نواز شریف کا بیان اور مسلم لیگ (ن) کا مستقبل
16 May 2018 2018-05-16

نواز شریف کے انٹرویو میں ممبئی حملوں کے حوالے سے بیان پر شدید ردعمل نے انہیں اور مسلم لیگ ( ن ) کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی برائے کابینہ نے بھی ان کے بیان کو گمراہ کن اور غلط قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ نواز شریف کے اس بیان نے بلاشبہ مسلم لیگ ( ن ) کی حکومت کے لئے مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ حکومت اب محض دو ہفتوں کی مہمان ہے اور نگران حکومت کی آمد آمد ہے۔ سابق وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد اداروں کے درمیان تناؤ بھی بڑھے گا۔

جب سے نواز شریف کا یہ بیان سامنے آیا ہے اس وقت سے مسلم لیگ ( ن ) کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس بیان کے سیاسی مضمرات کو کم کرنے اور کشیدگی کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن تیر کمان سے نکل چکا۔ جو نقصان مسلم لیگ ( ن ) کو پہنچنا تھا وہ پہنچ چکا۔ نواز شریف کے بیان نے جو آگ بھڑکائی تھی وہ بھڑک چکی اب اس پر جتنا بھی پانی ڈالئے آگ اپنا کام کر چکی۔

نواز شریف کے بیان میں دو باتوں پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے ایک تو انہوں نے فرمایا کہ پاکستان میں نان سٹیٹ ایکٹرز یعنی مسلح جنگجو تنظیمیں سرگرم ہیں اور ہم انہیں کیسے سرحد پار کر کے 150 لوگوں کو مارنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ دوسرا انہوں نے فرمایا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث مشتبہ افراد کے خلاف ٹرائل مکمل نہیں کیا؟

مسلم لیگ ( ن ) اس بیان کا سارا ملبہ میڈیا پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ میاں شہباز شریف سے لے کر دیگر مسلم لیگی رہنما یہ دہائی دیتے پھر رہے ہیں کہ میڈیا نے نواز شریف کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ اور بھارتی میڈیا نے اسے غلط رنگ دیا۔ مسلم لیگ ( ن ) یا تو اس بیان کو اپنی پالیسی قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کرے یا اس سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کرے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ابھی تک یہ سیاسی اور تنظیمی روایت قائم نہیں ہو سکی کہ پارٹی قیادت اپنی کسی غلطی کو تسلیم کرے اور پھر اس غلطی پر معافی مانگ لے۔ یا پھر اپنے مؤقف پر واضح طور پر ڈٹ جائے اور اس کا دفاع کرے۔ ان حالات میں اس بیان کا اس کے علاوہ کوئی مقصد نظر نہیں آتا کہ ریاستی اداروں پر دباؤ بڑھایا جائے۔ انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ مصالحانہ رویہ اختیار کریں اور نواز شریف کو سیاسی راستہ دے دیں تا کہ وہ مقدمات اور اب تک کے فیصلوں کے منفی اثرات سے بچ سکیں۔

ان کا یہ بیان دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستانی اداروں نے ممبئی حملوں کو نہیں روکا اور ان حملوں میں پاکستانی مسلح جنگجو ملوث تھے۔ یہی الزام تو بھارت شروع سے پاکستان پر عائد کر رہا ہے اور پاکستان مسلسل اس بات سے انکار کرتا رہا ہے کہ یہ حملے اس کی سرزمین سے ہوئے یا پھر ان حملوں میں ریاستی یا غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا نے اس بیان کو اعترافی بیان کے طور پر لیا اور فوری طور پر واویلا شروع کر دیا۔

