پی ٹی آئی اور ریس کے گھوڑے

16 مئی 2018

چوہدری فرخ شہزاد

اقوام متحدہ کے سابق سیاہ فام سیکرٹری جنرل کوفی عنان 1997ء سے 2006ء تک اقوام متحدہ کے سربراہ تھے یہ واحد سیکرٹری جنرل تھے جنہوں نے امریکہ جیسے سپرپاور پر دباؤ ڈالا کہ وہ اقوام متحدہ کے واجبات ادا کرے دنیا بھر میں جمہوریت کے لیے ان کی خدمات کو شوکیس کا درجہ حاصل ہے۔ آج کل انہوں نے ایک عالمی تھنک ٹینک بنارکھا ہے جو دنیا بھر میں جمہوریت کے فروغ اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر چوٹی کے ماہرین کے ذریعے ریسرچ کرتا ہے۔ ان کی تنظیم کی ایک حالیہ ریسرچ جس کے کچھ مندرجات حال ہی میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے شائع کیے ہیں کافی دلچسپ اور فکرانگیز ہیں۔ ان کے مطابق Democratic Dysfunctionیا جمہوری طرز حکومت کی ناکامی کے اسباب کی بڑی وجہ Polarizationیادوانتہاؤں کا فروغ ہے جس میں اگر ایک فریق کسی مؤقف پر کوئی ایک سٹینڈ لیتا ہے تو دوسرے فریق کے لیے سوائے اس مؤقف کی مخالفت کے کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ اس ایسٹ ویسٹ پولرائزیشن کو جن غیرجمہوری قوتوں نے فروغ دیا ہے ان میں بازاری لیڈرشپ Illicit Electoral Financing(انتخابی ناجائز دولت کا استعمال) شخصیت پر ستی اور جعلی خبروں کی اشاعت اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال شامل ہیں۔
سیاست کے ایک ادنیٰ سے طالب علم کی حیثیت سے میرا یہ عقیدہ ہے کہ اگر آپ جمہوریت کو بطور ایک دین کا درجہ دیتے ہیں تو پھر آپ کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جمہوریت میں بیلٹ باکس کا تقدس وہی ہے جو اسلام میں ایک مسجد کا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیلٹ باکس وہ واحد پیمانہ ہے جس سے آپ عوامی رائے کی سمت کا اندازہ لگا سکتے ہیں لہٰذا بیلٹ باکس میں بے ایمانی کرنا مسجد کے اندر کسی کی جیب کاٹنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک بہت بڑی خیانت ہے ۔
بیلٹ یا الیکٹورل فراڈ کی بہت سی قسمیں ہیں جن کی وجہ سے جمہوریت کے راستے میں رکاوٹ آتی ہے اور عوام کی صحیح نمائندگی نہیں ہوپاتی مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پانچ سال بعد الیکشن کروادینے کو ہی جمہوریت سمجھ لیا گیا ہے۔ بانئ پاکستان نے جمہوریت کے اجزائے ترکیبی میں Homo Genousسوسائٹی کو اس کی پہلی شرط قرار دیا تھا جس کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ عوام کے طرز زندگی ذرائع آمدن اور دولت میں بہت زیادہ تفاوت نہ ہو۔ اس عدم مساوات کی وجہ سے طبقاتی کشمکش وجود میں آتی ہے۔ اس سے جمہوریت کو سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور الیکشن کا عمل مٹھی بھر Electablesکے ہاتھ میں آگیا ہے آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہمارے ہاں بہت سے چہرے پانچ پانچ چھ چھ الیکشنز جیت چکے ہیں، ان میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو ہر انتخاب میں پارٹی بدل لیتے ہیں۔ یہ جس پارٹی سے بھی کھڑے ہوں ان کی سیٹ پکی ہوتی ہے یہ Electablesدراصل ریس کے گھوڑے ہیں جو اپنی بازاری سیاست کے بل بوتے پر الیکشن جیتنے کا ہنر جانتے ہیں اس طرح کے لوگوں کے اسمبلی میں جانے سے عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں ہوتی نظریاتی عنصر کاگلا گھونٹ دیا جاتا ہے اور موروثی سیاست کی بنیاد پڑتی ہے اور پارٹی کی اصل قیادت خوشامد پسندی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کی چھوٹی سی مثال فیصل آباد سے قومی اسمبلی کے پانچ دفعہ منتخب ایم این اے میاں فاروق کی ہے جب بلدیاتی الیکشن میں یوسی سیٹ پر ہارنے کے بعد ان کے بیٹے کو ضلعی چیئرمین کے ٹکٹ سے انکار کیا گیا تو انہوں نے میاں نواز شریف کو استعفیٰ دیا جس کی عبارت کسی میوزیم میں رکھنے کے قابل ہے جیسے وہ ملکۂ برطانیہ کو مخاطب کررہے ہوں آخر میں لکھا تھا عمر بھر آپ کا وفادار میاں فاروق ۔ اس طرح کی جمہوریت عوامی نمائندگی کے لیے زہر قاتل ہے۔
