(جاری ہے)


ای پیپر