سب کا باپ xسب کا مُرشد
16 مئی 2018 2018-05-16

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ، اور آپ کو بھی یاد ہوگا، ”مُرشد“ واضح رہے کہ شیخ رشید ہراُس شخص کو مُرشد کہتے ہیں، جن سے اُن کو کسی قسم کا کام ہوتا ہے، مثلاً وہ ہراس پارٹی کے سربراہ کو مُرشد کہتے ہیں جس میں اُن کا جانے کا ارادہ ہوتا ہے۔ کالج کی یونین سے، اپنا سیاسی سفر شروع کرنے والے ”شیخ“نے ”ن“ میں میاں نواز شریف کو اپنا مرشد مان بھی لیا، اور بنا بھی لیا۔ مُرشد پیر کو کہتے ہیں، یعنی راہنما ،سیدھی راہ دکھانے والا، مگر جب کسی پر طنز کرنا ہو، تو پھر چالاک، عیار، شریر، فریبی، دغاباز، گُرو گھنٹال کو بھی مرشد کہا جاتا ہے۔
مجھے حضرت بایزیدبسطامیؒ کا یہ فرمان یاد آیا، کہ سب سے زیادہ طاقت ور وہ ہے، جس نے اپنے نفس کو (پابند ) کرلیا۔ یہاں نفس سے مراد صرف نفس امارہ ہی نہیں، شیخ صاحب تو شادی نہ کرنے اور رشتہ ازدواج سے منسلک نہ ہونے کو ”نفس“ کو پابند کرلینا کہتے ہیں ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ اُنہوں نے ”پابندی“ کس چیز اور کس بات پہ لگائی ہے، شیخ رشید تو پاکستان کے واحد سیاستدان ہیں کہ ”حساس اداروں“ کے نصاب تعلیم وتربیت میں وہ شامل رہتے ہیں، اور ان کی سیاست پہ لیکچر دیئے جاتے ہیں۔
جنوبی پنجاب سے سردار نصراللہ دریشک ایسے سیاستدان ہیں، کہ وہ نہ صرف ہمیشہ فعال رہے، بلکہ وہ اپنی پارٹی پہ پڑا ہوا جمال بھی، بڑی خوبصورتی اور ہنرمندی سے دوسروں پہ ڈالنے میں سیاست کاری کو ”سفارت کاری“ میں بدلنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے، بلکہ اُن کے روزوشب ، منصوبہ سازی میں گزرتے رہتے ہیں، میں صرف جنوبی پنجاب کی منصوبہ بندی کی بات نہیں کررہا۔ اگر وہ حکومت میں نہیں بھی ہوتے، تو پھر بھی حکومت وقت کے فوائد وثمرات کو اس طرح سے جھولی میں ڈال دیتے ہیں کہ پکے ہوئے پھل کی طرح وہ خودبخود ”دامن متفقین “ میں پڑنے شروع ہو جاتے ہیں، ان کی سب سے بڑی خوبی دوستوں کے دوست ہونا، اُن سے ہمیشہ مخلص ہونا ہے، وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بیس سال تک مختلف وزارتوں پہ فائز رہے۔
اسی طرح ایک دوسرے صاحب، چودھری نثار علی، جن کے حق میں، میں غالباً دوسرا کالم لکھ رہا ہوں، دوسرے لکھاریوں، اور قلم کاروں کے برعکس، دراصل میں ان کی ماہانہ ”پریس کانفرنس“ سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن اچانک میں نے اس ”تسلسل تشنگان تسلیم را“ کے معتقد محترم کے اس عمل خیر پہ غور وخوض شروع کیا، تو دریچہ اطفال، میں یہ گتھی سلجھتی ہوئی محسوس ہوئی، کہ ان محرکات کے درپردہ ، یعنی پس پردہ سیاست کی بجائے سچائی اور راست گوئی کارفرما ہے، حالانکہ یہ وہ سکہ ہے، کہ جو آج کل رائج نہیں ہے۔ عزیزی سہیل احمد کے پیرومرشد، تو سید یوسف رضا گیلانی ہیں جو کسی کی ”چھاپ تلک“ بھی چھین کر لے جاتے ہیں۔ مگر میرے مرشد تو السید الشیخ رشید احمد الباکستانی ہیں۔ جو بوقت ضرورت شیخ سے ”شیخ“ بھی بن جاتے ہیں۔ ایسا ” بے نفس“ انسان، کوئی دوسرا، اور سیاستدان ہے، تو بتائیے۔ مگر مجھے یہ چھوٹا سا گلہ ہے کہ جو شخص اپنی ماں کی معصوم، اُمیدوں اُمنگوں اور سہاگ کی آس پہ پورا نہیں اُترا، وہ قوم کی توقعات کو کیسے پورا کرسکتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو وزیر اطلاعات ونشریات رہا ہو اور وہ بھی ”روشن خیال“ کے دور میں تو وہ ”ماہر ِعلمِ ریمیا“ بن گیا تھا، ”ریمیا“ اُس علم کو کہتے ہیں کہ اس علم کا جاننے والا، جہاں مرضی چاہے، جاسکتا ہے، میں ریما، کی بات نہیں کررہا، علم ریمیا کی بات کررہا ہوں، یہی وجہ ہے کہ ناہیداختر کہیں بھی نہیں