آزادی صحافت اور پاکستان (2)
16 May 2018 2018-05-16

اس کے علاوہ بڑے اخباروں اور چینلوں میں صحافی بننے کا معیار بھی صحافتی اصولوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ صحافی بننے کے لیے صرف آپ کے حکومت اور اپوزیشن میں تعلقات ہونا ضروری ہیں تا کہ اگر چینل یا اخبار پر کوئی برا وقت آ جائے تو آپ کی ایک فون کال ادارے کو بحران سے نکال سکے۔ آپ کے گھورنے پر آئی جی سر کے بل چل کر آپ کے قدموں میں آکر بیٹھ جائے۔آپ کے حکم دینے پر وزیراعلیٰ معافی کا طلب گار ہو جائے۔ آپ کی ایک دھمکی وزیراعظم کے نیچے سے اس کی کرسی کھینچ لے۔آپ کا ایک پراگرام ملک میں حکومتیں بنانے اور توڑنے کا باعث بن جائے۔آپ الیکشن سے ایک دن پہلے مضبوط امیدوار کے خلاف جھوٹا یا سچا پروگرام کر کے اس کے الیکشن پر اثر انداز ہو سکیں اور آپ کے پروگرام کی وجہ

سے امیدوار جیتا ہوا الیکشن ہار جائے۔آپ چند لاکھ روپوؤں کی خاطر اپنے ضمیر کا سودا کر کے جھو ٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتائیں۔آپ سارا دن اور ساری رات فائلوں کو پہیے لگانے والی سرکار کے خلاف پروگرام کریں اور جب وہ آپ کو اور میڈیا مالکان کو پلاٹ ، گھر اور اشتہار مفت میں دے دے تو آپ اس کی سخاوت، رحم دلی اور عاجزی کے قصیدے سنانا شروع کر دیں۔ آپ میڈیا مالکان کی محبت میں اپنے کالم تک ان کے نام سے چھاپنا شروع کر دیں۔ آپ کی بدولت میڈیا مالکان پورے ملک میں وی وی آئی پی پروٹوکول لے سکیں۔ اس کے علاوہ جو حضرات حکومتی اثرو رسوخ استعمال کر کے چینل اور اخبار کے لیے اشتہارات لا سکتے ہوں انہیں بھی صحافی ہونے کا سرٹیفیکٹ دے دیا جاتا ہے اور پلک جھپکتے ہی وہ سڑک چھاپ سے ایک معتبر صحافی بن جاتے ہیں۔ بڑے صحافی کو نوکری دینے سے پہلے یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ جناب بتائیں آپ ہمیں کیا مالی فائدہ د ے سکتے ہیں؟آپ کی تنخواہ آپ کے دیے گئے کاروبار پر منحصر ہے۔اس کے علاوہ اگر حکومت آپ کے چینل یا اخبار کو اشتہار دے رہی ہے تو سب ٹھیک ہے اور جس دن اشتہار بند ہو جائیں اس دن آپ میڈیا مالکان کے حکم پر حکومت کے خلاف پروگرام شروع کر دیں اور تب تک کرتے رہیں جب تک سود سمیت نقصان کا ازالہ نہ ہو جائے۔جو بچے ملک پاکستان میں صحافی بننے کے بعد اچھی نوکری حا صل کرنا چاہتے ہیں وہ براہ مہربانی اوپر بیان کیے گئے حقائق کو مد نظر ضرور رکھیں۔

آئیے اب ایک نظر کامیاب صحافی ہونے کی نشانیوں پر بھی ڈال لیتے ہیں۔کامیاب صحافی کی پہلی نشانی یہ ہے کہ آپ چند سالوں میں سائیکل سے مرسیڈیز پر آ جائیں۔آپ کرائے کے گھر سے پانچ سو کروڑ کی جائیداد کے مالک بن جائیں۔آپ سا را دن اور ساری رات حکومتی ایوانوں میں سرکاری عہدے لینے کے لیے چکر لگائیں ۔ اگر ایک کروڑ روپے ماہانہ کی نوکری مل جائے تو ٹھیک اور اگر آپ کی دال نہ گل سکے تو آپ حکومت کے خلاف تب تک پروگرام کرتے رہیں اور کالم لکھتے رہیں جب تک آپ کی انا کو تسلی نہ مل جائے یا آپ کا منہ پیسوں سے بھر نہ دیا جائے۔اس کے علاوہ جب تک حکومت آپ کوسرکاری عہدہ دئیے رکھے تب تک آپ کے قلم اور زبان سے پورے ملک میں دودھ کی نہریں بہتی رہیں اور جب حکومت آپ کو باہر نکال دے تو آپ حکومتی کرپشن کو اجاگر کرنا جہاد قرار دے دیں۔آپ حکومت کے خلاف بے دھڑک دن میں تین تین پروگرام کریں اورکسی کو آپ سے یہ پوچھنے کی ہمت نہ ہو کہ جناب ایک دن پہلے تک آپ بھی اسی حکومت کا حصہ تھے تب آپ کو یہ تمام خامیاں نظر کیوں نہیں آئیں؟ تب آپ کانوں میں روئی ٹھونس کر کیوں بیٹھے رہے؟ تب آپ کا ضمیر کیوں نہیں جاگا؟ تب آپ کو جہاد کا خیال کیوں نہیں آیا؟ تب آپ کو عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا حساب یاد کیوں نہیں آیا؟ تب آپ کو پانامہ پاجامہ کیوں لگتا تھا؟ تب آپ کو حضرت عمر فاروقؓ جیسے حکمرانوں کی تلاش کیوں نہیں تھی؟ کوئی بھی شخص آپ سے یہ سوالات نہ پوچھ سکے بلکہ چینل اپنے پرائم ٹائم کے پروگرام میں دوبارہ آپ کو نوکری بھی دے دے اور آپ کی تنخواہ بھی سب سے زیادہ مقرر کر دے۔کامیاب صحافی ہونے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آپ پر کوئی بھی کرپشن کا الزام نہ لگا سکے اور اگر کبھی آپ پر کرپشن کا الزام لگ جائے تو فوراً آزادئ صحافت پر قدغن کا نعرہ لگا دیں۔اس نعرے کے ساتھ ہی آپ کے تمام گناہ دھل جائیں اور آپ پرالزام لگانے والا خود کو پھانسی دینے کی خواہش کا اظہار کرنے لگے ۔آپ چاہے ان جملوں کو سنجیدہ نہ سمجھیں لیکن یہ جملے حقیقت ہیں۔

ان حالات کے پیش نظر اگر یہ کہا جائے کہ ملک پاکستان میں آزادئ صحافت کو صحیح معنوں میں سمجھا بھی جاتا اور اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے تو یہ سرا سر غلط ہو گا۔ آزادئ صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ان چند بڑے صحافیوں سے،جو صحافت کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس مقام پر پہنچے ہیں ، گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ملک پاکستان میں صحافی یونین کی سطح پر اور حکومتی سطح پر آزادئ صحافت کی اصل روح کے بارے میں آگاہی مہم کا آغاز ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس سے نہ صرف جعلی صحافی ایکسپوز ہوں گے بلکہ اصل صحافیوں کو بھی پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا اور ملک پاکستان میں بھی Guillermo Cano جیسے عظیم صحافی پیدا ہو سکیں گے جو حق ، سچ اور ملک سے محبت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دیں گے۔


ای پیپر