بحران سے نکلیے

16 مئی 2018

عطاء الرحمن

میں پاکستان میڈیا کلب کے زیر اہتمام صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ ترکی کے دورے پر تھا۔۔۔ وہیں روزنامہ ڈان کی 12 مئی کی اشاعت میں میاں نواز شریف کا انٹرویو پڑھا۔۔۔ اسی وقت اندازہ ہو گیا تہلکہ مچا دے گا۔۔۔ بھارت اور پاکستان دونوں کے اندر۔۔۔ بات نئی تھی نہ بڑا انکشاف تھا۔۔۔ یہ باتیں بار بار دہرائی جا چکی ہیں۔۔۔ اور اپنے وقت پر ریاست پاکستان کے کچھ نہایت ذمہ دار افراد کی جانب سے کہی گئیں مگر کسی ایک کا مواخذہ نہ ہوا۔۔۔ زیر بحث انٹرویو میں ان کا اظہار چونکہ تین مرتبہ وزیراعظم اور تینوں مرتبہ مقتدر قوتوں کی ناراضی کی وجہ سے برطرف شدہ منتخب لیڈر کی جانب سے ہوا اور عین اس وقت ہوا جب ملک کے اندر سول ملٹری کشیدگی انتہاؤں کو چھو رہی ہے تو ردعمل شدید تھا۔۔۔ بھارت والوں نے اسے مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں دیر نہ لگائی اور اندرون پاکستان بالائی حلقوں سمیت ان تمام عناصر نے جو نواز شریف کے ساتھ سخت اختلافات رکھتے ہیں اسے سابق وزیراعظم کے خلاف استعمال کرنے میں کسر باقی نہ رہنے دی۔۔۔ یہاں تک کہ قومی سلامتی کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس طلب کرکے انٹرویو کے متنازع حصے کو حقائق کے خلاف قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا گیا۔۔۔ جواب آں غزل کے طور پر نواز شریف بھی خم ٹھونک کر سامنے آ گئے۔۔۔ کہا کمیشن بنا لیا جائے۔۔۔ مجھے اور میری مخالفت کرنے والے عناصر کو طلب کر کے طے کر لیا جائے کہ سچ کیا ہے کون غدار ہے کون نہیں۔۔۔ میں جھوٹا ثابت ہو جاؤں تو پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔۔۔ نواز شریف کئی دنوں سے برملا کہہ رہے تھے ان کا مقابلہ عمران خان یا زرداری صاحب کے ساتھ نہیں خلائی مخلوق کے ساتھ ہے۔۔۔ ہر کوئی سمجھ گیا اس سے کیا مراد ہے۔۔۔ مقتدر حلقوں میں بھی کھلبلی سی مچی ہوئی تھی۔۔۔ انٹرویو نے جلتی پر تیل کا کام دیا اور پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ایک عوامی سیاستدان اکھاڑے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے کے لیے اتر چکے ہیں۔۔۔ ایسا یقیناًنہیں ہونا چاہیے تھا کون کتنا ذمہ دار ہے۔۔۔ اس بحث سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں درست طریق کار یہی ہے کہ جنوبی افریقہ کی مثال کا اتباع کرتے ہوئے Truth and reconciliation commission قائم کر دیا جائے۔۔۔ جو تمام اطراف سے پیش کی جانے والی سچائیوں کا بھرپور طریقے سے جائزہ لے اور اس کے بعد اعلیٰ ترقومی سطح پر سمجھوتے کی راہ نکالے۔۔۔ فریقین کی جانب سے اس پر ڈٹ کر عمل کیا جائے۔۔۔ آخر نیلسن منڈیلا نے اسی صراط مستقیم پر چل کر اپنے ملک اور وہاں بسنے والی دو بڑی آبادیوں کو بالآخر کوئی ڈیڑھ صدی سے جاری بحران سے بچا لیا۔۔۔ جمہوریت کو مستحکم کیا۔۔۔ اس کے نتائج سے جنوبی افریقہ کی پوری آبادی ثمر بار ہو رہی ہے وہ لوگ ایک کامیاب قوم کہلانے کے مستحق قرار پائے ہیں۔۔۔ ورنہ کالی اکثریت اور صدی سے زائد عرصے سے حکمران گوری اقلیت کے درمیان تفریق اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نفرت اتنی شدید ہو چکی تھی اور نسل پرستی اس قدر عروج پر تھی کہ دنیا کے بڑے سے بڑے بقراط کو پائیدار حل نظر نہیں آتا تھا۔۔۔ کیونکہ گوری نسل والوں نے اقلیت میں ہونے کے باوجود عالمی طاقتوں کی حمایت سے اپنے اقتدار کے پنجے مضبوطی کے ساتھ گاڑ رکھے تھے۔۔۔ مگر نیلسن منڈیلا کی پامردی، فراست اور ناخن تدبیر نے مذکورہ بالا کمیشن قائم کر کے وہ کام کر ڈالا جس کی کم توقع تھی۔۔۔ اسی بنا پر وہ نوبل انعام کا مستحق قرار پایا۔۔۔ اور آج کی دنیا کا مسلمہ ہیرو ہے ۔۔۔ ورنہ جب گوری اقلیت نے اسے تقریباً 33 برس تک
قید میں رکھا ہوا تھا بار بار مطعون کیا جاتا تھا انسانیت دشمن اور غدار سمیت معلوم نہیں کون کون سے القابات دے ڈالے گئے۔۔۔ اسے دہشت گرد کا لبادہ بھی پہنایا گیا یہاں تک امریکہ کے زیر اثر کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے ضمیر کا قیدی قرار دینے سے انکار کر دیا۔۔۔ مگر اس ایک عوامی لیڈر اور اکثریتی آبادی کے مینڈیٹ کے حامل لیڈر کا وژن اور استقامت کام آئی۔۔۔ گوری اقلیت کے نسلی امتیاز کی بنیادوں پر مسلط کردہ راج کا خاتمہ ہوا۔۔۔ کالی اکثریت کے ساتھ خالصتاً جمہوری بنیادوں پر سمجھوتہ ہوا آج دونوں آبادیاں ایک ہی ملک کے اندر ہنسی خوشی رہ رہی ہیں
پاکستان میں بھی ایک دوسرے پر سخت ترین الزامات کی دھول اڑانے کی بجائے ایسا کمیشن قائم کر کے تنازع کی جڑ تک پہنچنے، وسیع تر اور قابل عمل سمجھوتے تک پہنچنے میں آخر کیا امر مانع ہے۔۔۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ افسوسناک محاذ آرائی جو تیزی کے ساتھ تصادم کی جانب بڑھ رہی ہے ختم ہو جائے گی۔۔۔ اندرونی استحکام نصیب ہو گا اور بیرونی دنیا میں ہمارا وقار بلند ہونا شروع ہو جائے گا۔۔۔ آپس میں لڑنا سیاستدانوں کو زیب دیتا ہے لیکن نوبت اگر یہاں تک پہنچ جائے کہ سیاسی و جمہوری قیادت اور عسکری قوتیں ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑی ہوں تو اس سے زیادہ خطرناک بات کوئی نہیں ہو سکتی۔۔۔ لازم ہے توجہات اس مہلک رجحان کے فوری مثبت اور دیر پا نتائج رکھنے والے حل کی جانب مبذول کی جائیں۔۔۔ جنوبی افریقہ کے مقابلے میں پاکستان کو در پیش مسئلہ اتنا پیچیدہ اور لا ینحل نہیں۔۔۔ آبادی کے اندر خدا کے فضل سے کسی بھی ملک سے زیادہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔۔۔ مذہب ایک، تایخ مشترک، جغرافیہ ایسا کہ ہر خطہ دوسرے کے ساتھ مربوط رسوم و روایات میں وسیع پیمانے پر اشتراک پایا جاتا ہے۔۔۔ ہمارا بنیادی مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ملک اور ریاست کا انتظام و انصرام چلانے کے لیے جو مشینری قائم ہے اس کا کوئی ایک پرزہ اپنی صحیح جگہ پر رہ کر کام نہیں کر رہا۔۔۔ فوجی قیادت کو آج نہیں لیاقت علی خان کے دور سے شکایت ہے کہ سیاستدان نازک ترین دفاعی امور پر اس کی آراء اور مشوروں کا اتباع نہیں کرتے۔۔۔ لہٰذا اسے قدم قدم پر مداخلت کا حق حاصل ہے۔۔۔ اپنے اس ’حق‘ کو استعمال کرتے کرتے وہ پورے ملکی امور میں دخیل ہو جاتی ہے۔۔۔ اور اسے ناگزیر سمجھتی ہے۔۔۔ دوسری جانب آئین دوست حلقوں کا شروع سے پختہ مؤقف چلا آ رہا ہے ملک آئینی اور جمہوری بنیادوں پر قائم ہوا تھا۔۔۔ پے در پے مارشل لاؤں یا غیر آئینی اداروں کے اقتدار کو دوام دینے کے لیے نہیں۔۔۔ آئین اور جمہوریت شدت کے ساتھ تقاضا کرتے ہیں ہر ریاستی ادارہ اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرے، منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا ہر ممکن موقع فراہم کیا جائے۔۔۔ جہاں تک دفاعی اور خارجہ امور اور سلامتی سے متعلقہ نازک مسائل کا تعلق ہے۔۔۔ فوجی قیادت کو اس باب میں ماہرانہ مشورہ دینے کا پورا حق حاصل ہے۔۔۔ لیکن آخری فیصلہ بہر صورت منتخب اور عوام کے مینڈیٹ کی حامل حکومت اور پارلیمنٹ کا ہو گا۔۔۔ فوج سمیت تمام اداروں کے لیے اس کا اتباع لازم ہے۔ اس اصولی مؤقف کے درست اور صائب ہونے سے انکار کی مجال نہ ہونے کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے خود سیاستدانوں نے جب بھی انہیں اقتدار ھاصل کرنے کا موقع ملا ہے آئین و جمہوریت کی حدود اور اپنی نازک ذمہ داریوں کا کم احساس کیا ہے۔۔۔ آئین آئین وہ اس وقت پکارتے ہیں اور جمہوریت کا سہارا ڈھونڈتے ہیں جب مقتدر حلقوں کی جانب سے مصیبت سر پر آن کھڑی ہوتی ہے۔۔۔ ان کا یہ طرز عمل کئی مسائل اور مشکلات کو جنم دیتا ہے۔۔۔ تیسری جانب عدلیہ ہے۔۔۔ جسے ہر حالت میں آئین کی سر بلندی، جمہوریت کے تسلسل اور انصاف کی حکمرانی جیسی اعلیٰ ترین قدروں کا محافظ ہونا چاہیے۔۔۔ اس نے اکثر و بیشتر اپنی حدود سے تجاوز کر کے اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا ہے۔۔۔ مارشل لاؤں کی توثیق کی ہے۔۔۔ مقتدر قوتوں کی جانب سے کیے جانے والے پس پردہ اقدامات کو تقویت پہنچائی ہے۔۔۔ یوں اعلیٰ عدالتوں کے جج اپنے فرائض منصبی سے عہدہ برآ نہیں ہو سکے۔۔۔ دوسرے الفاظ میں ریاست کے تمام ادارے اپنی حدود سے تجاوز کے مرتکب نظر آتے ہیں۔۔۔ سارے کا سارا الزام مدمقابل کے سر باندھتے ہیں۔۔۔ چنانچہ مشینری درست طریقے سے کام نہیں کرتی اس کا ہر پرزہ دوسرے پر چڑھائی کر دینے کے لیے بے تاب رہتا ہے۔ اسی سے وہ بحران جنم لیتا ہے جس نے ان دنوں بھی قوم و ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔۔۔ کیا بہتر نہ ہو گا کہ اعلیٰ سطحی اور تمام اداروں کا نمائندہ کمیشن قائم ہو۔۔۔ بانئ پاکستان قائداعظمؒ کے خیالات اور قوم کے متفق علیہ آئین کے فراہم کردہ خطوط کو سامنے رکھ کر تمام Stake Holders کی حدود ان پر واضح کر دی جائیں اور ان پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کو قومی شعار بنا لیا جائے۔۔۔ یوں بحران خاتمے کی راہ پر چل سکتا ہے اور ملک ہمارا حقیقی اور پائیدار کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن اس کی خاطر تمام اداروں کو اپنی جگہ کڑوا گھونٹ حلق کے نیچے اتارنا ہو گا اور ادارہ جاتی یا دوسری اناؤں کو قربان کرنا ہو گا ورنہ بحران در بحران ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دے گا۔۔۔ اس سے نکلنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔

مزیدخبریں