نواز شریف سنسان سڑک پر کیوں گئے ؟
16 May 2018 2018-05-16

بھانت بھانت کی بولیاں آپ کی سماعتوں کو ناگوار گزرتی ہیں ، دماغ سائیں سائیں کرنے لگتا ہے ، خیال آتا ہے کہ کیا یہ سب عقل سے بے بہرہ ہیں ، کیا ان سب کو بنیادی باتو ں کا نہیں معلوم ، کیا یہ سب وطن عزیز کے حقیقی مسئلے سے160آگاہ نہیں یا پھر مصلحت کا شکار ہیں ، اپنے پیٹ کے غلام ہیں؟ اپنے نظریات کے اسیر ہیں ، اپنی انا کے قیدی ہیں یا شاید ان کیلئے واپسی کا دروازہ بند ہے یا ان کا گمان ہے کہ واپس گئے تو عزت سادات بھی جائے گی ۔

پرانے انداز کی روایتی فلمیں متروک ہو چکی ہیں۔ وہ وقت گئے جب ولن ہیرو کو اپنے اڈے پر لے جا کرسبق سکھانے کی کوشش کرتا تھا اور اپنی سفاکیت دکھانے کیلئے اور ہیرو کو ڈرانے کیلئے اس کے سامنے اپنے کسی ساتھی کو گولی مار کر اسی طرح کا ڈائیلاگ بولتا تھا کہ ’’غداری مجھے بالکل پسند نہیں‘‘ ۔ Inception کی دلدادہ آج کی نوجوان نسل انٹاگونسٹ اور پروٹاگونسٹ ٹرائی اینگل والی ان فلموں کو اب مزاح کا نشانہ بناتی ہیں۔ جناب! جب ولن اپنے غدار ساتھی کو مار کر ہیرو کو سبق سکھانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے تو وہ ایک ڈائیلاگ مار کر ہیرو کا بھی خاتمہ کر دے۔ کیوں وہ اسے زندہ رکھتا ہے کہ وہ اس کے چنگل سے بھاگے اور پھر اس کے انجام پر ہی فلم کا اختتام کرے۔

وقت کا ستم یہ ہوتا ہے کہ آپ کے چہرے کے خدوخال تاریخ کے دھندلکوں میں گم ہو جاتے ہیں ، آپ کا لباس ، آپ کا اندازہ منوں مٹی میں دفن ہو جانا ہے ، آپ کے اعزازت ، آپ کے تمغے ، آپ کی شیلڈیں ، آپ کی تلواریں سب زنگ آلود ہو جاتی ہیں باقی کیا رہ جاتا ہے۔ صرف آپ کے جملے۔ وہی آوازیں جوآزاد کی جاتی ہیں ، مصلحت کے تحت دل میں نہیں رکھی جاتیں ، ڈر کے تحت اپنے 32 دانتوں کے اندر روک نہیں لی جاتیں۔ وہی جملے جو آپ نے کسی کے ایما ، کسی کے اشارے پر بولے ہوتے ہیں ، کسی سے عہدے کا لالچ لے کر کہے ہوتے ہیں ، کسی سے پیسے کی طمع میں کہے ہوتے ہیں مگر سند رہے کہ آپ کے چہرے ، آپ کے انداز ، آپ کی کالی عینکیں ، آپ کی بوٹوکس والی شکلیں ، آپ کے جدید انداز سب مٹی کے اندر مل جائیں گے اور تاریخ میں صرف اور صرف آپ کے جملے گونجتے رہیں گے۔