نواز شریف شاید یہ بھول گئے کہ وہ 4 سال اور

چند ماہ اس ملک کے وزیر اعظم رہے اگر انہیں اس حملے کے حوالے سے تحفظات تھے یا ان کے پاس ثبوت تھے کہ پاکستان کی کوئی مسلح جنگجو تنظیم اس حملے میں ملوث تھی تو انہیں انکوائری کرنی چاہئے تھی اور حقائق سامنے لانے چاہئیں تھے۔ یہ کام قومی اسمبلی کے فلور پر بھی کر سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ نواز شریف کوئی اخبار نویس ، کالم نگار یا معمولی سیاستدان نہیں ہیں کہ ان کے بیان کو یونہی نظر انداز کر دیا جائے گا۔ وہ تین بار اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے بیان کی کیا اہمیت اور دقعت ہے۔ ان کا یہ بیان بہت سوچ سمجھ کر اور واضح مقاصد اور اہداف کو سامنے رکھ کر دیا گیا ہے۔ اس بیان کا وقت بھی بہت اہم ہے ایک طرف تو سپریم کورٹ اصغر خان کیس کے فیصلے پر عملدر آمد کرنے پر زور دے رہی ہے اور دوسری طرف احتساب عدالت میں زیر سماعت مقدمات بھی تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات بھی سرد مہری بلکہ کشیدگی کا شکار نظر آتے ہیں۔ جبکہ عام انتخابات بھی محض اڑھائی ماہ کی دوری پر ہیں ۔ نواز شریف اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ پہلے وہ وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے پھر وہ تاحیات نااہل قرار پائے اور پارٹی صدارت بھی ہاتھ سے گئی۔ اب انہیں ممکنہ طور پر جیل نظر آ رہی ہے لہٰذا اس دباؤ کو کم کرنے کے لئے انہوں نے یہ بیان داغ دیا تا کہ مقتدر قوتوں کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ ان کے سینے میں دفن بہت سارے راز افشاء ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا انہیں دیوار سے نہ لگایا جائے اور ان کی سیاست کے لئے کوئی درمیان راستہ نکالا جائے۔ ان سے مصالحت کی جائے اور انہیں سیاسی کردار ادا کرنے دیا جائے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے 1999ء میں جامد ہو چکے ہیں۔ وہ معاہدہ لاہور اور واجپائی کے دورے کی حسین یادوں سے باہر آ کر آج کے حقائق کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی کوششوں کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے سبوتاژ کیا تھا۔ لہٰذا آج بھی بھارت کے ساتھ معاملات کو ٹھیک کرنے میں فوج رکاوٹ ہے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ مودی حکومت پاکستان سے بات چیت کرنے میں سنجیدہ ہی نہیں ہے۔ نواز شریف کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ دوستی کی بات کریں اور اس پر اپنا واضح مؤقف اختیار کریں مگر انہیں ذہنی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے اور اپنے ملک کے اداروں کے ساتھ مل کر اس حوالے سے لائحہ عمل اور حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے۔ پاک بھارت تعلقات دو ملکوں کے درمیان پیچیدہ تعلقات اور باہمی مسائل کا معاملہ ہے جسے محض دو لیڈروں کی دوستی کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ذاتی سطح پر یہ معاملات طے ہو سکتے ہیں۔ ان معاملات پر جب تک دونوں ریاستوں کے درمیان بامقصد مذاکرات نہیں ہوتے اس وقت تک پیش رفت ہونا ممکن نہیں۔میاں نواز شریف کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے جنرل مشرف آخری حد تک گئے تھے مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔

نواز شریف کے اس بیان کا خمیازہ مسلم لیگ ( ن ) کو سیاسی طور پر بھگتنا ہو گا۔ مسلم لیگ ( ن ) کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وہ کوئی انقلابی جماعت نہیں ہے بلکہ حکمران طبقے کی دائیں بازو کی روایتی سیاسی جماعت ہے جس میں زیادہ تر لوگ اپنے مفادات کے تحت موجود ہیں۔ مسلم لیگ ( ن ) کا اسٹیبلشمنٹ مخالف نہ توضمیر ہے اور نہ ہی مزاج ہے۔ ریاستی وسائل اور قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کی خواہش اور خود کو کروڑ پتی بنانے کی آرزو سینے میں لے کر اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست نہیں ہو سکتی۔ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کیا ہوتی ہے اس کا پیپلز پارٹی کے اس سیاسی کارکن سے پوچھیں جس کے جسم پر ابھی بھی زخموں کے نشان موجود ہیں یا پھر کسی ترقی پسند سیاسی کارکن سے پوچھئے جو تمام عمر عوامی حقوق اور جمہوریت کے لئے لڑتا رہا ہو۔

مسلم لیگ ( ن ) کو بحیثیت سیاسی جماعت ایک بیان نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی مل کر نہیں پہنچا سکیں۔ ہماری سیاسی قیادت نے ابھی تک غلطی تسلیم کرنا سیکھا ہی نہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے مان لیا کہ غلطی ہوئی تو اس سے ان کی عظمت، قائدانہ صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کی قوت کو گزند پہنچ سکتی ہے۔ ان کے نزدیک لیڈر وہی جو غلطی نہیں کرتا کیونکہ غلطی تو عام انسان کرتے ہیں، لیڈر نہیں۔


ای پیپر