جاسکی، اور وہیں کی وہیں رہی، شیریں کوشک کا فائدہ دے دیں چلیں، چھوڑیں سچ تو یہی ہے کہ مٹی پاﺅ، سب سے اچھا فقرہ ہے، شیخ رشید کی سب سے بڑی خوبی جو سمجھی جاتی ہے، وہ ہے، اُن کا عوامی ہونا، موٹرسائیکلوں پہ بیٹھ کر گلیوں میں گم ہوجانا، کھوکھے اور ریڑھیوں سے ناشتہ کرلینا، سگریٹ خرید لینا، سبزیوں کا بھاﺅ تاﺅ کرنا، حالانکہ وہ سبزی وغیرہ خود تو نہیں خریدتے ہوں گے، مگر یہ کامیاب سیاست کرنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے، تصویر کا یہ وہ رخ ہے کہ جو عوامی بن کر عوام کو دکھانا بہت ضروری ہوتا ہے، ورنہ وہ ”سگار“ پینے کے عادی ہیں، اور وہ بھی بڑے سٹائل اور کنواری اداﺅں کے ساتھ۔ شروع میں ، میں نے ذکر کیا تھا، نصراللہ دریشک صاحب کا، مرشد نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، اور انہوں نے ہر حکومت میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کی حصہ وصول کرنے کی حدتک کوشش کی، اب وہ اس میں کتنا کامیاب رہے اس کا جواب انتخابات میں ملنے کی توقع ہے، اگر وہ وقت پر ہوگئے اور ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی ”کثافتوں“ سے بھی پاک صاف ہوئے تو۔
شیخ رشید دور مشرفی، میں اندازِ مغربی کے ساتھ بیس کروڑ عوام پہ بلاشرکت ایرے غیرے، میں کچھ عرصے کے لیے صرف ہاتھ صاف کرنے کے لیے وزیرریلوے، ہاتھ صاف کرنے سے میری مراد خدانخواستہ کوئی اور نہیں، محض تجربہ حاصل کرنے کے لیے ہے، ان کے دور میں ریلوے کا ایک حادثہ ہوگیا، تو ان سے ہمارے ایک صحافی دوست نے سوال کردیا کہ مہذب ملکوں میں، مثلاً ناروے، سویڈن وغیرہ جس کا حوالہ ہمارے کالم نگار بھائی اکثر بلکہ گاہے بگاہے دیتے رہتے ہیں، تاکہ ان کی عقل ودانش اور ذہانت پہ کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے ....وہاں کوئی اتنا بڑا حادثہ ہو جائے، تو وہاں کا وزیر فوراً استعفیٰ دے دیتا ہے، یہ سن کر وہ فوراً طیش میں آگئے مگر ان کے بال اس لیے کھڑے نہیں ہوئے کہ وہ کھڑے ہو ہی نہیں سکتے، حکومت خود جے آئی ٹی قائم کردے، اور جواب دیا کہ میں وزیر ہوں، ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا، وہ استعفیٰ دے۔ہمیں تو اتنا پتہ ہے، کہ بھارت کے سابق وزیر ریلوے ”لالوپرشاد“ اور ہمارے سابق وزیر ریلوے شیخ رشید ....دونوں کو بھارتی حکومتیں ”قصابی نگاہوں“ سے دیکھتی ہیں۔
مگر ہمیں پھر بھی ڈرلگتا ہے کہ جو حشر نشر انہوں نے حامد میر سمیت جیو کا کیا تھا خدا کا شکر ہے ”نیو“ اس سے بچ نکلا، بارہ سال ہمارا مرشد اپنے مرشد مشرف کا ”تان سین“ بن کر اور رات دن کی ریاضت کرکے، مسلسل ”گن“ گاتا رہا۔ اور ”چک شہزاد“ کا اصل شہزادہ، اپنی اصل اور اسلاف کی روایات سے بغاوت پہ آمادہ، بادشاہ ، کے فارم ہاﺅس سے بھی بڑے فارم ہاﺅس کا مالک ہے، ایک دن شیخ رشید کے ساتھ سہیل وڑائچ کے پروگرام میں آپ ”میرے مرشد“ کی غربت خود دیکھ لیں، جس میں دنیا کے تعیشات کے تمام ”سازوسامان“ اور ہرنوں کی کلکاریاں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ مگر ان تمام حقائق کے باوجود ، ایک انٹرویو جس میں مرشد اور اپنی دُھن کا پکا، اپنی بات کا سچا، صراط مستقیم کا مسافر، نیک اطوار کا مالک ، ناقابل شکست ، پیرپرست میری جان، وطن کی آن، عمران خان نے شیخ رشید کو کہا تھا کہ میں تمہارے جیسے کو اپناچپراسی بھی نہیں رکھوں گا .... مگر آخر کارمرشد نے اپنی IMPROVE QUALIFICATION کرلی، اور عمران نے اس کو اپنا (Boss)بنالیا، اور خوشامد ، چاپلوسی اور .... ناقابل اشاعت وہ حربہ جو مجھ پہ بھی لاگو ہوتا ہے اور آپ پہ بھی .... مگر شرط یہ ہے کہ شیخ ضمیر آپ کے ساتھ نہ ہوا ۔


ای پیپر