کیا کسی کا یہ خیال ہے کہ آج اگر 100 مختلف آوازیں ملک کے بام و در میں پھیلا دی جائیں تو سچ ان کے سامنے ہیچ پڑ جائے گا ، ہاں سچ ان میں چھپ ضرور جائے گا لیکن تاریخ کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ غیر ضروری آوازوں کو ختم کر کے صرف سچ کی آواز سامنے لے آتی ہے۔ جس طرح آج ہمارے جان سے پیارے پاکستان میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔ غدار غدار کے نعرے لگ رہے ہیں ، پھانسی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں ، گولی مارنے کی صدائیں آرہی ہیں ، سنگسار کرنے اور کوڑے مارنے کے احکامات جاری ہو رہے ہیں مگر ان سب صداؤں کے کہیں درمیان وہ سچ بھی چھپا ہے جس کو آنے والا وقت ڈھونڈ نکالے گا۔ کوہالہ پل پر ایک جملہ ایئر مارشل اصغر خان نے بولا تھا ’’میں اسی کوہالے پل پر بھٹو کوپھانسی پر لٹکاؤں گا‘‘۔ کیا کسی کا خیال ہے کہ اصغر خان کو وحی آئی تھی ، اس کو خواب میں کوئی نورانی بزرگ ملے تھے یا یہ کسی کی خواہش تھی ، خیال تھا ، سوچ کوئی رہا اور بول کوئی اور رہا تھا ، پھر وہی اصغر خان( جسے آج کا ’’اصغر خان‘‘ چند دن پہلے بہت بڑا لیڈر قرار دے چکا ہے) کسی اور کی زبان بولتا رہا ، کسی اور کے اشاروں پر چلتا رہا ، جلسے کرتا رہا ، مجمعے اکٹھے کرتا رہا ، نعرے لگاتا رہا ، شیروانیاں سلواتا رہا اور پھر جب اس کے ذریعے بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کا سامان ہو گیا تو اسے اس کی شیروانی سمیت ملک بدر کر دیا گیا ، وہ سیاست سے ایسے غائب ہوا جیسے سینگوں والا گدھا ، ایسا غائب ہوا کہ سیاست میں کیا ویسے بھی کسی کو ملنے کے قابل نہ رہا ، اسی اسلام آباد میں رہتا رہا مگر اس کے ساتھ کے گھر والے کے اس وجود سے انجان رہے ، وہی جو ملک میں نیا نظام لانا چاہتا تھا اسی وفاقی دارالحکومت کے پارکوں میں واک کرتا رہا مگر لاکھوں کے جلسے کرنے والے کو کوئی روک کر سلام نہیں کرتا تھا اور پھر وہ اسی اسلام آباد میں دنیا سے رخصت ہو گیا، ٹی وی پر ایک خبر چلی، چہرہ اس کا پہلے ہی گم تھا، وجود بھی گم ہو گیا اور زندہ کیا رہا۔ اس کا جملہ ’’میں اسی کوہالہ پل پر بھٹو کو پھانسی دوں گا‘‘۔

کیونکہ مملکت خدادا میں فلموں کا دور چل رہا ہے توایک فلم کا شاندار ڈائیلاگ آپ کی نذر کر کے اجازت طلب کرتے ہیں ۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک ماں اپنی بیٹی کو کالج سے لے کر گھر جا رہی تھی ، کالج کے اوباش لڑکے نشے کی حالت میں ان کے پیچھے تھے ، ماں اس بات سے آشنا نہیں تھی۔مرکزی روڈ پر ٹریفک جام دیکھ کراس نے گوگل میپ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک ذیلی سڑک کے شارٹ کٹ کو ترجیح دی ، سڑک سنسان تھی۔ اوباش لڑکوں کو موقع مل گیا انہوں نے گاڑی روکی ، ماں کو گاڑی سے نکال کر اس پر تشدد کیاادھ موا کر دیا۔ پھر انہوں نے اس کی بیٹی سے اجتماعی زیادتی کی ، نازک حالت میں اسے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ جب ماں کو ہسپتال میں ہوش آیا تو اس کا عقلمند خاوند سامنے کھڑا تھا۔اس نے اپنی بیوی سے سوال کیا ’’تمہیں کہا کس نے تھا کہ مرکزی سڑک چھوڑ کر اس سنساں سڑک پر جاؤ ، نہ تم اس سنساں سڑک پر جاتی نہ تمہاری بیٹی کے ساتھ یہ ظلم ہوتا‘‘۔ہمارے یہاں بھی اس سے ملتی جلتی کہانی چل رہی ہے ، یہ نہیں پوچھا جا رہا کہ ممبئی حملوں میں پاکستان سے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے جانے میں کتنی سچائی ہے بلکہ سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ نواز شریف تم نے یہ سوال اٹھایا کیوں ؟۔ تم مرکزی سڑک پر رہتے ، اگر تم سنساں سڑک پر جاتے ہی نہ تو یہ حادثہ ہی نہ ہوتا۔


ای پیپر