اب ہم تحریک انصاف کا ذکر کرتے ہیں جس نے 2013ء تک Electalesکے ہاتھوں بلیک میل ہونے سے انکار کردیا تھا اس وقت عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم کسی Electableکو ٹکٹ نہیں دیں گے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف ہی Eiectableہے لیکن حالیہ انتخابات سے پہلے لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف نے بھی اپنے پرانے مؤقف سے رجوع کرلیا ہے اور چن چن کر Electableیعنی ریس کے گھوڑوں پر انحصار کیا جارہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو عمران خان کہتے تھے کہ یہ حلوہ کھانے والے ہیں۔ تحریک انصاف اگر حقیقی معنوں میں Anti Status quoجماعت والا امیج برقرار رکھنا چاہتی ہے تو پارٹی سے وفاداری کو امیدوار کی دولت کے انبار کے ساتھ نتھی نہ کریں۔ ریس کے گھوڑے نظریات پر نہیں مفادات پر دوڑتے ہیں۔ یہ جیتنے والی جماعت میں صرف ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے جاتے ہیں اور پھر ان فنڈز میں غبن کرتے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف اگر تاریخ کے دھارے کا رخ موڑنا چاہتی ہے تو اسے اقتدار میں آتے ہی ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی فنڈز کا استحقاق سرے سے ختم کرنا ہوگا یہ ضلعی حکومتوں کا کام ہے۔ اگر عمران خان ان فنڈز کو پارلیمنٹ کی صوابدید کے چنگل سے نکال دیں تو ملک میں بیک جنبش قلم 75فیصد بدعنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ہی Electoblesیعنی ریس کے گھوڑوں کی ہر انتخاب کے موقع پر پارٹی بدلنے کی روش مٹ جائے گی۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے انہیں خود اپنی پارٹی کی صفوں سے ریس کے گھوڑے باہر نکالنے ہوں گے۔
2013ء کے الیکشن کی اچھی بات یہ تھی پاکستان تحریک انصاف نے 85فیصد ٹکٹ ان لوگوں کو دیئے جو Non Electableتھے کیونکہ وہ پہلی دفعہ الیکشن لڑرہے تھے جن میں 35فیصد یوتھ تھے۔ اس دفعہ الیکشن کمیشن کے رولز کے مطابق پارٹیاں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ 5فیصد جنرل ٹکٹ خاتون امیدواروں کو دیں۔
Electablesکا کوالٹی آف پارلیمنٹ سے گہراتعلق ہے۔ 90کی دہائی میں پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے بل پاس کردیا تھا کہ میاں نواز شریف کو خلیفۃ المسلمین کا خطاب دیا جائے لیکن خوش قسمتی سے اس وقت ایوان بالا میں نمائندگی Electables کی بناء پر نہ تھی جس کی وجہ سے یہ قانون نہ بن سکا۔ لیکن وقت کے ساتھ پارلیمنٹ کی کوالٹی بدترہوتی گئی اور 2017ء کی قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں نے قانون پاس کردیا کہ ایک نااہل شخص بھی پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے۔ اس سے آپ ہماری پارلیمنٹ کے معیار کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ اسی طرح ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی اور پھر اس کی منسوخی دونوں دفعہ ارکان پارلیمنٹ نے بلاچون وچرا پہلے ترمیم پاس کی پھر منسوخ کی۔ نہ پہلے کوئی اعتراض ہوا نہ ہی کوئی آواز اٹھی۔ کیا عمران خان اس طرح کی جمہوریت لانا چاہتے ہیں۔ تو وہ تو پہلے بھی ہمارے پاس وافر مقدار میں موجود ہے۔
اب ہم ریکارڈ کے لیے پی ٹی آئی کی فیصل آباد کی گزشتہ حکمت عملی کو بطور ایک Case Studyپیش کرتے ہیں۔ یہ وہ ضلع ہے جس پر لاہور کے بعد عمران خان نے سب سے زیادہ محنت کی اور سب سے زیادہ جلسے کیے۔ گزشتہ انتخابات اور اس کے بعد پنجاب کے بلدیاتی انتخابات دونوں موقعوں پر ن لیگ کی مقامی قیادت واضح طورپر اکبر بادشاہ کے مشیران ملا دوپیادہ اور بیربل یعنی رانا ثناء اللہ اور چوہدری شیرعلی کے درمیان بٹی ہوئی تھی اور صاف نظر آرہا تھا کہ اس کا فائدہ تحریک انصاف کو پہنچے گا۔ لیکن ن لیگ کے قلعہ میں اتنی بڑی دراڑ کے باوجود رانا ثناء اللہ اور عابد شیر علی کی پارٹی نے وہاں سے تقریباً کلین سویپ اس لیے کیا کہ تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم اور انفراسٹرکچر میں انتظامی خرابیاں تھیں۔ اس دفعہ بھی فیصل آباد کا تحریک انصاف کا مطلع ابرآلود دکھائی دیتا ہے اور اگر اصلاح احوال کی صورت نہ نکالی گئی تو رانا ثناء اللہ اور عابد شیرعلی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہونے کے باوجود دونوں جیت جائیں گے۔ صرف ایک مثال کے طورپر ہم یہاں تحریک انصاف کے حلقہ پی پی 106کے پارٹی کے Hopefulکا ذکر کرتے ہیں یہاں سے معروف سماجی شخصیت میاں عبدالرؤف ایڈووکیٹ امیدوار ہیں جوفیصل آباد ایسوسی ایشن کے بلامقابلہ جنرل سیکرٹری رہ چکے ہیں انہوں نے تحریک انصاف لائرز ونگ کی طرف سے دودفعہ چیئرمین بار کا انتخاب لڑا ہے۔ انہوں نے اپنے علاقے ڈجکوٹ میں ایک کمیونٹی سکول کی بنیاد رکھی
ہے جس میں ان کا خواب ہے کہ وہاں دیہات کے بچوں میں اولیول اور اے لیول کی تعلیم کا آغاز کیا جائے۔ وہ 1996ء سے پارٹی کے ساتھ ہیں اور جماعتی سرگرمیوں کے لیے کبھی پارٹی سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ پارٹی ٹکٹ کی باری آئی تو انہیں ایک ہیوی ویٹ Electableکے بیٹے کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا وہ Electableبہت سی پارٹیاں بدلنے کے بعد اس وقت تحریک انصاف کے ایم این اے کے امیدوار ہیں جبکہ ان کا بیٹا ایم پی اے کے لیے میاں رؤف پہ اس گراؤنڈ پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہے کہ ان کے پاس پیسہ بہت وافر ہے۔ اس کے علاوہ بھی امیدواروں کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے پچھلے ہفتے پارٹی جوائن کی ہے۔ یہ حلقہ علامتی طورپر پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک Test Caseہے کہ یہاں سے ٹکٹ کس کو دیا جاتا ہے۔
تحریک انصاف اگر اپنے آپ کو ایک روایت شکن اور انقلابی پارٹی کے طورپر ثابت کرنا چاہتی ہے تو ٹکٹ کے اجراء میں سکروٹنی کا ایک شفاف نظام متعارف کروائیں جس میں امیدوار کی عمر، تعلیم، پارٹی وابستگی ، سینیارٹی، پرفارمنس اور اس طرح کے دیگر پہلو کی تفصیلات ہوں اور ان پر باقاعدہ نمبر دیئے جائیں اور مجموعی طورپر زیادہ نمبر لینے والا ٹکٹ کا حقدار قرار پائے اور ٹکٹ کے اجراء کے بعد تمام ملک سے ٹکٹ اپلائی کرنے والوں کی مارکس شیٹ کو پارٹی ویب سائٹ پر شائع کردیا جائے تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔ پارٹی کو جمہوریت کا پرانا اصول تسلیم کرنا پڑے گا۔ بقول علامہ اقبالؒ
اس راز کو اک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہرچند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

مزیدخبریں